سوزن بی انتھونی، لوکریشیا موٹ اور ایلزبتھ کیڈی سٹنٹن نے اپنی زندگیاں عورتوں کے حق رائے دہی یعنی امریکہ میں عورتوں کے لیے ووٹ دینے کے قانونی حق کے لیے، وقف کردیں۔

1872 میں اپنے گرفتاری کے بعد ایک تقریر میں انتھونی نے کہا، “ایسے میں عورتوں سے آزادی کی نعمت سے لطف اندوز ہونے کی بات کرنا سراسر ایک مذاق ہے جب انہیں اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لیے عوامی جمہوری حکومت کی طرف سے دیئے گئے حق یعنی ووٹ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔”

امریکی مجسمہ ساز ایڈیلیڈ جانسن نے ایک صدی قبل اس جدوجہد کی صورت گری سنگ مرمر سے تیار کردہ تین عورتوں کے ایک مشترکہ مجسمے کی شکل میں کی۔ اِس کا نام یادگاری مجسمہ: لوکریشیا موٹ، ایلزبتھ کیڈی سٹنٹن اور سوزن بی انتھونی ہے۔ اِس میں حق رائے دہی کی اُن حامیوں کو دکھایا گیا ہے جنہوں نے اُس تحریک کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 19ویں ترمیم کے تحت 1920ء میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا۔

19ویں ترمیم کی منظوری کے بعد آنے والے سال میں اِس مجسمے کی نقاب کشائی امریکی کانگریس کی عمارت کے مرکزی گنبد میں کی گئی۔ اس کے فوراً بعد اسے گنبد کے نیچے تہہ خانے میں واقع “کیپیٹل کرِپٹ” نامی ستونوں والے ایک گول کمرے میں منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی نمائش 75 برس تک جاری رہی۔ 1996 میں اسے دوبارہ اس کے اصلی مقام یعنی مرکزی گنبد کی پہلی منزل پر نصب کر دیا گیا۔ وہاں یہ مجسمہ آنے والوں کو عورتوں کی رائے دہی کے بارے میں آگاہی فراہم کر رہا ہے۔

تین عورتوں کے مجسموں کی قریب سے لی گئی ایک تصویر۔ (Architect of the Capitol)
ایڈیلیڈ جانسن کا یادگاری مجسمہ: لوکریشیا موٹ، ایلزبتھ کیڈی سٹنٹن اور سوزن بی انتھونی۔ (Architect of the Capitol)

کانگریس کی یو ایس کیپیٹل کہلانے والی عمارت کے طرز تعمیر کی منتظم، مشیل کوہین کہتی ہیں، “کیونکہ متنوع پسہائے منظر کی حامل خواتین سرکاری عہدوں کے لیے منتخب ہوتی جا رہی ہیں اور ہمارے قومی منظر نامے پر روز افزوں شہرت حاصل کر رہی ہیں اس لیے یو ایس کیپیٹل کی عمارت معاشرے میں عورتوں کے بدلتے ہوئے کردار کی عکاسی کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔”

انتھونی ریاست میسا چوسٹس کے شہر ایڈمز میں 200 سال قبل، 15 فروری کو پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ترقی پسند ماحول میں بڑی ہوئیں۔ اُن کے والد فریڈرک ڈگلس کے دوست تھے۔ مختلف قسم کی پابندیوں کے خاتمے کی حامی ہونے کے ناطے سینیکا فالز، نیویارک کے 1848 کے کنونشن میں اپنے خاندان کی شرکت کے بعد وہ عورتوں کے حق رائے دہی (کے مطالبے) سے متاثر ہوئیں۔

سینیکا فالز کے کنونشن میں پہلی مرتبہ لوگوں کا ایک گروپ عورتوں کے حق رائے دہی پر بحث مباحثہ کرنے کے لیے باضابطہ طور پر اکٹھا ہوا۔ موٹ نے جو (عیسائی فرقے) کوئیکر کی مبلغہ تھیں اس کنونشن کا اہتمام کیا۔ کنونشن سے قبل اور بعد میں انہوں نے عورتوں کے لیے تعلیم اور کام کرنے کی جگہ پر مساوات کے حق میں بات کی۔

اس کنونشن کے تین سال بعد انتھونی کی ملاقات سٹنٹن سے ہوئی اور دونوں اس نصب العین کی وجہ سے ایک بندھن میں بندھ گئیں۔ اُن کی دوستی اور عورتوں کے ووٹ دینے کے حق کی حمایت تاحیات قائم رہی۔

اگرچہ تینوں خواتین 1920ء میں انیسویں ترمیم کی منظوری سے قبل انتقال کر گئیں تاہم اُن کا ورثہ آج بھی عورتوں کے جمہوریتوں میں ووٹروں اور منتخب ہونے والی خواتین کی شکل میں شرکت کی صورت میں زندہ و جاوید ہے۔

سنگ مرمر کے مجسمے کے اردگرد بینر اٹھائے لوگ جمع ہیں۔ (Architect of the Capitol)
ایڈیلیڈ جانسن کے سٹنٹن، انتھونی اور موٹ کے مشترکہ مجسمے کی 15 فروری 1921 کو یو ایس کیپیٹل میں نقاب کشائی کی گئی۔ (Architect of the Capitol)