امریکی امدادی کارکن زلزلے میں بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں

واشنگٹن کے مضافات سے تعلق رکھنے  والے دو فائر کیپٹن اپنے سمارٹ فونوں پر جب زلزلے سے متعلق ‘ایپس’ کو دیکھ  رہے ہوتے ہیں تو وہ یہ کام فرصت کے لمحات گزارنے کے لیے نہیں کر رہے ہوتے۔

ٹریسی ریڈ اور مارک شروڈر کا تعلق امریکہ کے  بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ) کے تلاش اور بچانے والے سکواڈ [عملے] سے ہے۔ یو ایس ایڈ اس عملے کو ہمہ وقت تیار رکھتا ہے تاکہ ان کو ایسے ممالک میں بھیجا جا سکے جو اپنے ہاں آنے والے زلزلوں میں بچ جانے والے افراد کو نکالنے کے لیے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔

فیئر فیکس کاؤنٹی کے فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ [آگ بھُجانے اور امدادی محکمے] اور شہری علاقوں میں امدادی کاروائیوں کی تجربہ کار اور ماہر رکن ریڈ کہتی ہیں، "ہم ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ہم ہر وقت اپنے بیگ تیار رکھتے ہیں۔”

یو ایس ایڈ کے بیرونی ممالک میں آنے والی آفات میں مدد کرنے والے دفتر نے ورجینیا کی فیئر فیکس کاؤنٹی اور کیلی فورنیا کی لاس اینجلیس کاؤنٹی کے آگ بھُجانے والے انتہائی تجربہ کار سکواڈوں کے ساتھ معاہدے کر رکھے ہیں۔ آگ بھُجانے والے یہ محکمے چند گھنٹوں کے اندر اپنے سکواڈوں کو ان کے اوزاروں، سامان رسد اور دیگر آلات سمیت [دنیا میں کہیں بھی] تعینات کرسکتے ہیں۔ اپریل 2015 میں نیپال میں 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے بعد، ان دونوں محکموں نے اپنے [امدادی عملے کے] سکواڈوں کو وہاں تعینات کیا۔ اس زلزلے میں کم و بیش 9,000 انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان سکواڈوں کے عملے کو  ‘یو ایس اے ون’ اور ‘یو ایس اے ٹو’  کے نام دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے نیپالی امدادی ٹیموں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے کھٹمنڈو میں نو منزلہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے پانچ  دنوں  سے دبے 15 سالہ پیمبا لاما تمانگ کو ڈرامائی انداز سے زندہ نکالا۔

خوشی کے نعرے لگانے والے لوگوں کی موجودگی میں جب اس نوجوان کو ملبے سے نکالا گیا تو فیئر فیکس کی طبی امداد کی ٹیم کے سپروائزر، شروڈر نے اس کو طبی امداد پہنچانے میں مدد کی۔ 48 سالہ شروڈر کہتے ہیں، "مجھے جو چیز سب سے زیادہ یاد ہے وہ مجمعے کی بے انتہا مسرت اور خوشی اور جوش تھا۔”

Rescue personnel searching through debris (Master Sergeant Jeremy Lock/USAF)
جاپان میں 2011ء میں آنے والے زلزلے کے بعد فیئرفیکس کاؤنٹی، ورجینیا کے شہروں میں تلاش اور بچانے کے سکواڈ کے ارکان امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ (Master Sergeant Jeremy Lock/USAF)

کھدائی کرنے والے اوزاروں سمیت تلاش کرنے والی امریکی ٹیمیں اپنے ہمراہ ایسے کتے بھی لے کر جاتی ہیں جو ملبے کے اندر گہرائی میں دبے ہوئے لوگوں کی بو سونگھ  کر اُنہیں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ امریکی اپنے ساتھ جو دو کتے لائے تھے انہوں نے تمانگ کو ڈھونڈنے میں مدد کی۔

‘ورجینیا ٹاسک فورس ون’ کی فہرست میں 210 افراد کے نام شامل ہیں۔ ٹاسک فورس ان میں سے 70 کو مشنوں پر بھیجتی ہے۔ ریڈ بتاتی ہیں، "[ہمارا] مقصد ہر پوزیشن کے لیے تین افراد تیار رکھنا ہوتا ہے،” کیونکہ جب ضرورت پیش آتی ہے تو اس وقت ہر کوئی دستیاب نہیں ہوتا۔

ہنگامی حالات کا وفاقی انتظامی ادارہ، ورجینیا ٹاسک فورس ون کو امریکہ کے اندر آنے والی تباہ کاریوں میں بھی امدادی کاروائیوں کے لیے بھجواتا ہے۔ ریڈ کو شمالی اور جنوبی کیرولائنا میں آنے والے سیلابوں میں دو مرتبہ امدادی مشنوں پر بھیجا گیا۔ وہ منگولیا اور آرمینیا میں ہونے والی بین الاقوامی تربیتی مشقوں میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔

40 سالہ ریڈ 16 سال کی عمر میں رضاکارانہ طور پر آگ بھجانے والے عملے میں شامل ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں، "ہم سارا سال مشقیں کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ جس سال ہمیں کہیں نہیں بھیجا جاتا اُس سال ہماری بہت زیادہ مشقیں ہوتی ہیں۔”

شروڈر کو اس کردار پر فخر ہے جو امریکہ اس وقت ادا کرتا ہے جب دوسرے ممالک مدد کی درخواست کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "ہم ایک پیار کرنے والا ملک ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی جب کوئی تباہکن واقعہ ہوتا ہے  …ہم ہمیشہ وہاں موجود ہوتے  ہیں۔”