امریکہ کی صدارتی مہموں کے نغمے: عوام میں جوش و خروش کا باعث [ویڈیو]

 "صدارتی مہم کے نغمے" کے ریکارڈ کا سرورق (Alfred Whital Stern Collection of Lincolniana/LOC)
1864ء کے لگ بھگ شکاگو، ایلانائے میں ایچ ایم ہگنز کا جاری کردہ صدارتی مہم کا نغمہ۔ (Alfred Whital Stern Collection of Lincolniana/LOC)

پوری امریکی تاریخ میں موسیقی اور سیاست کا ایک دوسرے سے چولی دامن کا ساتھ چلا آ رہا ہے۔ 200 برس سے زائد عرصے سے امیدواروں کی حمایت میں (یا اُن کے حریفوں پر حملے کرنے والے ) نغمے تیار کیے جا تے رہے ہیں۔

یہ نغمے عموماً امریکی انتخابی مہموں کی گھائل کرنے والی اُس نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں جسے سابق امریکی سفارت کار اور صدر کارٹر کے وائٹ ہاؤس کے اندورن ملک امور کے سابق ڈائریکٹر، سٹیورٹ آئزنسٹیٹ نے ایک مرتبہ  "سخت اور آپا دھاپی والے ایسے  معاملات” کے طور پر بیان کیا تھا ” … [جن میں] لڑائی کے اصول نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔”

مثال کے طور پر 1800ء کی صدارتی دوڑ میں، جس میں امریکہ کے دوسرے صدر جان ایڈمز کا مقابلہ اُن کے بعد بننے والے صدر، تھامس جیفرسن سے تھا، ہر ایک انتخابی مہم میں ایک ایسا نغمہ ہوا کرتا تھا جس میں مخالف امیدوار کا مزاق اڑایا جاتا تھا۔

1824ء میں ایڈمز کے بیٹے جان کوئنسی ایڈمز بمقابلہ اینڈریو جیکسن کی صدارتی مہم سے مرکزی خیال کے پہلے نیم سرکاری نغمے کا آغاز ہوا۔ اس نغمے کا نام "دا ہنٹرز آف کنٹکی” یعنی "کنٹکی کے شکاری” تھا۔ اس نغمے میں جیکسن کے کامیاب جنگی حملوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اس میں اُن کے ایک عوامی آدمی کے تصور کو مزید تقویت ملی جو اُن کے صدارتی انتظامیہ کے مراعات یافتہ حریف کے تصور کے بالکل الٹ تھا۔ (مگر ایڈمز پھر بھی جیت گئے۔)

1840ء میں صدر مارٹن وین بیورن اور جنگی ہیرو، ولیم ہنری ہیریسن نے ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑا۔ اسے پہلی جدید صدارتی مہم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے یعنی پہلا ایسا مقابلہ جس میں امیدواروں نے کھلے بندوں خود اپنی حمایت کی۔ اس مہم کے نغموں میں بھی خوشکن آزادی حاصل چھائی رہی۔

ہیریسن کی حمایت میں لکھے گئے ایک نغمے میں وین بیورن کو "جہنم کے سب سے نچلے درجے میں” بھیجا گیا۔ اس کے جواب میں وین بیورن کے حمائتیوں نے لوری کی دھن پر "منے کو لوریاں دو،” کے عنوان سے نئے نغمے تخلیق کیے۔ اِن میں ہیریسن کا حوالہ اُس کی عرفیت یعنی ٹِپ کے نام سے دیا گیا۔ (منے جب تم جاگو گے تو تمہیں لوریاں دیں گے/آپ کو پتہ چلے گا کہ ٹِپ نقلی ہے/جنگ سے، جنگی نعروں سے اور جنگی ڈھولوں سے دور/وہ اپنے کیبن میں بیٹھا خراب "رم” شراب پی رہا ہے۔”

انیسویں صدی کے صدارتی مہموں کے بہت سے نغموں میں صدارتی امیدواروں کی آزادی کے چمپئینوں کی حیثیت سے تعریف کی گئی۔ اِن میں سب سے مشہور "لنکن اینڈ لبرٹی” یعنی "لنکن اور آزادی” ہے۔ 1860ء میں یہ نغمہ صدارتی مہم کا مشہور نغمہ بنا۔ اسے جیسی ہچنسن جونیئر نے لکھا اور اس کی دھن ایک پرانے لوگ گیت سے مستعار لی گئی اور اسے آج بھی گایا جاتا ہے۔

