ہنڈراس میں اپنے کلاس روم میں بنچ پر بیٹھی بچی مسکرا رہی ہے (USAID)
یہ نیا اتحاد ہنڈوراس کے طلباء کو آن لائن تعلیم حاصل کرنے اور سکولوں تک جانے والے راستوں کے محفوظ ہونے کو یقینی بناے میں مدد کرے گا۔ (USAID)

امریکہ کا بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ [یو ایس ایڈ] ہنڈراس میں سکولوں کی تعمیر نو اور اُن کی مرمت کا کام کرنے اور کم از کم  300,000 نوجوانوں کی محفوظ، مفید اور معیاری بنیادی تعلیم حاصل کرنے میں مدد کے لیے 33 ملین ڈالر کی رقم فراہم کرنے کی خاطرکانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔  یہ رقم یو ایس ایڈ کے الائنس فار ایجوکیشن [اتحاد برائے تعلیم] نامی ایک نئے پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی اور اس کی فراہمی فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہے۔

تعلیم کے حوالے سے ہنڈراس کو اچھی خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔

ہنڈراس میں پہلی جماعت میں داخلہ لینے والے 10 میں سے صرف 2 طلباء کا ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے کا امکان ہوتا ہے۔ اِن  10 میں سے صرف ایک طالبعلم کا یونیورسٹی میں داخل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ ہنڈوراس کے ہر 10 شہریوں میں سے ایک شہری ناخواندہ ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح دوگنا ہے۔ جو بچے سکول نہیں جاتے اُن میں سے تقریباً آدھے بچوں کی سکول نہ جانے کی وجہ معاشی وسائل کی کمی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اور یہ اتحاد انہی وجوہات سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یو ایس ایڈ کی ایڈمنسٹریٹر سمنتھا پاور نے کہا کہ “ہم جانتے ہیں کہ جب بچے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، کمیونٹیاں محفوظ ہو جاتی ہیں، لوگ صحت مند ہوتے ہیں تو اجرتیں بڑھ جاتی ہیں اور غربت کم ہو جاتی ہے۔ حقیقت میں یونیسکو کے مطابق، اگر دنیا کے تمام طلباء اپنی ثانوی تعلیم مکمل کر لیں، تو غربت نصف حد تک کم  ہو سکتی ہے۔”

یو ایس ایڈ نے یہ اتحاد تشکیل دینے کے لیے ہنڈوراس کی حکومت، نجی شعبے، تائیوان کی حکومت اور دیگر عطیات دہندگان کے ساتھ مل کر کام کیا۔ یو ایس ایڈ کے مطابق نجی شعبہ اور ہنڈوراس اور تائیوان کی حکومتیں اس اتحاد کے لیے اب تک 91.7 ملین ڈالر دینے کے وعدے کر چکے ہیں۔

اِس فنڈنگ سے ہنڈراس کو مندرجہ ذیل امور میں مدد ملے گی:-

  • باضابطہ تعلیم کے لیے کم از کم 30,000 طالبعلموں کو سکولوں میں  داخل کیا جائے گا۔
  • چھٹی جماعت سے لے کر نویں جماعت کے 200,000 طلبا کو پڑھنے اور اِن کے ریاضی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ان کی سماجی اور جذباتی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں بھی مدد کی جائے گی۔
  • پسماندہ ترین طلبا کو تعلیم جاری رکھنے اور ان کی اگلی جماعتوں میں ترقی کے عمل میں بہتری لائے جائے گی اور اُن کی لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد کی جائے گی۔
  • جہاں ضروری ہوا طالب علموں کو تعلیم تک رسائی کے متبادل مواقع فراہم کیے جائیں گے اور سکول کے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جائے گا۔
  • سکولوں کے بنیادی ڈھانچوں کے لیے حکومتی اور نجی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے 50 سے زائد سکولوں میں  مرمت اور بحالی کا کام کیا جائے گا۔
تعلیم سے متعلق تصویری خاکہ جس میں تیر کی علامات کے ساتھ کلاس روم میں کام کرتے ہوئے ایک لڑکے کی تصویر بھی شامل ہے (Graphic: State Dept./M. Gregory. Photo: USAID)
(State Dept./M. Gregory)

پاور نے کہا کہ یو ایس ایڈ کی 33 ملین ڈالر کی یہ امداد، امریکہ کی طرف سے ہنڈراس کے تعلیمی شعبے کے لیے دوطرفہ بنیادوں پر کسی ایک ملک کی طرف سے ہنڈراس کو  دیا جانے والا سب سے بڑا تحفہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “ملکوں کے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے یہ لازمی ہے کہ اُن کے طلبا اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔”