امریکہ کی طرف سے ایران پر 'کڑی ترین پابندیاں' عائڈ

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ وہ کڑی  پابندیاں جو امریکہ نے 5 نومبر کو ایران کے توانائی اور مالیاتی شعبوں پر عائد کیں ہیں "ایران کو اس  دولت اور پیسے کو حاصل کرنے  سے روکیں گی جس کی اسے دنیا بھر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے ضرورت ہے۔"

صدر ٹرمپ نے ایران کے 2015  میں ہونے والے جوہری سمجھوتے میں امریکہ کی شرکت ختم کر دی تھی کیونکہ یہ سمجھوتہ ایران کے جوہری [ہتھیاروں کے] حصول کو مستقل طور پر نہیں روکتا۔

پومپیو نے کہا، "ایرانی حکومت کو دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے: یا تو وہ اپنی غیرقانونی حرکت سے مکمل طور باز آ جائے اور ایک عام ملک جیسا طرز عمل اختیار کرے یا پھر وہ اپنی معیشت کو گرتا ہوا  دیکھے۔"

Graphic with picture of missile launch and text on Iran sanctions (State Dept.)

وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے 5 نومبر کو اعلان کیا کہ ان کے محکمے نے 700 سے زائد افراد، اداروں،  ہوائی اور سمندری جہازوں  پر پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔ منوچن نے انہیں ایک دن میں ایرانی حکومت کے خلاف کبھی بھی لگائی جانے والی پابندیوں کی سب سے  بڑی تعداد قرار دیا۔ اس سے ایران سے متعلقہ جن اہداف پر پابندیاں لگائی گئیں ہیں ان کی تعداد 900 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ایران پر امریکہ کی طرف سے کبھی بھی ڈالے جانے والے اقتصادی دباؤ کی یہ اعلٰی ترین سطح ہے۔

منوچن نے کہا، "ایسا کوئی بھی مالیاتی ادارہ، کمپنی، یا فرد جو ہماری پابندیوں کو خاطر میں نہیں لائے گا  وہ امریکہ کے مالیاتی نظام اور امریکہ یا امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کھو دینے کا خطرہ مول لے رہا ہوگا۔"

پومپیو نے مزید کہا کہ "اِن پابندیوں کا [ایران پر] پہلے ہی بے تحاشا اثر پڑ چکا ہے" کیونکہ ایران کی خام تیل کی برآمدات دس لاکھ بیرل یومیہ کم ہو گئی ہیں۔

پومپیو نے یہ بات واضح طور پر کہی کہ "ہماری کاروائیوں کا ہدف حکومت ہے نہ کہ ایران کے عوام جو پہلے ہی شدید مصائب کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خوراک، زرعی اجناس، دوائیں اور طبی آلات سمیت انسانی ضروریات کی اشیا کے سلسلے میں استثنٰی دیتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ  بھی جاری رکھیں گے۔

Graphic with quote on Iran from Mike Pompeo (State Dept.)