امریکیوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سماجی فاصلے سے مطابقت پیدا کر لی

پورے امریکہ کے لوگ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے تخلیقی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔

نئے کورونا وائرس (کووڈ-19) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ”بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز” نے تجویز کیا ہے کہ لوگ بھیڑ سے گریز کریں اور ایک دوسرے سے دو میٹر کے فاصلے پر رہیں۔ اس عمل کو سماجی فاصلے کا نام دیا گیا ہے۔

ذیل میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی ایک دوسرے کو تندرست رہنے میں مدد دینے کے لیے کس طرح اپنے معمولات میں تبدیلی لا رہے ہیں:

خریداری

سٹور کے شیلفوں کے درمیان چلتی ہوئی ایک خاتون۔ (© David Goldman/AP Images)
ایک خریدار خاتون رہوڈ آئی لینڈ کے سٹاب اینڈ شاپ نامی سٹور میں اُن اوقات کے دوران موجود ہے جو کورونا وائرس کے مقابلے میں کمزور افراد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ (© David Goldman/AP Images)

سٹا پ اینڈ شاپ، ٹارگٹ، وال مارٹ اور ہول فوڈز سمیت قومی سطح کے سٹور جلدی کُھل رہے ہیں یا ایسے عمر رسیدہ افراد کے لیے وقت مخصوص کر رہے ہیں جنہیں بیماری سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

18 مارچ کو سٹاپ اینڈ شاپ کے صدر گورڈن ریڈ نے کہا، ”یہ اوقات ایسے گاہکوں کو کم بھیڑ والے ماحول میں خریداری میں مدد دینے کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں جنہیں بیماری لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔”

کام

گھروں کی قطار کے سامنے ایک آدمی اچھل کود رہا ہے۔ (© Andrew Lichtenstein/Corbis/Getty Images)
نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک آدمی اپنے گھر کے سامنے کام کے وقفے کے دوران ورزش کر رہا ہے۔ (© Andrew Lichtenstein/Corbis/Getty Images)

جہاں ممکن ہو سکتا ہے وہاں امریکی اپنے گھروں سے کام کر ہے ہیں۔ سماجی فاصلے پر موجودہ اصرار سے قبل ہی کم و بیش ایک چوتھائی امریکی کارکن کچھ گھنٹوں کے لیے ہی سہی مگر اپنے گھروں سے کام کر رہے تھے۔ اب کمپنیاں اسی بنیاد کو اوپر اٹھا رہی ہیں۔

اتنے سارے امریکیوں کی آن لائن موجودگی کے نتیجے میں حکومت اور نجی اداروں نے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ قریباً 390 براڈ بینڈ اور فون سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں نے آئندہ دو ماہ تک ادائیگی نہ کرنے والے کسی بھی صارف کی سروس معطل نہ کرنے اور تاخیر سے کی جانے والی تمام ادائیگیوں پر جرمانہ ختم کرنے اور ہر ضرورت مند کے لیے اپنے وائی فائی ہاٹ سپاٹس کھلے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

سکول

دو بچے میز کے اردگرد بیٹھے سکول کا کام کر رہے ہیں۔ (© Ross D. Franklin/AP Images)
ایریزونا کے علاقے لاوین میں سکول بند ہونے کے بعد 12 سالہ ٹونی ( دائیں) اور اس کی 9 سالہ بہن گیزل نے کھانے کی میز کو اپنا سکول کا کام کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ (© Ross D. Franklin/AP Images)

پرائمری سکولوں سے یونیورسٹیوں تک طلبہ آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔

بہت سی ریاستوں نے سکول بند کر دیئے ہیں۔ 300 سے زائد کالج اور یونیورسٹیاں بھی بند ہو گئی ہیں۔ مگر آن لائن پلیٹ فارموں اور بالواسطہ درسی آلات کی بدولت بہت سی جگہوں پر تعلیم جاری ہے۔

