امریکہ کے خلائی جہاز کی سائنسی مشن پر روانگی

ایک محفوظ بند کمرے ایک خلائی جہاز (Courtesy of Boeing)
ایکس-37 بی مدار میں چکر لگارنے والی آزمائشی جہاز سورج کی حرارت سے چلنے والا ایک جہاز ہے جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا جاتا ہے۔ (Courtesy of Boeing)

مدار میں چکر لگانے والی ایکس-37 بی آزمائشی خلائی جہاز کو کیپ کنیورل، فلوریڈا سے کامیابی سے اس کے چھٹے خلائی مشن پر روانہ کیا گیا۔

امریکہ کی خلائی فوج کے مطابق 17 مئی کو روانہ کیا جانے والا ایکس-37 بی جہاز "فالکن سیٹ-8” مصنوعی سیارہ لے کر گیا ہے جو تجربات کرے گا۔ ان تجربات میں مدار میں کھانے کی چیزیں اگانے کے لیے بیجوں پر تابکاری کے اثرات کے تجربات بھی شامل ہوں گے۔

امریکی فضائیہ کے چیف آف سٹاف جنرل ڈیوڈ گولڈ فین نے کہا، "ایکس-37 بی خلائی جہازوں کے بار بار استعمال کی ٹکنالوجیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کو فروغ دے گا اور مستقبل کی خلائی صلاحیتوں کو بڑہانے میں یہ ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔”

امریکی فضائیہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی معلومات کے مطابق ایکس 37- بی سورج کی حرارت سے چلنے والا ایک خلائی جہاز ہے۔ اس کی لمبائی نو میٹر ہے۔

امریکی فضائیہ کے طلبا نے فالکن سیٹ-8 مصنوعی سیارے کو ڈیزائن کیا ہے اور یہ سیارہ نیول ریسرچ لیبارٹری اور ناسا کے تعاون سے تجربات کرے گا۔

ایکس-37 بی کا مشن امریکی فضائیہ اور امریکی خلائی افواج کے درمیان ایک شراکت کاری ہے۔ اپنے آخری مشن کے دوران ایکس-37 بی نے خلا میں دو سال سے زائد وقت گزارا۔

امریکی فضائی فوج کے آپریشنز کے سربراہ جنرل جان ریمنڈ نے کہا، "ایکس-37 بی کی خلائی ٹیم خلائی شعبے میں ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں درکار ایک کم خرچ، مرحلہ وار اور مستقبل پر نظر رکھنے والی ٹکنالوجی کی تیاری کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہر مشن ایک اہم سنگ میل اور پیشرفت کا حامل ہوتا ہے۔”

فضا میں پرواز کرتا ہوا ایک راکٹ (© John Raoux/AP Images)
یونائیٹڈ الائنس کا اٹلس وی راکٹ 17 مئی کو کیپ کنیورل، فلوریڈا سے ایکس-37 بی خلائی جہاز کو لیے زمین سے فضا میں بلند ہو رہا ہے۔ (© John Raoux/AP Images)