امریکی بحریہ میں آلودگی سے پاک توانائی کا استعمال فروغ پذیر

ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے کیسے معدنی ایندھنوں کے استعمال میں کمی کی ہے۔ اب ملک کی طرف سے قابلِ تجدید توانائی کی اب تک سب سے بڑی مقدار کی خریداری کی بدولت، نیوی اور میرین کور کی 14 تنصیبات اپنی بجلی کی ایک تہائی ضروریات ریاست ایریزونا کے صحرا میں نصب شدہ شمسی پینلوں سے پوری کریں گی۔

امریکی بحریہ کے اسسٹنٹ سکریٹری برائے توانائی، تنصیبات اور ماحول، ڈینس مکگن نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا، “آج ہم ایک بٹن دبائیں گے اور [بجلی کے] الیکٹرانز ہماری 14 تنصیبات میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے”۔ مکگن نے یہ بات ایریزونا میں کہی جہاں وہ اس پلانٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

اس سودے کے نتیجے میں امریکی بحریہ 25 برس تک سورج سے پیدا کی جانے والی بجلی ایک ہی قیمت پر شمسی توانائی کی سیمپرا انرجی نامی کمپنی کی ملکیت کے ایک پلانٹ سے خریدے گی۔

مکگن نے کہا، “توانائی کے حصول کا یہ ذریعہ قابلِ اعتماد ہوگا، معدنی ایندھن کی توانائی کے لیے ہم جو قیمت ادا کر رہے ہیں، یہ اس کے مقابلے میں سستا ہوگا، اور اس طرح ان تنصیبات کے لیے ہمارے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا گا۔”

2010ء میں، امریکہ میں شمسی توانائی کی تقسیم کا ایک بھی سولر پارک نہیں تھا۔ اب ایسے 50  پارک موجود ہیں