امریکی اور فرانسیسی رفقائے کار کی کووِڈ-19 کے علاج کی مشترکہ کاوشیں

جے ولیم فلبرائٹ کے بین الاقوامی تبادلے کے پروگرام کے ذریعے ملنے والے دو سائنسدان کووڈ-19 وائرس کا علاج تلاش کرنے خاطر آج کل ستعمال ہونے والی دواؤں میں سے کسی دوا کی عالمی تلاش میں اکٹھے مل کر کام کر رہے ہیں۔

بہار 2015 میں ‘امریکہ فرانس فلبرائٹ ٹوک وِل’ کے نام سے قائم ممتاز تدریسی شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے، بنجمن آر ٹینوور نے شروع میں پیرس کے ‘پاسچر انسٹی ٹیوٹ’ کی تجربہ گاہ میں مارکو وگنوزی کے ساتھ کام کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پیرس ہی میں قائم ‘کوکول نورمیل سپیریئر’ نامی ایک اعلی تعلیمی ادارے میں متعدی بیماریوں کی مکمل تاریخ بھی پڑہاتے رہے۔

فلبرائٹ پروگرام امریکی عوام اور دنیا کے ممالک کے عوام کے مابین باہمی افہام و تفہیم بڑھانے کے لیے امریکی حکومت کا تعلیمی تبادلے کا ایک ممتاز بین الاقوامی کا پروگرام ہے۔

جب ٹینوور امریکہ واپس لوٹے تو انہوں نے اور وگنوزی نے مل کر نیویارک کے ماؤنٹ سینائی کے آئیکان میڈیکل کالج میں “پاسچر-ماؤنٹ سینائی جائنٹ انٹرنیشنل یونٹ” کے نام سے ایک مشترکہ یونٹ تشکیل دیا۔ اس کا مقصد پاسچر اور ماؤنٹ سینائی کا اس نئے یونٹ سے فائدہ اٹھانا تھا۔

اس کے بعد سے دونوں لیبارٹریوں نے زیکا وائرس، چکن گونیا وائرس اور انفلوئنزا پر مل کر کام کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسروں کی تحقیق سے سیکھا اور علاج تلاش کرنے کے لیے یک جان ہو کر کام کیا۔

اب جبکہ دوسرے سائنس دان کووڈ-19 ویکسین تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، ان کے یونٹ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان فرانسسکو کے ‘کوانٹی ٹے ٹیو بائیو سائنسز انسٹی ٹیوٹ کے کورونا وائرس ریسرچ گروپ اور پاسچر انسٹی ٹیوٹ کی شوارٹز لیبارٹری، اور دیگر قومی اور بین الاقوامی لیبارٹریوں کے ساتھ مل کر ایسی دستیاب دوائیں تلاش کر رہے ہیں جو امریکہ کے ‘دواؤں اور خوراک کے ادارے’ سے پہلے ہی سے منظور شدہ ہیں تاکہ اِن سے کووڈ-19 وائرس کی علامات کا علاج کیا جا سکے۔

بائیں تصویر: لیبارٹری کوٹ پہنے تین آدمی۔ دائیں تصویر: لیبارٹری کوٹ پہنے ایک آدمی ہاتھ میں پکڑی کسی چیز کو دیکھتے ہوئے۔ (Courtesy photos)
بائیں: مارکو وگنوزی، پی ایچ ڈی کے بعد زیرتربیت طالبعلم؛ درمیان میں چشمہ پہنے ہوئے، فرڈیننڈ روش؛ اور تحقیقی ٹکنیشیئن، تھامس ویلیٹ۔ دائیں تصویر: بنجمن ٹینوور۔ (Courtesy photos)

ٹینوور نے کہا، “ہم سب ایک ٹیم کی حیثیت سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے کہ اس بحران کی وجہ سے عالمی برادری نے کیسا (ادارہ) تشکیل دیا ہے۔”

دونوں لیبارٹریوں نے اپنی اپنی حکومتوں سے وائرس کے نمونے حاصل کیے۔ انہوں نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ کس طرح وائرس نےخلیوں کو متاثر کیا اور اس انفیکشن کے جواب میں خلیوں کا ردعمل کیا رہا۔ اس جانکاری کے ساتھ وہ یہ معلوم کرنے کے لیے ایف ڈی اے کی پہلے سے منظور کردہ دواؤں کے ٹیسٹ کر رہے ہیں کہ کون سی دوائیں کووڈ- 19 کی علامات کو ختم کرتی ہیں اور کن دواؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

ویگنوزی نے بتایا، “”ہماری ہر لیبارٹری کی ایک خاص مہارت ہے جو دوسری لیبارٹری کی مہارت کی تکمیل کرتی ہے۔ تحقیق میں دوسروں کو شامل کرنے سے دریافت تیزتر ہوجاتی ہے۔”

ایسی دواؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کے ٹیسٹ کرنا ابھی باقی ہے۔ اسی لیے ہمیں پوری دنیا کے لیارٹریوں میں دستیاب لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ کچھ ٹیسٹوں کے نتائج آنے میں 12 گھنٹے تک کا وقت لگتا ہے۔ لہذا دنیا کے کچھ حصوں میں لیبارٹریاں مخصوص قسم کے ٹیسٹ کر سکتی ہیں جبکہ دنیا میں کسی دوسرے جگہ لیبارٹریاں دوسری قسم کے ٹیسٹ شروع کر سکتی ہیں۔

ٹینوور نے کہا، “ہم ایک ٹیم ہیں اور سارے کام اکٹھے مل کر کرتے ہیں۔”

وگنوزی نے کہا کہ اس تحقیق کی بین الاقوامی نوعیت “ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اس سب کے باوجود ہم ایک دنیا ہیں۔ اس عالمگیر وبائی مرض کے دوران لوگوں کو یہ سننے کی بھی ضرورت ہے۔”

ٹینوور نے کہا کہ فلبرائٹ ٹوک وِل شعبے کے ممتاز ایوارڈ نے جس سے میرا وگنوزی کے ساتھ کام کرنے کو ممکن ہوا، “وائرس کی حرکیات کو بہتر سمجھنے کی ہماری صلاحیتوں میں اس حوالے سے حقیقتاً اضافہ کیا کہ وائرس کا مریضوں کے ساتھ تعامل کس طرح ہوتا ہے۔ یہ اتنا واضح تھا کہ ہم نے مل کر بہتر کام کیا اور یہ امریکی اور فرانسیسی سائنس کا ایک بہت بڑا انضمام تھا۔”