امریکہ کے ڈیٹا کے اجرا سے کووڈ-19 سے نمٹنے کے نئے وسائل میں موثر اضافہ

ہاتھوں پر دستانے چڑہائے ایک آدمی مشین میں کوئی چیز ڈال رہا ہے۔ (© Andrew Theodorakis/Getty Images)
لیک سک سیس، نیویارک میں واقع نیشنل ہیلتھ لیبارٹری میں ایک لیبارٹری ٹکنیشن کووڈ-19 کے ٹسٹ کے لیے مریض سے حاصل کردہ نمونے کو مشین میں ڈال رہا ہے۔ (© Andrew Theodorakis/Getty Images)

امریکہ کی طرف سے کورونا کی دسیوں ہزاروں مطالعاتی رپورٹوں کا اجرا، دنیا بھر کے ماہرین کو کوووڈ-19 کے علاج کی تلاش کو تیز تر کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو استعمال کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

کووڈ-19 کے عوام کو دستیاب CORD-19 (کورڈ-19 ) کہلانے والا ‘اوپن سورس ڈیٹا سیٹ’ کے اجرا کے بعد سے لے کر اب تک ماہرین 54,000 مرتبہ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں اور ٹیکسٹ اور ڈیٹا حاصل کرنے کے 1,000 سے زائد طریقہائے کار وضح کر چکے ہیں۔ اِن طریقوں کے تحت اے آئی یعنی مصنوعی ذہات کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ فوری طور پر استعمال میں لانے کی خاطر محققین کی نئی ریسرچ کا اندراج کرنے میں مدد کی جا سکے۔

نصابی ناشروں اور ٹکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے وائٹ ہاؤس نے 16 مارچ کو یہ ڈیٹا جاری کیا۔ اسی اثنا میں امریکہ کے چیف ٹکنالوجی افسر، مائکل کراٹسیوس نے مصنوعی ذہانت کے ماہرین سے ایسے طریقہائے کار وضح کرنے کو کہا جن سے سائنس دان اس ڈیٹا کا مطالعہ کر سکیں۔

اس ڈیٹا بیس میں کورونا وائرس کے 29,000 سے زائد مطالعاتی جائزے موجود ہیں جن میں 13,000 جائزوں کے ساتھ اُن کے مکمل متن بھی شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ایلن انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر، ڈاکٹر اورن اٹزیونی نے کہا کہ نئی تحقیق کے بہتر استعمال کے لیے نئے ڈیٹا کا اندراج اور اے آئی کے نئے طریقہائے کار کی تیاری کا کام جاری رہے گا۔

اٹزیونی نے 16 مارچ کو وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا، "اے آئی کے فوری اور موثر ترین استعمالوں میں سے ایک استعمال کا تعلق سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو تحقیق کو تیزی سے آگے بڑہانے کے لیے سائنسی مقالوں کے سمندر میں سے صحیح معلومات تلاش کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت سے ہے۔”

شفافیت اور شراکت کاری کے ذریعے کووڈ-19 عالمی وبا سے نمٹنے کی خاطر وائٹ ہاؤس کے سائنس اور ٹکنالوجی کی پالیسی کے دفتر نے "پورے امریکہ کی ایک سوچ” کے تحت کورونا وائرس کے مطالعاتی جائزے جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس شراکت کاری میں ایلن انسٹی ٹیوٹ، دا چن زکربرگ پروگرام، جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا سکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹکنالوجی کا مرکز، مائکرو سافٹ کارپوریشن اور امریکہ کے قومی ادارہ صحت کی طب کی قومی لائبریری شامل ہیں۔

شفافیت، برابری کے حقوق و فوائد، کھلا پن اور شراکت کاری امریکی سائنسی تحقیق کا خاصہ ہیں۔ یہ سب امور کووڈ-19 کے علاج سمیت دنیا کی بڑی بڑی مشکلات کے حل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

جارج ٹاؤن مرکز کے ڈیٹا سائنس کے ڈائریکٹر، ڈیوای مرڈِک نے 16 مارچ کے ایک بیان میں کہا، "یہ قیمتی نیا وسیلہ بے لوث تعاون کا ثمر ہے اور آج کووڈ-19 کے بارے میں اہم سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔”