امریکہ کے “فیڈ دا فیوچر” پروگرام میں مزید 8 افریقی ممالک شامل

جسٹین کونڈے ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو [ڈی آر سی] میں اپنے چھوٹے سے فارم سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے اُن کیڑوں مکوڑوں، بالخصوص پریشان کرنے والیں لشکری سنڈیوں کو ختم کرنا چاہتی تھیں جو اُن کی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے عالمی غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے امریکی حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے “فیڈ دا فیوچر” نامی پروگرام کے تحت قائم کردہ کسانوں کے ایک فیلڈ سکول میں کیڑوں پر قابو پانے کا ایک موثر طریقہ سیکھا۔

کیڑوں مکوڑوں پر قابو پانے اور کھاد کو محفوظ طریقے سے رکھنے کے طریقے سیکھنے کے بعد کونڈے نے اپنے فارم کا رقبہ  .40 ہیکٹر سے بڑہا کر 6.9 ہیکٹر کر لیا۔ یہ سکول 2021 سے لے کر اب تک ڈی آر سی میں چھ ہزار کسانوں کو تربیت دے چکا ہے۔ سکول کے انسٹرکٹر دیہاتوں کے سربراہوں جیسے کمیونٹی لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جو بعد میں مقامی کسانوں کو سکول میں تربیت حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ “میرا کام اب اپنے گاؤں کے دوسرے کسانوں تک اِن معلومات کو پہنچانا ہے تاکہ ہم  معلومات کے حصول کے لیے متحدہ ہو سکیں۔”

آٹھ نئے اہدافی ممالک کا اضافہ

فیڈ دا فیوچر امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے [یو ایس ایڈ] کی قیادت میں چلایا جانے والا ایک پروگرام ہے جس میں دوسرے امریکی ادارے بھی شریک ہیں۔ حال ہی میں اس پروگرام کے تحت ڈی آر سی اور سات دیگر افریقی ممالک کو “اہدافی ممالک” کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں امریکہ نے غربت، بھوک او غذائی کمی کے بنیادی اسباب دور کرنے کے لیے باہمی  رابطہ کاری کا طرز عمل اپنایا ہے۔

 تصویری خاکہ جس میں فیڈ دا فیوچر پروگرام کے اہدافی ممالک کی فہرست میں شامل کیے جانے والےافریقہ کے آٹھ ممالک کے نام درج ہیں (State Dept./M. Gregory. Photos: USAID; Karin Bridger/USAID)
(State Dept./M. Gregory)

ڈی آر سی کے علاوہ لائبیریا، مڈغاسکر، ملاوی، موزمبیق، روانڈا، تنزانیہ اور زیمبیا کو حال ہی میں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے 8 اگست کو جنوبی افریقہ میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ “امریکہ ایک ایسے بحران میں افریقی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شراکت دار ایک دوسرے کے لیے یہی کام کرتے ہیں۔”

بین الاقوامی گروپوں کے ساتھ مل کر کام کرنا

فیڈ دا فیوچر پروگرام کے تحت مقامی حکومتوں اور زرعی تنظیموں کے ساتھ  مل کر کام کیا جاتا ہے تاکہ کسانوں کی اُن کی پیداوار بڑھانے اور اعلی پیداواری سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کی جا سکے۔

اس پروگرام کی دیگر ترجیحات کے علاوہ مندرجہ ذیل ترجیحات بھی شامل ہیں:-

  • خواتین اور بچوں میں بھوک کم کرنا۔
  • نجی شعبے کے ساتھ شراکت داریاں قائم کرنا۔
  • مختلف طبقات کو فائدہ پہنچانے والی ٹیکنالوجیوں کے استعمال کو عام کرنا۔

فیڈ دا فیوچر پروگرام افریقی یونین کے “جامع افریقی زرعی ترقیاتی پروگرام” کو آگے بڑہاتا ہے جس میں افریقی حکومتوں نے قومی بجٹ کا کم از کم 10% زراعت اور دیہی ترقی کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کر رکھا ہے۔

جون میں صدر بائیڈن نے دنیا کے سب سے زیادہ کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ اور بڑھتے ہوئے غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کے لیے 2.76 ارب ڈالر کی امریکی فنڈنگ کا اعلان کیا۔

بلنکن نے کہا کہ “ہمارے افریقی رفقائے کار نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی امداد کے علاوہ جو چیز وہ واقعی چاہتے ہیں وہ زرعی پائیداری، جدت طرازی اور خود کفالت کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہے۔ ہم اِن نکات کا [مثبت] جوابات دے رہے ہیں۔”