امریکی صحافی کا ‘جرم’: ایران میں روزمرہ زندگی کے بارے میں لکھنا

جاسوس ٹھہرائے جانے اور صحافی کے طور پر اپنے فرائض انجاام دینے کی پاداش میں سزائے موت کے خطرے کا سامنا کرنے والے واشنگٹن پوسٹ اخبار کے بیرون ملک نمائندے، جیسن رضائیان ایران کی اوین جیل میں اپنی 18 ماہ کی قید کے دوران اٹھائی جانے والی اذیت کے ڈراؤنے خوابوں سے ابھی تک باہر نہیں آ پائے۔

42 سالہ رضائیان اپنی نئی سرگزشت ”قیدی: ایرانی جیل میں میرے 544 دن” میں بتاتے ہیں کہ جولائی 2014 میں انہیں ان کی ایرانی اہلیہ اور ساتھی صحافی یگانے صالحی کے ساتھ بندوق کی نوک پر گرفتار کر کے قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔

صالحی کو 72 دنوں کے بعد رہا کیا گیا۔ رضائیاں بتاتے  ہیں، ایک جعلی مقدمے میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی جس نے بہت جلد “آرویل کے بیان کردہ ڈراؤنے خواب” کی صورت اختیار کر لی۔ ایرانی انٹیلی جنس سروس کے تفتیش کار سازشی کہانیاں گھڑتے اور انہیں سزائے موت یا جسم کے ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

وہ کہتے ہیں ”یہ صورت حال دن بدن بیہودہ سے بیہودہ تر  ہوتی چلی گئی۔ میں اسلامی جمہوریہ کے ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرا۔”

کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والے رضائیان اپنے تارک وطن والد کی وساطت سے ایرانی شہری بھی تھے۔ بالاآخر 2016 میں قیدیوں کے تبادلے میں ان کی رہائی عمل میں آئی۔

ان کے لیے یہ بات تکلیف دہ ہے کہ دیگر امریکی بے بنیاد الزامات میں بدستور ایرانی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی گریجوایٹ طالب علم ژی یو وانگ بھی ہیں جو اپنی گرفتاری کے وقت ایران میں تاریخی تحقیق کر رہے تھے۔ ژی کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے 10 سال قید کی سزا دے کر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کے ریٹائرڈ ایجنٹ، رابرٹ لیونسن قریباً 12 برس قبل ایران کے دورے کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔ امریکہ میں قانونی طور پر رہائش پذیر، نزار ذکا کو روحانی حکومت کی جانب سے خواتین اور پائیدار ترقی پر کانفرنس میں خطاب کے لیے بلا کر گرفتار کر لیا گیا۔

رضائیان لکھتے ہیں، ”ہر نئی مضحکہ خیز گرفتاری ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ 40 سال پہلے جب اس حکومت کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت بھی لوگوں کو یرغمال بنانا اس کا طرہ امتیاز تھا۔”

ان کا اشارہ اُن 52 امریکی سفارت کاروں کی جانب ہے جنہیں نومبر 1979 میں بنیاد پرستوں کی جانب سے امریکی سفارت خانے پر یلغار کے بعد 444 روز تک یرغمال بنائے رکھا گیا۔

رضائیان تفصیل بتاتے  ہوئے کہتے ہیں کہ گرفتار کرنے والوں نے ان کے ساتھ تواتر سے جھوٹ بولا اور انہیں پھانسنے کی کوشش کی۔ بلکہ انہوں نے امریکی ثقافت کے لیے بھی اپنی پسندیدگی کے سلسلے میں دغابازی سے کام لیا۔ تفتیش کاروں کا سربراہ چاہتا تھا کہ رضائیان ایون جیل سے رہائی کے بعد لازمی طور پر جو کتاب لکھیں گے اس پر ہالی وڈ میں بننے والی فلم میں ول سمتھ اس کا کردار ادا کریں۔

رضائیان کے مرحوم والد طاغی رضائیان 1959 میں کالج میں تعلیم کے لیے ایران سے امریکہ آئے۔ یہاں ان کی ملاقات اپنی ہونے والی اہلیہ میری بریم سے ہوئی۔ وہ ایرانی قالینوں کا کاروبار کرتے تھے۔ جیسن کی والدہ، اہلیہ، بھائی علی اور واشنگٹن پوسٹ کے مدیر اور ناشر نے انتھک انداز سے جیسن کی رہائی کی مہم چلائی۔

جس طرح انہیں گرفتار کرنے والے امریکی ثقافت کے گرویدہ تھے اسی طرح رضائیان بھی اپنے والد کے آبائی وطن کے دلدادہ تھے۔ اسی بات نے انہیں 2009 میں فری لانس صحافی کے طور پر ایران منتقل ہونے کی ترغیب دی اور پھر وہ 2012 میں تہران میں روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے بیورو چیف بن گئے۔ انہوں نے ناصرف سیاسی امور بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کے بارے میں بھی لکھا۔

قید کرنے والوں کی طرف سے آزادی کے بدلے ‘اعتراف جرم’ کے مطالبات پر وہ ایک ہی جواب تواتر سے دیتے رہے، ” واشنگٹن پوسٹ کے سوا میں کسی کا ایجنٹ نہیں ہوں۔”

واشنگٹن پوسٹ میں غیرملکی امور کے کالم نگار ڈیوڈ اگنی شیئس نے بعد ازاں رضائیان کو بتایا، ”ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ نے ایران کو ایک مثالی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ … آپ اس کی ثقافت کا چرچا کرکے خوش ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔”

اور آج یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں رضائیان اور ان کی اہلیہ واپس نہیں جا سکتے۔