امریکہ کے نئے سیٹلائٹ: جی پی ایس کی بہتری کی جانب قدم

عنقریب امریکہ کے جی پی ایس کو بہتر بنانے سے پیزا پہنچانے والے ڈرائیوروں سے لے کر ایئرلائنوں کے پائلٹوں اور بین الاقوامی جہاز رانوں تک سب کو نیوی گیشن (سمت کے تعین) کے پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور قابل اعتماد نظام دستیاب ہو جائیں گے۔

امریکہ کی خلائی فوج اور نجی شراکت داروں نے 5 نومبر کو 32 نئے سیٹلائٹوں کے سلسلے کا چوتھا سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا ۔ یہ سیٹلائٹ جی پی ایس کو جدید بنانے کے اُس پروگرام کا حصہ ہیں جو آئندہ دہائی میں بھی جاری رہے گا اور دنیا بھر میں صارفین کے لیے نیوی گیشن اور دیگر ٹیکنالوجیوں کو بہتر بنائیں گے۔

اس جدید کاری سے سیٹلائٹوں کے درجنوں نئے ماڈل پرانے سیٹلائٹوں کی جگہ لیں گے جس سے سگنلز تین گنا زیادہ طاقتور اور لگ بھگ آٹھ گنا سے زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔ امریکہ نے 1983ء میں جی پی ایس کو سویلین استعمال کے لیے عام کرنے کا فیصلہ کیا اور 1990 کی دہائی کے وسط میں اسے عام لوگ استعمال کرنے لگے۔ اس سے  وقت اور محل وقوع کے بارے میں ڈیٹا مہیا کیا جاتا ہے جس سے نیوی گیشن سے لے کر ہنگامی مدد پہنچانے کے لیے محل وقوع کی تلاش، موسمی پیشینگوئی، زراعت کے لیے موزوں زمین کی نشاندہی، بنکاری اور بجلی کی پیدوار تک کے شعبوں میں مدد ملتی ہے۔

ٹونیا لاڈوگ لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے نیویگیشن کے نظاموں کی نائب صدر ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن امریکہ کی خلائی فوج کے ساتھ مل کر نئے سیٹلائٹ بنا رہی ہے۔ لاڈوگ نے کہا، “بہت سے لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں جی پی ایس پر انحصار کرتے ہیں۔ جی پی ایس میں  جی پی ایس تھری/آئی آئی آئی ایف جیسی نئی صلاحیتوں کا اضافہ کرنا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جی پی ایس دنیا کا بدستور ‘سنہری معیار’ بنا رہے۔'”

 فضا میں چھوڑے جانے سے قبل محفوظ گہ پر رکھا ہوا سیٹلائٹ (Courtesy 45th Space Wing Public Affairs)
ایک نیا جی پی ایس سیٹلائٹ خلا میں چھوڑے جانے سے پہلے ایک محفوظ جگہ پر رکھا ہوا ہے۔ (Courtesy 45th Space Wing Public Affairs)

امریکی صدور 1980 کی دہائی سے پرامن مقاصد کے لیے جی پی ایس کی تیاری اور دنیا بھر میں استعمال کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

نئے جی پی ایس سیٹلائٹ نیوی گیشن کے دیگر عالمی اور علاقائی نظاموں کے ساتھ ہم آہنگ ہوکرکام کریں گے اور امریکہ کی دنیا بھر میں نیوی گیشن کی ٹکنالوجیوں کو فروغ دینے کی طویل عرصے سے جاری کوششوں کو لے کر آگے چلیں گے۔

امریکہ دنیا میں سیٹلائٹ نیویگیشن کی خدمات فراہم کرنے والوں کے مابین سیٹلائٹ نظاموں کی عالمگیر نیویگیشن کی بین الاقوامی کمیٹی کے ذریعے ہم آہنگی کا حامی ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام 2005ء میں امریکہ کی مدد سے اس کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔

محکمہ دفاع کی جانب سے امریکہ کی خلائی فوج جی پی ایس کو چلاتی ہے۔ اس نظام کو برقرار رکھنے اور اس میں جدید تبدیلیاں لانے کے لیے محکمہ دفاع نجی اور حکومتی شعبوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

خلائی فوج میں آپریشنز اور کمیونیکیشن کی ڈائریکٹر، میجر جنرل ڈی اینا برٹ نے ٹیکنالوجی سے متعلق مواد شائع کرنے والے سی نیٹ کو بتایا، “میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ احساس نہیں کہ کتنے لوگ شب و روز جی پی ایس پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس جی پی ایس نہ ہوتا تو یہ برا دن ہوتا۔”