امریکہ کی طرف سے چوری شدہ نوادرات کی چین کو واپسی

امریکہ کے ایک گھر  سے دنیا بھر سے لائی گئیں 42,000 نوادرات کی برآمدگی کے بعد ایف بی آئی نے انہیں پیک کرنا اور اِن میں سے بہت سی اشیا کو عوامی جمہوریہ چین واپس بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ تاریخ کی سب سے بڑی ثقافتی برآمدگی میں شامل یہ نوادرات چین کی ملکلیت ہیں۔

اِن میں سے بعض نوادارات کا تعلق 500 قبل مسیح سے ہے۔ یہ نوادرات آنجہانی ڈون ملر کے ریاست انڈیانا کے دیہی علاقے میں واقع گھر میں رکھیں گئیں تھیں۔ ملر نے بیرونی ممالک میں کھدائی کی مہموں کے دوران یہ نوادرات چوری کیں تھیں۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے اُس نے ایف بی آئی کی آرٹ کے جرائم کے بارے میں ٹیم سے تعاون کیا۔ اِن میں سے لگ بھگ 7,000 نوادرات چین کو واپس کی جا چکی ہیں۔

Three photos of Chinese artifacts on a table (© Sam Riche)
ریاست انڈیانا میں واقع ایک گھر سے ملنے والی نوادرات میں سے جو نوادرات چین کو واپس کی گئی ہیں اُن میں سے کچھ اشیا۔ (© Sam Riche)

چینیوں کی قانونی ملکیت کے تعین کیے جانے کے بعد جو چیزیں چین کو واپس کی گئی ہیں اُن میں زیورات، گلدان اور آرٹ کی دیگر اشیا میں کم و بیش 361  نوادرات شامل ہیں۔

امریکہ  کی عوامی جمہوریہ چین کو ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا کی سب سے بڑی واپسی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایف بی آئی نے چین کے قومی ورثے کے ادارے کے ساتھ قریبی طور پر مل کر کام کیا۔

شکاگو میں چینی قونصلیٹ جنرل کے ڈپٹی قونصل جنرل جیون لُو نے کہا، “لوگوں کے دیکھنے کے لیے اِن اشیا کی چین میں نمائش کی جانی چاہیے۔”28 فروری کو انڈیاناپولس میں اِن اشیا کی واپسی کی تقریب میں جیون نے امریکہ اور چین کے درمیان تعاون کو سراہا۔

Man and woman shaking hands next to table with documents as others look on (© Sam Riche)
نوادرات کو چین کو واپس کرنے کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد چین کے ثقافتی ورثے کے ادارے کے وین ڈیان ایف بی آئی کی کرسٹی جانسن سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ (© Sam Riche)

ملر اکثر نوادرات کے اپنے مجموعے کو دوسروں کو دکھایا کرتا تھا۔ مگر 2014ء میں ایف بی آئی کی آرٹ کے جرائم کے بارے میں ٹیم  نے اِن اشیا کا پتہ لگا کر انہیں اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس چیز کا امکان پایا جاتا ہے کہ ملر نے یہ اشیا امریکہ کے وفاقی قوانین اور بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزیاں کر کے حاصل کی ہوں۔

ایف بی آئی کے بین الاقوامی منظم جرائم کے سیکشن کی سربراہ کرسٹی جانسن کہتی ہیں کہ یہ نوادرات چین کی خوبصورتی اور آرٹ میں اِس کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں۔ مگر ملر کے قبضے میں جا کر یہ محض اشیا بن کر رہ گئیں تھیں۔

چینی حکام کو واپس کرنے سے قبل ایف بی آئی نے اِن ثقافتی خزینوں کی چھانٹی کی۔ اس کے لیے انڈیانا یونیورسٹی اور پرڈُو یونیورسٹی (آئی یو پی یو آئی) کے بشریات اور میوزیم سٹڈیز کے شعبے کے گریجوایٹ طلبا کی مدد حاصل کی گئی۔  طلبا نے اپنی پروفیسر، ہولی کیوسیک میکوے کی راہنمائی میں مخصوص موسمی ماحول والے ایک گودام میں اِن نوادرات کی فہرست تیار کی اور اِن کی دیکھ بھال کی۔

آئی یو پی یو آئی کی ایک طالبہ ایمیلی ہیناوالٹ نے کہا، “اِن اشیا کو اِن کے اصلی ملک واپس کرنا ایک عظیم کام ہے۔”

Men wearing gloves handling cultural artifacts (© Sam Riche)
پال کرائلی ( درمیان میں) اور جوش رامیریز (دائیں) چین کو واپس کرنے کے لیے نوادرات کو پیک کر رہے ہیں۔(© Sam Riche)

دس سال سے زیادہ عرصہ پہلے امریکہ اور چین نے ثقافتی ورثے کی حفاظت اور اس کے تحفظ کے لیے پہلے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر اس سال کے اوائل میں محکمہ خارجہ کے تعلیمی اور ثقافتی امور کے بیورو اور اس کے چینی ہم پلہ ادارے نے آرٹ کی حفاظت، شناخت اور ثقافتی ورثے کے کام کو جاری رکھنے کے لیے اس معاہدے کی حالات کے موجودہ تقاضوں کے مطابق تجدید کی۔

یہ پانچ سالہ معاہدہ غیرقانونی طور پر برآمد کی جانے والی ثقافتی ورثے کی اشیا کی ضبطگی اور واپسی اور تاریخی مقامات کی لوٹ مار کو روکنے کو یقینی بناتا ہے۔

Man being interviewed by reporters holding microphones and cameras (© Sam Riche)
نوادرات کی واپسی کی تقریب کے موقع پر ہُو بنگ اخبار نویسوں سے بات کر رہے ہیں۔ (© Sam Riche)

چین کے قومی ورثے کے ادارے کے نائب منتظم ہُو بنگ نے کہا کہ کہ اس طرح کا تعاون “ثقافتی حقوق اور دنیا بھر کی اقوام کے قومی جذبات کا احترام” ظاہر کرتا ہے۔

یہ مضمون فری لانس مصنفہ آندریا ویگا یوڈیکو نے تحریر کیا۔