امریکی اختراع پسندوں کا زمینی اور سمندری مسکنوں کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

دھند میں لپٹے جنگل میں ایک عورت اپنے کتے کے ساتھ پیدل چل رہی ہے۔ (© Marcio Jose Sanchez/AP Images)
موسمیاتی تبدیلی سے سان فرانسسکو میں ماؤنٹ ڈیوڈسن جیسے مقبول تفریحی مقامات خطرات سے دوچار ہوگئے ہیں۔ انہیں بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت مدد کر سکتی ہے۔ (© Marcio Jose Sanchez/AP Images)

جب کیلی فورنیا میں ہنٹر کونیل کا کا آبائی شہر 2017 میں جنگل لگنے والی آگ میں جل گیا تو انہوں نے موسمیاتی بحران کو کم کرنے میں مدد کرنے کی ٹھانی۔۔

کونیل اور دیگر امریکی اختراع پسند موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

کونیل ماحولیاتی انجیئر ہیں۔ اُنہوں نے موسمیاتی تبدیلی کی پیشن گوئی کرنے کے لیے ٹیرا فیوز اے آئی کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کی تاکہ جنگلات میں لگنے والی آگ کو سمجھنے کے لیے ضروری وسائل تیار کیے جائیں۔

 انہوں نے روئٹرز کو بتایا، “اکیلے انسانی ذہن اِن تمام قوتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔”

ٹیرا فیوز اے آئی موسمیات کی ٹکنالوجی کی ابھرتی ہوئی مہم میں شامل ہو رہی ہے۔ سافٹ ویئر تیار کرنے والے زمین کو جنگل میں لگنے والی آگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے سے لے کر سمندری مسکنوں کے تحفظ تک زمین کے سنگین مسائل میں سے کچھ  مسائل حل کرنے میں مدد کرنے کے لیے اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

موسمی حالات کو بہتر طور پر سمجھنے سے منصوبہ سازوں کو مستقبل میں جنگل کی کسی بڑی آگ کے لیے تیار  رہنے اور اسے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایک ایسے وقت ان کا سمجھنا ضروری ہو گیا ہے جب  طویل مدتی خشک سالی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید سے شدید تر خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

اکتوبر کے آخر میں کونیل کی کمپنی نے اپنا پہلا مفت، عوامی سطح پر دستیاب ٹول جاری کیا جس کا نام وائلڈ فائر اے آئی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے اس سائٹ پر کیلی فورنیا میں کسی بھی مقام پر جنگل کی آگ کے خطرے کے خدشات کا سکور تیار کرنے کے لیے اس مقام کے درجہ حرارت، ہوا کی رفتار اور زمین کی خشکی کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ کہتی ہے کہ کمپنی امید رکھتی ہے کہ وائلڈ فائر اے آئی کی رسائی کو ریاست [کیلی فورنیا] سے باہر کے علاقوں تک پھیلایا جائے گا اور “سب مقامات کے بارے میں باخبر  فیصلے کرنے میں مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے گی۔”

زمین یا سمندر کے ذریعے

 زمین اور زیر آب پائی جانے والی مونگوں کی چٹانوں کی دو علیحدہ علیحدہ تصویریں۔ © Shutterstock)
فرانسیسی پولی نیشیا کے جزیرہ ہواہینے کے ساحل پر مونگے اور استوائی علاقوں میں پائی جانے والی مچھلیاں۔ © Shutterstock)

بحرالکاہل کی دوسری طرف مصنوعی ذہانت مونگوں کی چٹانوں اور سمندروں کے تحفظ کو متحرک کر رہی ہے۔

امریکی سافٹ ویئر انجنیئر ڈریو گرے نے روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کو بتایا، “ہماری ٹکنالوجی اتنی  باریکی سے مونگوں کی چٹانوں کے ماحول کے حیاتیاتی تنوع کے بارے میں مشاہدے کا موقع فراہم کر رہی ہے جو اس سے پہلے انسانوں کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس کی مثال یوں ہی ہے جیسے ایک سمندری سائنس دان چوبیس گھنٹے سمندر میں بیٹھا مونگوں کی چٹانوں کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ”

فرانسیسی پولینیشیا کے گروپ “کورال گارڈنرز”  نے ہیٹی کے ساحل سے پرے سمندر میں مونگوں کی چٹانوں کی صحت کی نگرانی کرنے کے لیے  ریف او ایس نامی ایک اے آئی پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے ڈیو گرے کی خدمات حاصل کیں۔

کورال گارڈنرز نے چار سال تک موریا میں مونگوں کی چٹانوں کا مطالعہ کیا، ان کی دیکھ بھال کی اور ان کو دوبارہ لگایا۔ تاہم وہ  اس سے کہیں زیادہ آگے جانا چاہتے تھے یعنی وہ مونگوں کی چٹانوں کی صحت کو چشم بخود دیکھنا، جاننا اور مونگوں کی چٹانوں کے ڈیٹا کی نگرانی کرنا چاہتے تھے۔

آپ ریف او ایس میں داخل ہوں تو اس ویب سائٹ کے مطابق اس پلیٹ فارم سے زیرآب کیمروں اور سینسر نیٹ ورک کے ذریعے مچھلیوں کی آبادیوں، سمندری انواع کے حیاتیاتی تنوع، مونگوں کی چٹانوں کی بڑھوتری اور پانی کے درجہ حرارت جیسے عوامل کا ڈیٹا اکٹھا اور اس کا مطالعہ کیا جات ہے۔

اس ڈیٹا سے کورال گارڈنر اور دیگر محققین کی قیمتی سمندری زندگی کے اُن ماحولیاتی نظاموں کو بچانے کی کوششوں میں رہنمائی ملتی ہے جن کا انحصار مونگوں کی چٹانوں پر ہے۔

ڈیو گرے نے اکتوبر میں ایک انٹرویو میں بتایا، “”ہماری پسندیدہ باتوں میں سے ایک بات یہ ہے، ‘اگر آپ کسی چیز کی پیمائش نہیں کر سکتے تو پھر آپ اُس کو بہتر نہیں بنا سکتے’۔ بحالی کے دوران اور اس کے بعد کی اپنی کششوں میں مونگوں کی چٹانوں کی پیمائش کرکے ہم  یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماحولیاتی نظام پر ہمارے کیا اثرات مرتب ہوئے  اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات سے ہم کام کرنے کے اپنے طریقوں کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔”