امریکہ کے 41ویں صدر، جارج ایچ ڈبلیو بش کو خراج عقیدت

امریکہ کے 41ویں صدر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے جارج ایچ ڈبلیو بش 30 نومبر کو 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

وہ امریکی تاریخ میں طویل ترین عمر پانے والے صدر اور مدبر تھے۔ اُن کی پوری عملی زندگی اپنے ملک کی خدمت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ صدر بننے سے قبل انہوں نے بحریہ میں ہواباز سے لے کر سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر اور امریکہ کے نائب صدر کی حیثیتوں سے ملک کی خدمت کی۔

جارج ایچ ڈبلیو بش نے اپنا ہاتھ فضا میں بلند کیا ہوا ہے اور ان کی اہلیہ باربرا بش ان کے برابر کھڑی ہیں۔ (© Wally McNamee/CORBIS/Corbis via Getty Images)
20 جنوری 1989 کو جارج ایچ ڈبلیو بش سے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف لیا جا رہا ہے اور ان کی اہلیہ باربرا ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ (© Wally McNamee/CORBIS/Corbis via Getty Images)

1989 سے لے کر 1993 تک اپنے دورِ صدارت میں جارج ایچ  ڈبلیو بش نے آزادی کے پھیلاؤ اور آزاد منڈی کی معیشت کے فروغ میں مدد کی۔ سرد جنگ میں مغرب غالب آیا اور دیوارِ برلن کو گرا دیا گیا جس کے نتیجے میں جرمنی متحد ہو کر ایک ملک بن گیا۔ انہوں نے نیوکلیئر جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے دو معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

بش کی خارجہ امور سے نمٹنے کی مہارت اُن کی صدارت کا طرہ امتیاز تھی۔ 1990ء میں عراق کے مطلق العنان سربراہ صدام حسین کی فوجوں کے کویت پر حملے کے بعد بش نے بین الاقوامی قانون کی سربلندی کے لیے مختلف ممالک کا ایک موثر اتحاد تشکیل دیا۔ عراقی جارحین پر قابو پانے کے بعد جب 1991ء میں خلیجی جنگ کا خاتمہ ہوا تو ان کی عوامی مقبولیت اونچی سطحوں کو چھونے لگی۔ بعد ازاں 1991ء میں انہوں نے اسرائیلی- فلسطینی امن کے عمل کو بحال کرنے کے لیے میڈرڈ کی امن کانفرنس بلائی۔ وہ اپنے عالمی ہم منصبوں کے ساتھ امن اور خوش حالی کے فروغ کے لیے قریبی طور پر مل کر کام کرتے رہے۔

ملکی سطح پر بش نے کانگریس کے ساتھ مل کر معذوریوں کے حامل امریکیوں اور صاف ہوا کے قوانین پاس کیے جن کا شمار انسانی حقوق اور ماحولیاتی قوانین کے سنگ ہائے میل میں ہوتا ہے۔

انہوں نے امریکہ کے طول و عرض میں رضاکاریت کو فروغ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ " کسی بھی کامیاب زندگی کی تعریف اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں دوسرے لوگوں کی خدمت شامل نہ ہو۔"

خدمت سے بھرپور زندگی

دوسرے لوگوں کی خدمت کرنا ابتدائی عمر سے ہی بش کے مزاج میں شامل تھا۔ اس کا سہرہ  وہ اپنے والدین بالخصوص والدہ کے سر باندھتے تھے۔ وہ اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی خدمت پر زور دیا کرتے تھے۔

بحریہ کے افسر کی حیثیت سے جارج ایچ ڈبلیو بش کی ایک تصویر۔ (MCT/Getty Images)
(© George Bush Presidential Library/MCT/Getty Images)

ریاست میسا چوسٹس کے شہر ملٹن میں 12 جون 1924 کو پیدا ہونے والے جارج ایچ ڈبلیو بش نے دوسری جنگ عظیم کے دوران فوجی خدمات کی خاطر اپنی یونیورسٹی کی تعلیم موخر کر دی۔ جنگ کے دوران بحریہ کے ہوا باز کی حیثیت سے بش نے تارپیڈو مارنے والے بمبار طیارے اڑائے۔ وہ 58 جنگی مہموں پر گئے اور انہیں "ڈسٹنگو اشڈ فلائنگ کراس" [ہوابازی کا امتیازی تمغہ] اور دیگر اعزازات دیئے گئے۔

