امریکی سرحدوں سے غیر قانونی عبوریوں میں مسلسل کمی کے آٹھ ماہ

ایک گاڑی اس دیوار کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے جس پر تاریں لگی ہوئی ہیں۔ (© Charlie Riedel/AP Images)
امریکی کسٹمز اور سرحدی تحفظ کے محکمے کی ایک گاڑی سرحدی دیوار کی امریکہ والی طرف گشت کر رہی ہے۔ یہ دیوار امریکی ریاست ایریزونا کو میکسیکو سے جدا کرتی ہے۔ (© Charlie Riedel/AP Images)

امریکہ کے کسٹمز اور سرحدی تحفظ کے محکمے (سی بی پی) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سرحدوں سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل آٹھ مہینوں سے کمی آ رہی ہے اور 2109ء کے مقابلے میں اِن غیر قانونی داخلوں کی تعداد میں 75 فیصد کمی آئی ہے۔

14 فروری کو سرحد پر گشت کرنے والوں کی قومی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "حاصل ہونے والے نتائج ہر لحاظ سے غیرمعمولی ہے۔ ہم غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور کرنے والوں کو حیرت انگیز رفتار سے ملک سے واپس کر رہے ہیں اور یہ واضح کر رہے ہیں کہ اگر آپ قانون توڑیں گے تو آپ کو آپ کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔”

طیارے کے قریب صدر ٹرمپ کی تصویر پر تارکین وطن کے بارے میں چسپاں ان کا بیان۔ (White House/Tia Dufour)

یہ اعداد و شمادر ٹرمپ انتظآمیہ کی غیرقانونی امیگریشن کو روکنے کے بارے میں کی جانے والی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا سرحدی دیوار (کی تعمیر) کو 2020ء تک 640 کلو میٹر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ ابھی تک 200 کلو میٹر نئی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔

سی بی پی کا کہنا ہے کہ غیرقانونی امیگریشن کو روکنے کے علاوہ اس نے 2019ء میں ریکارڈ تعداد میں منشیات پکڑی ہیں۔ جنوری 2020 میں سی بی پی نے ملک بھر میں لگ بھگ 24,500 کلو گرام منشیات پکڑیں۔ اِن میں سے 92 فیصد سے زائد امریکہ کی جنوب مغربی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں سے پکڑی گئیں۔

سی بی پی نے امریکہ کی جنوب مغربی سرحد پر تاریخ کی سب سے لمبی سرنگ کا بھی پتہ چلایا اور اسے بند کیا۔ یہ سرنگ سی بی پی کے بند کرنے سے پہلے منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

ٹرمپ نے کہا، "انتظامیہ کے میرے دور میں ہمیں یہ علم ہے کہ سرحدی سلامتی، قومی سلامتی ہے۔”