امریکہ تائیوان کو سب سے زیادہ اشیائے خورد و نوش اور زرعی اجناس برآمد کرتا ہے جس کی وجہ سے اس جزیرہ نما ملک کا شمار امریکہ کی خوراک اور زرعی پیداوار کی 10 چوٹی کی منڈیوں میں ہوتا ہے۔

امریکہ کے محکمہ زراعت کا ایک تجارتی مشن پہلی مرتبہ تے پئے [تائیوان کے دارالحکومت] کے دورے پر گیا۔ اس دورے سے حال ہی میں واپس آنے والے ہوائی میں قائم کوائی کافی کمپنی کے برائن کیوبکی نے بتایا، “جن عام خریداروں سے ہم نے بات کی سب نے امریکی اشیا کے اعلٰی معیار کو سراہا۔”

22 تا 25 اپریل تک تائیوان کا دورہ کرنے والے اس تجارتی مشن میں امریکہ کے 50 زرعی کاروباروں اور کاشتکاری کی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ اِن میں ریاست اوریگن کی “نارتھ ویسٹ ہیزل نٹ کمپنی” [فندق پھل کی کمپنی] کی نمائندگی کرنے والے رِک پیٹرسن نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ” ‘میڈ اِن یو ایس اے’ [امریکہ میں تیار کردہ] کی مہر خریداروں کو اشیا کے اعلٰی معیار کے ہونے کی یقین دہانی کراتی ہے۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ: اس ہفتے امریکی تجارتی مشن کے تے پئے کے دورے کے دوران امریکہ اور تائیوان کی کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان براہ راست نتیجہ خیز ملاقاتیں ہوئیں۔ تائیوان امریکی زرعی برآمدات کی آٹھویں بڑی منڈی ہے اور وہاں کے خریدار امریکہ کو اعلٰی معیار کی زرعی اور اشیائے خورد و نوش کا ایک قابل بھروسہ سپلائر [فراہم کنندہ] سمجھتے ہیں!

تائیوان کو سب سے زیادہ مقدار میں برآمد کی جانے والی زرعی اجناس میں سویا بین، مکئی، گوشت، گندم، اور تازہ پھل شامل ہیں اور 2018ء میں تقریباً چار ارب ڈالر کی زرعی اشیا تائیوان کو برآمد کی گئیں۔

اس کے مقابلے میں امریکہ تائیوان سے تقریباً چالیس کروڑ ڈالر کی زرعی اشیا درآمد کرتا ہے جن میں زیادہ تر باغیچوں میں لگائے جانے والے پودے، سنیک فوڈ، ڈبوں میں بند پھل اور سبزیاں اور مختلف اقسام کی چائے شامل ہوتی ہے۔

امریکی تجارتی مشن کی قیادت کرنے والے امریکی محکمہ زراعت کے کین ایسلی کہتے ہیں، “حالانکہ یہ ایک بالیدہ اور مستحکم منڈی ہے مگر اس کے باوجود گزشتہ برس اس میں 19 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔”

ایسلی کے اندازے کے مطابق چار روزہ دورے کے دوران ہونے والی بالمشافہ ملاقاتوں کے نتیجے میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد کے نئے سودے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہمارے لیے یہ ایک انتہائی مستحکم اور ٹھوس مارکیٹ ہے۔”

‘اچھی کہانی’  والی اشیا

لیزا کلوٹیئر ریاست مونٹینا کی “وسلنگ اینڈی ڈسٹلری” نامی شراب کشید کرنے والی ایک کمپنی کی نمائندہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ تائیوان کے جن خریداروں سے انہوں نے بات کی وہ مونٹینا میں “کھیت سے میز” کے  تحت اگائی والی جو کی فصل سے تیار کی جانے والی الکوحل کی مصنوعات سے حیران ہوتے ہیں۔ “کھیت سے میز” کے تحت اس کمپنی کی وہسکی اور بوربرن [شراب] کی مشینوں کے استعمال کے بغیر ہاتھ سے تیاری میں مقامی طور پر اگائی جانے والی گندم اور رائی استعمال کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تائیوان کے خریدار کھانے کی ایسی اشیا کی تلاش میں ہوتے ہیں جن کے ساتھ کوئی ایسی “عمدہ کہانی جڑی ہو جو صارفین کے ذائقوں سے مطابقت رکھتی ہو۔”

امریکی محکمہ زراعت کے تجارتی مشن برازیل، بھارت، انڈونیشیا، اور جنوبی کوریا کے دوروں پر جا چکے ہیں۔