جنگ کے بعد بش نے باربرا پیئرس سے شادی کی اور ییل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ گریجوایشن کے بعد وہ 1948ء میں اپنی اہلیہ اور کم سن بیٹے کے ساتھ ریاست ٹیکسس منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے تیل کے کاروبار میں نام پیدا کیا۔

خدمت خلق کے ساتھ بش کا لگاؤ ریاست ٹیکسس میں اپنا گھر بسانے کے بعد بھی جاری رہا جس کی جزوی وجہ ان کا ایک خاندانی المیہ تھی۔ بش اور ان کی اہلیہ نے لیکومیا [خون کے سرطان] سے اپنی تین سالہ بیٹی رابن کے انتقال کے بعد کینسر پر کی جانے والی تحقیق میں مدد دینے کے لیے ایک فاؤنڈیشن قائم کی۔

1960 کی دہائی تک تیل کے کاروبار میں بش اپنے پاؤں جما چکے تھے۔ اس مرحلے پر وہ سیاست پر توجہ دینے لگے۔ انہوں نے 1966 سے لے کر 1970 تک امریکی کانگریس میں خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں وہ دو سال تک اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر رہے۔ صدر جیرالڈ فورڈ کے عہد صدارت میں 1974 سے 1975 تک انہوں نے چین میں امریکہ کے سفیر کے طور پر فرائض ادا کیے۔ رونالڈ ریگن نے انہیں اپنے انتخابی ساتھی کے طور پر چنا جس کے نتیجے میں وہ 1981 تا 1989 امریکہ کے نائب صدر کے منصب پر فائز رہے۔

1993ء میں اپنی صدارت کے اختتام کے بعد بش اور اُن کی اہلیہ ہیوسٹن، ٹیکسس لوٹ گئے۔ اپنے بیٹے صدر جارج ڈبلیو بش کی درخواست پر انہوں نے سابقہ صدر بل کلنٹن کے ساتھ  مل کر دسمبر 2004 میں جنوب مشرقی ایشیا میں آنے والے تباہ کن سونامی طوفان اور2005ء میں امریکہ کی خلیجی ساحلی ریاستوں میں آنے والے 'کیتھرینہ' نامی طوفان کے متاثرین کے لیے کیے جانے والے امدادی کاموں کے لیے فنڈ اکٹھے کرنے کا کام کیا۔

 رونالڈ ریگن اور جارج ایچ  ڈبلیو بش سٹیج پر کھڑے ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ (© Corbis via Getty Images)
صدر رونالڈ ریگن اور جارج ایچ ڈبلیو بش، بالترتیب صدر اور نائب صدر کا انتخاب دوبارہ لڑنے کے لیے نامزد کیے جانے پر ری پبلکن پارٹی کے 1984ء کے کنونشن کے دوران۔ (© Corbis via Getty Images)

اکتوبر 2017 میں ٹیکسس، لوزیانا، پورٹو ریکو اور امریکہ کے ورجن جزائر پر آنے والے طوفانوں کے متاثرین کی مدد کرنے کی خاطر بش نے بقید حیات چار امریکی صدور یعنی جمی کارٹر، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور بارک اوباما کا  "ون امیریکا اپیل" نامی تنظیم کے قیام میں ہاتھ بٹایا۔ اس طرح پانچوں صدور نے ٹیکسس میں موسیقی کے ایک کنسرٹ کے دوران سٹیج پر اکٹھے ہوکر امریکیوں پر زور دیا کہ وہ مدد کرنے کی خاطر اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا دیں۔

اپنی اہلیہ باربرا کے اپریل 2017 میں انتقال کے بعد بڑے بش اکیلے رہ گئے۔ انہیں پیار سے "41" کہا جاتا تھا جس کی وجہ ان میں اور ان کے بیٹے جارج (جو امریکہ کے 43ویں صدر تھے  یا "43") کے درمیان تمیز کرنا تھا۔ انہیں ان کی اہلیہ اور ان کی بیٹی روبن کے پہلو میں ریاست ٹیکسس کے مقام کالج سٹیشن میں واقع جارج ایچ ڈبلیو بش صدارتی لائبریری اور میوزیم کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