کھانا پینا

ایک آدمی ریستوران میں بیٹھا فون پر بات کر رہا ہے اور اس کے سامنے کھانوں کے بیگ لے جانے کے لیے تیار پڑے ہیں۔ (© Steve Helber/AP Images)
واشنگٹن میں مارٹن ٹیورن کے مالک اپنے ریستوران میں آن لائن کام کر رہے ہیں جبکہ اُن کے قریب ایک میز پر تیار کھانے لے جانے کے لیے تیار پڑے ہیں۔ (© Steve Helber/AP Images)

لوگوں کو جسمانی طور پر ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھنے کے لیے 40 سے زائد ریاستوں نے ریستورانوں کو اپنی سروس کو گاہکوں کو تیار کھانا خود آ کر اٹھانے یا اُن کے گھروں میں پہنچانے تک محدود کرنے کا کہا ہے۔

سویٹ گرین اینڈ رومنگ رُوسٹر جیسے ریستوران ہسپتالوں اور طبی عملے کو مفت کھانوں کی پیشکش کر کے مدد کے مزید طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ قومی سطح پر پیزا فروخت کرنے والے ‘اینڈ پیزا’ نامی سلسلے نے اپنے ٹویٹ میں ہسپتالوں کے کارکنوں کے لیے مفت پیزا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ہر روز درپیش مسائل کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹنا ہے۔ ہمارا ردعمل بھی یہی ہے۔”

مذہب

ایک پادری خالی چرچ میں کیمرہ نصب کر رہا ہے۔ (© Mark Humphrey/AP Images)
ریاست ٹینیسی کے علاقے برینٹ وڈ میں “برینٹ ہیون کمبرلینڈ پریسبی ٹیرن چرچ” میں پادری کِپ رش عبادت سے پہلے کیمرہ نصب کر رہے ہیں۔ (© Mark Humphrey/AP Images)

گرجا گھر ،مساجد اور کنیسوں سمیت تمام مذاہب کی عبادت گاہیں آن لائن مذہبی خدمات پیش کر رہی ہیں۔

نیشنل کیتھیڈرل کے صدر پادری، مائیکل کری نے ایپی سکوپل نیوز سروس کو بتایا، ” آن لائن یا کسی گرجا گھر کی عمارت میں عبادت کرنے میں جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ جذبے اور سچائی سے خدا کی عبادت کرنا ہے۔” کیتھیڈرل نے دو ہفتوں کے لیے لوگوں کی گرجا گھر میں عبادت کے لیے موجودگی کو معطل کر دیا ہے۔ گرجا گھر کی 108 سالہ تاریخ میں تعمیراتی کام سے ہٹ کر عبادت بند کرنے کا یہ طویل ترین وقفہ ہو گا۔

نیو یارک میں “ٹاؤن اینڈ ولیج سائناگوگ” نامی یہودی عبادت خانے کے ربی، لیری سیبرٹ اور مغنیہ شائنا پوسٹ مین نے آن لائن کہا، ”گو کہ ہم جسمانی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں مگر آئیے ہم سب فون، ای میل اور/یا وڈیو پر ایک دوسرے کے قریب ہونے کے لیے اضافی کوششیں کریں۔”

 

ثقافت

ملک بھر کے عجائب گھر اپنے آرٹ کے مجموعوں کو آن لائن پوسٹ کر رہے ہیں اور لوگوں کی گھر سے بیٹھ کر میوزیم دیکھنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جس کے لیے یہ ہیش ٹیگ #museumfromhome استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہیوسٹن کے ‘ساؤتھ بائی ساؤتھ ویسٹ‘ جیسے موسیقی کے میلے اور تھیٹر براہ راست شو منسوخ کر رہے ہیں۔ تاہم آن لائن پرفارمنس جاری ہے۔ موسیقار اپنے کنسرٹوں کی براہ راست آن لائن سٹریمنگ کر رہے ہیں۔ میٹرو پولیٹن اوپیرا سابقہ شبینہ شوز کو ٹیلی ویژن پر دوبارہ دکھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا، ”ہم ایک نادیدہ دشمن کے خلاف جنگ کی حالت میں ہیں۔ مگر اس دشمن کا امریکیوں کے جذبے اور جرات کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔”