امریکہ کی لاطینی امریکہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری

تاروں کے سہارے برازیل کے ایک دریا پر بنایا گیا پُل (© R.M. Nunes/Alamy)
اوپر تصویر میں ساؤ پاؤلو، برازیل کا عام طور پر پونٹے ایسٹیاڈا کے نام سے جانا جانے والا آکٹوویا فریس ڈی اولیویرا نامی پُل دکھایا گیا ہے۔ برازیل کا شمار اُن بہت سے ممالک میں ہوتا ہے جہاں امریکی حکومت کا سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ ہے۔ (© R.M. Nunes/Alamy)

امریکی حکومت اور نجی شعبہ لاطینی امریکہ میں سرمایہ کاری کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں خطے بھر کے ممالک میں اقتصادی ترقی میں تیزی آ رہی ہے۔

مغربی نصف کرے میں، بالخصوص وسطی اور جنوبی امریکہ میں، امریکہ کے نجی اور سرکاری شعبوں کو کاروبار میں سرکردہ   شراکت داروں کی حیثیت حاصل ہے۔ ہسپانوی زبان میں "امریکہ کریچی” کہلانے والے اپنے پروگرام کے تحت، امریکی حکومت بنیادی ڈھانچے کے بہت سے شعبوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے حکومتوں سے جن شعبوں میں شراکتیں کر رہی ہے اِن میں خطے بھر میں توانائی، نقل و حمل اور مواصلات کے شعبے شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ میں مغربی نصف کرے کے اسسٹنٹ سیکرٹری، مائیکل کوزیک کے مطابق، امریکہ اور مغربی نصف کرے کے درمیان ہونے والی سالانہ تجارت کی مالیت لگ بھگ دو کھرب ڈالر کے برابر ہے۔

کوزیک نے یکم ستمبر کو کہا، "ہم کاروباری نظامت کاری اور آزاد کاروبار کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم شفافیت اور ایسی خریداریوں پر یقین رکھتے ہیں جو سب سے اچھی بولی دینے والوں سے کی جاتی ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ ہمارے سرمایہ کار بدعنوانی سے متعلقہ قوانین، محنت کے معیاروں، محنت کشوں کی سلامتی اور ماحولیات کا احترام کریں گے۔ ہر ایک ملک یہ بات نہیں کہہ  سکتا۔”

"امریکہ کریچی” پروگرام کا آغاز 2018ء میں ہوا اور 2019ء میں اس کو توسیع دی گئی۔ اس میں شمولیت کے لیے جن 10 ممالک نے دستخط کیے ہیں اُن میں ایلسلویڈور، ایکویڈور، برازیل، ہنڈوراس اور بولیویا شامل ہیں۔

"امریکہ کریچی” کے تحت کی جانے والی کوششوں میں مدد کرنے کی خاطر، امریکہ کی بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن (ڈی ایف سی) نے حال ہی میں ہنڈوراس اور گوئٹے مالا میں 2 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری میں تیزی لانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے انتہائی اہمیت کا حامل بنیادی ڈہانچہ مضبوط ہوگا اور ہونڈوراس میں چھوٹے کاروباروں کی مدد کے ساتھ ساتھ گوئٹے مالا میں ترقیاتی منصوبوں میں بھی مدد ملے گی۔

کوزیک نے بتایا کہ اگلے پانچ برسوں میں ڈی ایف سی نے وسطی امریکہ میں 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

خطے کے ممالک کو مستقبل میں اقتصادی لحاظ سے کووڈ-19 کے اثرات سے نکلنے میں مدد کرنے کے لیے یہ سرمایہ کاریاں اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

"امریکہ کریچی” کے تحت، امریکہ نے اقتصادی موضوعات پر دوطرفہ، تکنیکی تبادلوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ایک اور پروگرام تشکیل دیا ہے۔

امریکہ نے ایک تکینیکی وفد کی قیادت کی جس کا تعلق ایکویڈور میں ڈیٹا کی رازداری سے، پیرو میں بنیادی ڈہانچے کے لیے خریداری سے، اور پیرو اور کولمبیا میں ڈیجیٹل معیشت اور فائیو جی معیشت کی سکیورٹی سے تھا۔

اسی پروگرام کے تحت امریکہ نے پانامہ میں بجلی کے شعبے میں سائبر سکیورٹی کے بارے میں ایک سیمینار کی میزبانی کرنے کے علاوہ کیریبیئن ممالک میں سرمایہ کاری میں اضافے کو تیز تر کرنے کے لیے خطے میں توانائی کے مختلف ذرائع اور پائیداری کے موضوع پر پینل کی شکل میں ایک مباحثے کا اہتمام بھی کیا۔

امریکہ اعلٰی ترین بین الاقوامی طریقہائے کار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، ارجنٹینا کے ساتھ سمندری علاقوں میں سلامتی اور حکومت چلانے اور پیرو کے ساتھ  توانائی کے معدنیاتی وسائل کی پائیدار تیاری میں مدد کرنے کے لیے شراکت داری کر چکا ہے۔

ڈی ایف سی نے خطے میں عورتوں کو اقتصادی طور پر با اختیار بنانے سے متعلق اپنے پروگراموں میں کی جانے والی سرمایہ کاریوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ ڈی ایف سی نے اپنی 500 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 500 ملین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری لانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دسمبر 2019 میں امریکہ نے لاطینی امریکہ اور کیریبیئن کے لیے 10 ملین ڈالر مختص کرکے اپنی ڈیجیٹل کنکٹویٹی (ڈیجیٹل جڑت) اور سائبر سکیورٹی کی شراکت داری کو وسعت دی ہے۔ یہ شراکت داری دنیا بھر میں کھلے، قابل اعتماد، باہمی طور پر متعامل اور محفوظ انٹرنیٹ کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔

کوزیک نے کہا، "اس چیلنج سے نمٹنے میں خطے کے ممالک کی مدد کرنے کے لیے امریکہ اُن کی پسند کا شراکت دار بنا رہے گا۔ تاہم (اس سے قطع نظر) کہ کووڈ-19 ہو یا نہ ہو، جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے اور نصف کرے کی آزادی کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے ترقی ایک اہم شرط ہے۔”