Gold mining facility in Venezuela (© Manaure Quintero/Bloomberg/Getty Images)
تصویر میں دکھائی گئی وینیز ویلا کی سونے کی کان سرکاری کمپنی ' منروین' کی مالکیت ہے۔ منروین پر امریکہ نے پابندیاں لگا دی ہیں۔ (© Manaure Quintero/Bloomberg/Getty Images)

امریکہ کے محکمہ خزانہ نے سونے کی کان کنی کی وینیز ویلا کی سرکاری کمپنی اور اس کے صدر پر نکولس مادورو کی حکومت کو سہارا دینے کی بنیاد پر پابندیاں لگا دی ہیں۔

اس کمپنی کا نام “سی وی جی کمپنیا جنرال دو منیریا دو وینیز ویلا سی اے” ( منروین) اور اس کے صدر کا نام ایڈریان انتونیو پرتومو ماتا ہے۔ کمپنی [کے لوگوں] اور صدر نے حالیہ برسوں میں کان کنی کی غیرقانونی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور وینیز ویلا کے عوام کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کے لیے مادورو اور اُس کے اتحادیوں کے ساتھ قریبی طور پر مل کر کام کیا۔

19 مارچ کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ منوچن نے کہا، “مادورو کی غیرقانونی حکومت وینیز ویلا کی دولت کی لوٹ مار کر رہی ہے۔”

حکومت کی غیرقانونی کان کنی سے مادورو اور اُس کے حواریوں کو کئی ملین ڈالر مالیت کا سونا دستیاب ہوا ہے۔ جبکہ خوراک اور دواؤں کی قلت کی وجہ سے وینیز ویلا کے عوام مصائب اور فاقوں کا شکار ہیں۔

صدر ٹرمپ کے پابندیوں کی منظوری دینے والے انتظامی حکم نامے کے مطابق یہ پابندیاں امریکہ کی اُن جاری کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد مادورو اور اُس کے قریبی حلقے کے لوگوں کو “اپنے  بدعنوان مقاصد کی خاطر وینیز ویلا کی دولت کی لوٹ مار کو روکنا ہے۔”

قدرتی وسائل کی چوری

محکمہ خزانہ نے کہا کہ وینیز ویلا کی تیل کی سرکاری کمپنی کی تیل کی دولت کو لوٹنے سمیت برسوں پر پھیلی بدعنوانی کے ساتھ ساتھ مادورو اور اُس کے قریبی حلقے کے لوگوں نے سونے کی غیرقانونی کان کنی کو دولت اکٹھی کرنے اور  اقتدار میں رہنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ اقدام “مادورو اور دیگر بدعنوان کرداروں کو ایک طویل عرصے سے مصائب جھیلنے والے وینیز ویلا کے عوام کی قیمت پر اپنے آپ کو مزید امیر بنانے سے روکے گا۔ مزید برآں اس سے کان کنی سے متعلق ہونے والے ماحولیاتی نقصان اور وینیز ویلا کی سونے کی صنعت میں محنت کشوں کے استحصال کو بھی روکنے میں مدد ملے گی۔”