امریکی شراکت کاروں کی وینیز ویلا کے پناہ گزینوں اور اُن کے میزبان ممالک کی مدد

ایک کیشیئر خاتون گاہک سے پیسے لینے سے پہلے خریدی گئی چیز کو سکین کر رہی ہے (© ADRA)
اے ڈی آر اے کی روزگار کے حصول میں مدد کی وجہ سے وینیز ویلا کی یہ مہاجر خاتون برازیل میں ایک بیکری میں کام کرتی ہے۔ (© ADRA)

غربت، سیاسی جبر اور مادورو کی غیرقانونی حکومت کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمرتوڑ افراط زر کی وجہ سے اپنے ملک سے بھاگ کر جانے والے وینیز ویلا کے شہری اپنی مدد آپ کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ نئے ممالک میں بے گھر ہونے والے وینیز ویلا کے شہریوں کی نئی زندگی شروع کرنے میں مدد کرنے کی خاطر غیرسرکاری تنظیموں کو رقومات فراہم کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2015ء میں اس انسانی بحران کے شروع ہونے سے لے کر اب تک وینیز ویلا کے 51 لاکھ شہری اپنا ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر جنوبی امریکہ کے ممالک میں گئے ہیں۔ اِن ممالک میں کولمبیا، پیرو، ایکویڈور اور برازیل شامل ہیں۔

اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی ایک ماں (© ADRA)
وینیز ویلا سے تعلق رکھنے والی یہ ماں مناؤس، برازیل میں آئس کریم کی ایک دکان پر کام کرتی ہے۔ (© ADRA)

"ایڈوانٹسٹ ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف ایجنسی (اے ڈی آر اے) انٹرنیشنل” اور امریکہ کا بین الااقوامی ترقیاتی ادارہ (یو ایس ایڈ) اکٹھے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس اشتراک سے برازیل میں وینیز ویلا کے شہریوں کو پیشہ ورانہ مواقعوں کے لیے روابط میں مدد ملتی ہے۔ جون 2019 سے لے کر آج تک اے ڈی آر اے انٹرنیشنل 1,100 سے زائد افراد یا تقریباً 403 گھرانوں کی سوان نامی اپنے "آبادکاری، واش، اور خوراک کے علاوہ دیگر امداد” کے پروگرام کے ذریعنے مدد کر چکی ہے۔ (واش "پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت” کے انگریزی الفاظ کا مخفف ہے۔)

اے ڈی آر اے کی پروگرام مینیجر ہیلینا سوڈرز نے بتایا، "اے ڈی آر اے وینیز ویلا کے شہریوں کی جس قسم کا بھی روزگار دستیاب ہو اُسے تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ابھی تک ہم اُن کی کلرکوں، عام کام کرنے والے اسسٹنٹوں، صنعت سازی کے مزدوروں، شیلفوں پر سامان لگانے والوں، دکانوں میں اسسٹنٹوں، ٹرکوں پر سامان لادنے والے اسسٹنٹوں، فرنیچر جوڑنے والوں، درزنوں، نان بائیوں کے اسسٹنٹوں، اور دیگر اقسام کی ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کر چکے ہیں۔”

کولمبیا اور پیرو میں امریکہ کے محکمہ خارجہ اور یو ایس ایڈ کے شراکت کار بھی اپنے ہاں وینیز ویلا کے پناہ گزینوں کی اسی طرح کی مدد کر رہے ہیں۔

پیرو میں محکمہ خارجہ کا آبادی، پناہ گزینوں اور مہاجرت کا دفتر، کوآپریٹو اسسٹنس فار ریلیف ایوری ویئر، آر ای ٹی انٹرنیشنل اور نارویجیئن ریفیوجی کونسل کو تقریباً چار ملین ڈالر کی رقم فراہم کر چکا ہے۔ مذکورہ ادارے پیرو میں موجود وینیز ویلا کے پناہ گزینوں کو صحت کی سہولتیں اور گزر بسر کی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔

اور کولمبیا میں جہاں بے گھر ہونے والے وینیز ویلا کے 18 لاکھ شہری رہ رہے ہیں، محکمہ خارجہ کا شراکت کار پناہ گزینوں کا ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر) اپنے شراکت کاروں کے تعاون سے چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لیے میڈا این کے شہر میں وینیز ویلا کے شہریوں کو تربیتی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے گریجوایشن ماڈل اور نقد پیسوں کی شکل میں وینیز ویلا کے 4,300 کمزور ترین شہریوں اور مہاجرین کو مالیاتی انتظام کاری، اکاؤنٹنگ، قانونی رجسٹریشن، اور مارکیٹنگ کے شعبوں کے بارے میں تربیت دی جائے گی۔ اِن شعبوں میں مہارتوں کی تربیت کے علاوہ وہ یا تو اپنے کاروبار شروع کر سکتے ہیں یا اسی علاقے میں ملازمت تلاش کر سکتے ہیں۔

لزبیتھ مارکانو اپنے شوہر کے ہمراہ 2018ء میں ہجرت کرکے میڈی این آئی تاکہ وہ اپنے شوہر کا علاج کرا سکے جو ایک حادثے میں شدید زخمی ہوا تھا۔ لیزبیتھ ایک سابقہ ٹیچر ہے۔ اسے میڈی این میں کوئی مستقل کام ڈھونڈنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس نے کئی ایک چھوٹے چھوٹے کام کر کے ہر مہینے 40 ڈالر بچانے شروع کیے حالانکہ سر پر چھت اور کھانے پینے پر 250 ڈالر کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس گھرانے نے اپنی بچتیں جمع کرکے ایک بیکری کھولی۔ مگر کووڈ-19 کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈآؤن سے انہیں بہت نقصان ہوا اور انہوں نے اپنی بیکری بند کر دی۔ یو این ایچ سی آر کے پروگرام کے ذریعے انہیں بیکری کے لیے سامان خریدنے کے لیے امداد ملی اور انہوں نے اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر دیا۔

لیزبیتھ نے کہا، "اس سہارے کی وجہ سے ہمیں خواب دیکھنے کا ایک ذریعہ میسر آ گیا ہے۔”