امریکہ کے روس کو جوابدہ ٹھہرانے پر دنیا کے ممالک کی امریکہ کی حمایت

عمارت کے باہر لگے سکیورٹی کیمرے (© Carolyn Kaster/AP Images)
امریکہ روسی فیڈریشن کے ناروا سلوک کے ردعمل میں پابندیاں عائد کررہا ہے۔ واشنگٹن میں 15 اپریل کو سکیورٹی کیمرے روسی سفارت خانے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ (© Carolyn Kaster/AP Images)

سائبر دخل اندازی، انتخابی مداخلت کی کوشش اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دیگر “لاپرواہانہ” رویے پر امریکہ، روسی حکومت پر نتائج مسلط کر رہا ہے۔

20 سے زائد ممالک نے ایسے بیانات جاری کیے ہیں جن میں امریکہ کے ساتھ یا تو اظہار یکجہتی کیا گیا ہے یا امریکی کی حمایت  کی گئی ہے۔

صدر بائیڈن نے 15 اپریل کو پابندیاں لگانے والے اختیار کو مضبوط بنانے والے انتظامی حکمنامے میں آزادنہ اور منصفانہ انتخابات سے لے کر منحرفین یا صحافیوں کو نشانہ بنانے والی کینہ پرور سائبر سرگرمیوں تک کے روسی رویے کو امریکی قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف “معمول سے ہٹ کر اور ایک غیر معمولی خطرہ” قرار دیا۔

اس حکم کے تحت حاصل ہونے والے نئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ نے اُن افراد اور ٹکنالوجی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں جو روس کی انتخابی مداخلت کی کوششوں اور روس کے سائبر پروگرام میں مدد کرنے والوں میں ملوث ہیں۔ محکمہ خزانہ نے روسی حکومت کی طرف سے لیے جانے والے قرضوں سے متعلق لین دین کو بھی روک دیا ہے تاکہ روسی حکومت کو اپنے کیے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔

اس کے علاوہ محکمہ خارجہ نے روس کے دو طرفہ سفارتی مشن سے 10 اہلکاروں کو بھی ملک بدر کیا ہے۔

روسی حکومت کی سائبر مداخلتوں پر اور 2020 کے امریکی انتخابات میں روس کو مداخلت کی کوششوں کا قصور وار قرار دیتے ہوئے وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا، “ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ روس اپنے اقدامات کا خمیازہ بھگتے۔ ہم اُن روسی اقدامات کا مضبوط ردعمل دیں گے جن سے ہمارے یا ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کو نقصان پہنچتا ہو۔”

بلنکن نے روسی حزب اختلاف کے رہنما الیکسی نیوالنی کی صحت اور علاج کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور ان کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

محکمہ خزانہ کی پابندیوں میں اُن 16 اداروں اور 16 افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جنھوں نے روسی حکومت کی ہدایت پر 2020 کے امریکی انتخابات میں مداخلت  کرنے کی کوشش کی تھی۔

محکمہ خزانہ نے ٹکنالوجی کی چھ کمپنیوں کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا جنہوں نے یا تو تحقیق اور تیاری میں یا روسی انٹیلی جنس سروس کی کینہ پرور سائبر سرگرمیوں میں مادی مدد فراہم کی۔

15 اپریل کو امریکہ نے روس کی ایس وی آر کے نام سے جانی جانے والی غیر ملکی انٹلیجنس سروس کو باضابطہ طور پر “سولر ونڈز” نامی امریکی کمپنی کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ایس وی آر کا یہ اقدام سائبر جاسوسی کی اُس مہم کا حصہ ہے جس میں عالمی سطح پر کمپیوٹر کے 16,000 سے زائد  نظاموں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے۔

قومی سلامتی کے ادارے، سائبر سکیورٹی اور بنیادی ڈھانچوں کی سکیورٹی کے ادارے اور ایف بی آئی نے اُس مخصوص دن کے لیے جاری کیے جانے والے ہدایت نامے کے ایک حصے کے طور پر ایس وی آر کی کینہ پرور کاروائی کی شناخت کرنے اور اس سے نمٹنے میں مدد کرنے کے لیے مخصوص تفصیلات فراہم کیں۔

محکمہ خارجہ نے بھی بین الاقوامی شراکت داروں کو سائبر  وارداتوں کا جواب دینے کے لیے تربیت دینے کے پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دنیا بھر میں سائبرسکیوریٹی کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔

متعدد ممالک کے ساتھ ساتھ یوروپی یونین اور نیٹو نے بھی روس کے رہنماؤں کو سولر ونڈز ہیک کا جوابدہ ٹھہرانے والی امریکی کارروائیوں کی حمایت میں بیانات جاری کیے ہیں۔

15 اپریل کو اپنے ایک بیان میں نیٹو کہا، “روس عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے  کے ایک مستقل چلن کا مظاہرہ کررہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہم یکجہتی کے طور پر کھڑے ہیں۔”