امریکی تجربہ گاہوں کی توجہ طیاروں، گاڑیوں اور بند جگہوں کو محفوظ بنانے پر مرکوز

چہرے پر ماسک لگائے ایک مسافر خاتون طیارے کے اندر داخل ہو رہی ہے (© David J. Phillip/AP Images)
چہرے پر ماسک لگائے ایک خاتون مسافر 24 مئی کو ہیوسٹن میں طیارے میں داخل ہو رہی ہیں۔ (© David J. Phillip/AP Images)

جدت طرازی کے عالمگیر اشاریے کے مطابق، امریکہ تحقیق و ترقی پر سب سے زیادہ خرچہ کرنے والا ملک ہے۔

نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ایک حالیہ سال میں نصف کھرب ڈالر سے زائد کی رقم تحقیق و ترقی  پر خرچ کرنے کے بعد امریکی تجربہ گاہوں نے اپنی توجہ نئے کورونا وائرس سے درپیش چیلنجوں پر مرکوز کر دی ہے۔ تعلیمی اداروں کے بعد نجی کاروباروں کا تحقیق و ترقی کے کام میں ایک بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔

منی سوٹا یونیورسٹی، بولڈر میں کولوراڈو یونیورسٹی، اور کولمبیا یونیورسٹی کا شمار اُن اداروں میں ہوتا ہے جہاں سائنس دان اُن ذرائع کا جائزہ لے رہے ہیں جن سے عمارتوں کے اندر متعدی بیماریوں کے جراثیم منتقل ہونے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ طیاروں، سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر بند مقامات پر انسانوں کو نقصان پہنچائے بغیر الٹرا وائلٹ روشنی کی وائرسوں کو تباہ کرنے کی صلاحیتوں کے تجربات کر رہے ہیں۔

محفوظ سفر پر مرکوز توجہ

 مسکراتے ہوئے آدمی کی قریب سے لی گئی تصویر (Courtesy of Qingyan Chen)
چِنگ یِن "یان” چن نے پرڈیو یونیورسٹی میں اپنے رفقائے کاروں کے ساتھ مل کر ہوا کی گزران کا ایک ذاتی نظام تیار کیا ہے۔ (Courtesy of Qingyan Chen)

چِنگ یِن "یان” چن ریاست انڈیانا کے شہر ویسٹ لیفی ایٹ میں واقع پرڈیو یونیورسٹی میں میکانکی انجنیئرنگ کے پروفیسر ہیں۔ پروفیسر چن اور اُن کے رفقائے کاروں نے طیاروں کے لیے انفرادی ہوا داری کا ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جس میں مسافروں کی سانس لیتے وقت اُس ہوا سے بچنے میں مدد کی جا سکتی ہے جو اُن کے ساتھی مسافروں کے منہ سے سانس باہر نکالتے وقت خارج ہوتی ہے۔

چن، بند جگہوں پر ہوا کی حرکت اور وائرس کے جراثیموں کے پھیلاؤ کے ماہر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ نظام مسافروں کو  تازہ ہوا سامنے والی سیٹ کے نچلے حصے سے  اُن کے منہ کے سامنے فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ گرم ہوا اوپر کی طرف جاتی ہے  اس لیے خارج ہونے والے سانس کے ساتھ باہر نکلنے والی ہوا کو اندورنی چھت کی سطح پر جمع کر لیا جاتا ہے۔

چن اور اُن کے ساتھیوں کا یہ مفروضہ ہے کہ اس نظام سے کووڈ-19 کے جراثیم آلودہ قطروں کی طیاروں میں ایک مسافر سے دوسرے مسافر کو منتقلی محدود ہو جائے گی۔ اس کے علاہ اس نظام کو بسوں، ٹرینوں، زیرزمین چلنے والی ٹرینوں، سینما ہالوں اور دیگر ایسی جگہوں پر بھی استعمال کیا جا سکے گا جہاں نشستیں فرش پر مستقل طور پر گڑھی ہوتی ہیں۔

چن کہتے ہیں، "مجھے امید ہے کہ مستقبل میں” پانی کو صاف کرنے، ہموار سطحوں کو جراثیموں سے پاک کرنے اور ہوا اور خوراک میں شامل باریک نقصان دہ جراثیموں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ "ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی تمام گاڑیوں میں، ایچ ای پی اے [یعنی اعلی کارکردگی کے ذرات والی ہوا] فراہم کرنے والے فلٹر… اور یو وی سی [الٹرا وائلٹ] لائٹیں بھی لگائی جائیں گیں۔ گاڑیوں میں ہوا کے گزر کا ایسا جدید نظام ہونا چاہیے جو ہر ایک مسافر کو صاف، اور آلودگی سے پاک ہوا فراہم کرے۔”

موجودہ حالات میں سفرکرنے کے گُر

چن کے مطابق آمدورفت کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں کیونکہ طیاروں میں ایچ ای پی اے فلٹر استعمال کیے جاتے ہیں اس لیے ان میں صاف ہوا کا معیار بہتر ہوتا ہے اور طیاروں میں وائرس کے لگنے کی شرحیں کم ہوتی ہیں۔ چونکہ طیاروں میں مسافر ساتھ ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اور بعض حالات میں ایک ساتھ موجود تین قطاروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے اِن کے کسی قریب بیٹھے ہوئے وائرس سے متاثرہ شخص سے وائرس لگنے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ آج کل زیادہ سفر کرنے والوں کے لیے چین کی کچھ سفارشات ہیں۔

اُن کا تمام مسافروں کو یہ مشورہ ہے کہ ماسک پہنیں اور نشستوں اور سیٹ بیلٹوں  یعنی حفاظتی بندوں کو جراثیم کش مادوں سے صاف کر یں۔

 چہرے پر ماسک پہنے ہوئے اور شیلڈ لگائے ہوئے ہوائی جہاز کی نشست پر بیٹھا ایک مسافر اپنی سامنے والی نشست کی پشت کو صاف کر رہا ہے (© Andrew Lichtenstein/Corbis/Getty Images)
8 اگست کو نیویارک سے روانہ ہونے والی ایک پرواز سے قبل ایک مسافر اپنی سامنے والی نشست کی پشت کو صاف کر رہا ہے۔ (© Andrew Lichtenstein/Corbis/Getty Images)