 ماضی کی طرح آج بھی نغمے ووٹروں کو متاثر کرتے ہیں

سمتھ سونین انسٹی ٹیوشن کے امریکی تاریخ کے عجائب گھر میں امریکی موسیقی کے منتظم، جان ٹراؤٹمین نے کہا کہ صدارتی مہموں کے نغمے "جلسوں میں حامیوں کو اکٹھا کرنے کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ عوام تک مہم کا بنیادی پیغام بھی پہنچا سکتے ہیں۔ یہ جذباتی ردعملوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں جس میں تبدیلی کی امنگوں سے لے کر (اکثر ایک تصوراتی) ماضی کی طرف لوٹ جانے کی تمنائیں بھری ہوتی ہیں۔”

1932ء میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی کامیاب صدارتی کوشش میں جس نغمے کو صدارتی مہم کے نغمے کے طور پر اپنایا گیا اُس کے بول تھے: "خوشی کے دن پھر لوٹ آئے۔” 1929ء میں اس نغمے کی موسیقی ملٹن ایگر نے ترتیب دی اور اسے جیک یلن نے لکھا۔ جب امریکی عوام بڑی کساد بازاری سے گزر رہے تھے تو روزویلٹ نے اس حوصلہ افزا تفریحی نغمے کی مدد سے لوگوں میں ایک بہتر مستقبل کے لیے امید پیدا کی۔

ہیری ایس ٹرومین نے اپنی 1948ء کی صدارتی مہم کے لیے براڈوے کے نغمے "آئی ایم جسٹ وائلڈ اباؤٹ ہیری” یعنی "میں تو بس ہیری کا دیوانہ (ی) ہوں” کو منتخب کیا۔ 1952ء میں نغمہ نگار، ارونگ برلن نے ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کی صدارتی مہم کے لیے ("آئی لائیک آئیک”) یعنی "مجھے آئیک پسند ہے”، لکھا۔ 1960ء میں فرینک سناٹرا نے اپنے مشہور ترین نغموں میں سے ایک، ("ہائی ہوپس”) یعنی "بڑی امیدوں” کو جان ایف کینیڈی کی صدارتی مہم کے نغمے میں ڈھالا۔

ماضی قریب کی صدارتی مہموں میں امیدواروں نے بعض اوقات نغموں کے حقوق کی کسی ایک تنظیم سے عوامی سطح پر تمام  نغمے بجانے کی اجازت حاصل کی۔ اس طرح وہ اپنے انتخابی جلسوں میں پہلے سے ریکارڈ شدہ دل لبھانے والے نغمے بجا سکتے تھے۔

ٹراؤٹمین نے بتایا کہ اگرچہ نغمے حامیوں کو اکٹھا تو کر سکتے ہیں مگر وہ اُس وقت تنازعات کا سبب بھی بن سکتے ہیں جب انہیں کوئی ایسا امیدوار بجاتا ہے جس سے نغمے سے جڑے فن کاروں میں سے کوئی فنکار پسند نہیں کرتا۔

رونلڈ ریگن کی 1984ء کی صدارتی مہم کے لیے منتخب کیا جانے والا بروس سپرنگسٹین کا نغمہ "بورن ان دا یو ایس اے” یعنی "امریکہ میں پیدا ہوا،” ایک کلاسیکی مثال ہے۔ ٹراؤٹمین نے کہا کہ سپرنگسٹین کے اس نغمے کے لکھنے کی جزوی وجہ ویت نام  جنگ میں حصہ لینے والے اُن سابقہ فوجیوں کے لیے ایک غنائیہ نظم  لکھنا تھی جنہیں وطن لوٹنے کے بعد زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی تھی۔ یہ سابقہ فوجی اپنے ساتھیوں کی طرف سے واپسی پر گرمجوشی سے خوش آمدید نہ کہنے کو بے وفائی سمجھتے تھے۔ تاہم اس نغمے کی ملی ترانے جیسی خصوصیات اور ڈرامائی تکرار یعنی "میں امریکہ میں پیدا ہوا تھا!” سے (ویت نام کی جنگ کے بہت سے سابقہ فوجی) سامعین میں فاخرانہ احساس پیدا ہوتا تھا۔

ٹراؤٹمین نے کہا، "بلا شک و شبہ اس نغمے کا کمال یہ ہے کہ فوری طور پر (ذہن میں) اس کے دونوں معانی آتے ہیں۔ صدارتی مہم کے لیے اسے اپنانے سے اہم ثقافتی، سماجی اور سیاسی بحثوں نے جنم لیا۔ یہ بحثیں انتخابی مہموں کی تقریروں کی حیثیت سے "انجام کار ہماری جمہوریت کی کامیابی کے لیے بنیاد بن سکتی ہیں۔”