Illustration of a man reading a book with an american flag bookmark.
(State Dept./D. Thompson)

امریکی  مسلسل یہ جاننے کے خواہاں رہتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں کیا ہو رہا ہے اور یہ دلچسپی عالمی ادب میں ان کی بڑھتی ہوئی رغبت سے جھلکتی ہے۔

آن لائن عالمگیر ادبی رسالے 'ورلڈ ود آؤٹ بارڈرز'  [سرحدوں سے ماورا الفاظ] کی ادبی نگران سوسن ہیرس کہتی ہیں "دنیا کے دوسرے حصوں کے بارے میں جاننے کے لیے ادبی تراجم پڑھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا میں ہم بے تحاشا چیزوں کو خالصتاً سیاسی تناظر میں دیکھتے ہیں مگر ادب دوسری ثقافتوں کے حوالے سے افہام و تفہیم، ہمدردی، درد مندی اور قدرشناسی پیدا کرنے کی بہترین راہ ہے۔"

Illustration of book with American flag bookmark (State Dept./D. Thompson)

حالیہ عرصہ میں امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ترجمہ شدہ کتابوں میں کارل اوو ناسگارڈ کی چھ جلدوں پر مشتمل انتہائی نجی نوعیت کی سوانح 'مائی سٹرگل، سٹیگ لارسن کے تحریر کردہ جرائم کی کہانیوں پر پر مشتمل تین ناولوں کا سلسلہ 'میلینئم' جس میں بے حد مقبول 'دی گرل ود ڈریگن ٹیٹو' بھی شامل ہے، رابرٹو بولانو کا میکسیکو کے ایک شاعر کی تلاش سے متعلق لکھا ناول 'دی سیویج ڈیٹیکٹوز اور ایلینا فیرنٹے کے چار 'نیپولیٹن' ناول شامل ہیں۔ ان کا شاہکار ناول 'مائی بریلیئنٹ فرینڈ' بھی اس سلسلے  کا حصہ ہے۔ ایلینا اور لیلا نامی دو دوستوں کی پیکر نگاری نے اس قدر وسیع پیمانے پر مقبولیت پائی کہ حال ہی میں اسے ٹیلی ویژن کی چھوٹی سیریز کے طور پر بھی دکھایا گیا۔

یونیورسٹی آف روچیسٹر میں 'اوپن لیٹر بُکس' کے ناشر اور عالمی ادبی بلاگ 'تھری پرسنٹ' کے بانی چیڈ پوسٹ کا کہنا ہے کہ "یہ کتابیں اپنی ثقافت کا بھرپور اظہار ہیں اور ان میں اسے مخفی رکھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ " مزید برآں پوسٹ کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک سے آنے والے امریکی لکھاریوں جیسا کہ جونوٹ ڈیاز، ایڈویج ڈینٹیکیٹ اور جھپما لہری نے امریکی قارئین میں نامانوس ثقافتوں کے حوالے سے تجسس پیدا کرنے میں مدد دی ہے اور اس طرح غیرملکی ادب کے حوالے سے ان کا ذوق وسیع ہوا ہے۔

دنیا بھر سے کتابوں کو انگریزی میں ترجمہ کرنے والے ادارے 'ایمیزون کراسنگ' کی ادارتی نگران گیبریلا پیج فورٹ کہتی ہیں کہ "رجحان یا کسی ایک صنف سے قطع نظر لوگ ہر طرح کی ترجمہ شدہ کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی کامیابیوں اور ترجمے سے متعلق دیگر کامرانیوں کے تنوع نے یہ ثابت کیا ہے کہ کامیابی کے کوئی خفیہ فارمولے نہیں ہوتے، اس کے بجائے قاری کو ہمیشہ اچھی چیز پڑھنے کو ملنی چاہیے۔"

پوائنٹ ریز سٹیشن کیلیفورنیا میں کتابوں کی دکان 'پوائنٹ ریز بُکس' کے مالک سٹیفن سپارکس کہتے ہیں کہ اچھی کہانیاں ثقافتی فرق، زبانوں اور سیاست سے ماورا ہونے کی اہل ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "قارئین میں دنیا کی وسیع تصویر دیکھنے کی خواہش پائی جاتی ہے اور غیرملکی ادب اس خواہش کو پورا کرتا ہے۔"

پوسٹ کا کہنا ہے کہ انگریزی میں ترجمہ ہونے والی بیشتر غیرملکی کتابوں کا تعلق فرانس، جرمنی اور ہسپانوی زبان بولنے والے ممالک سے ہوتا ہے۔ ان کے بعد اٹلی، جاپان، روس اور پھر سکینڈے نیویا کے ممالک کے ادب ترجمہ ہوتا ہے۔

یہ مضمون فری لانس مصنفہ لنڈا وانگ نے تحریر کیا۔