جب ریاست نیبراسکا کے شہر اوماہا میں ایک ربی اور ایک امام نے اپنی مشترکہ اقدار کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو سوال پیدا ہوا کہ وہ لوگوں میں اِن اقدار کا اظہار کس طرح قریبی طور پر ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے کر سکتے ہیں۔

جلد ہی انہوں نے عیسائیوں کو بھی اپنی گفتگو میں  شامل کر لیا۔

اس کا نتیجہ ایک ایسے ‘ ٹرائی فیتھ انشی ایٹو‘ یعنی سہ مذہبی ابتدائیے کی شکل میں سامنا آیا جو عیسائیت، اسلام اور یہودیت کو متحدہ کرتا ہے۔ آج 15 ہیکٹر پر تین عبادت گاہیں —   یعنی ایک گرجا گھر، ایک مسجد اور ایک کنیسا —  ایک ہی جگہ موجود  ہیں۔

ٹرائی فیتھ انشی ایٹو کی قائم مقام ڈائریکٹر وینڈی گولڈ برگ کہتی ہیں، “لوگوں کو ایک نئی قسم کی بامعنی کمیونٹی کی تلاش ہے۔” اُن کا کہنا ہے کہ ٹرائی فیتھ کا ماڈل اجتماعی نتائج کے لیے “اہم مذہبی کمیونٹیوں کی حیثیت سے تمام مذاہب کو اُن کے حق کے مطابق اوپر اٹھانے کا ایک طریقہ ہے۔”

خواب کی تعبیر

خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے ایک آدمی کی تصویر۔ اس کے ساتھ باہر پیدل چلنے کے لیے ترچھا پل۔ (© Tri-Faith Initiative)
بائیں: مسلم انسٹی ٹیوٹ کے اندر امام جمال داوودی مہمانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ دائیں: ابراہیم پُل، ٹرائی فیتھ انشی ایٹو کے تحت تینوں مذاہب کی عبادت گاہوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اتفاق سے یہ پل “ہیل کریک” (جہنمی ندی) پر بنایا گیا ہے۔ (© Tri-Faith Initiative)

2006ء میں ایک غیر منفعتی ادارے کے طور پر رجسٹر کروانے کے بعد اس گروپ نے ایک ہی جگہ پر کئی ایک عبادت گاہوں کی تعمیر کے لے زمین خریدی۔ 13 سال کی محنت کے بعد اس منصوبے نے حقیقت کا روپ دھارا۔

ٹمپل اسرائیل 2013ء میں وجود میں آیا جب کہ امریکن مسلم انسٹی ٹیوٹ 2017ء میں اور کنٹری سائڈ کمیونٹی چرچ 2019ء میں تعمیر کیا گیا۔

ہمدردی کا فروغ

مسجد کی تصویر کے ساتھ کمرے میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے لوگوں کی تصویر۔ (© Tri-Faith Initiative)
بائیں تصویر میں: لوگ امریکن مسلم انسٹی ٹیوٹ کی طرف جا رہے ہیں۔ دائیں تصویر میں “ابراہیم: بہت سوں میں سے ایک” نامی آرٹ کی ایک نمائش میں لوگوں کے درمیان موجود: بائیں طرف کھڑے امام جمال داوودی، اور درمیان میں بیٹھے ہوئے ربی آریا ایزرائیل۔ (© Tri-Faith Initiative)

تنوع کی خوشی، نظریے کی حدوں سے کہیں آگے تک جاتی ہے۔ گولڈ برگ کہتی ہیں کہ مشترکہ آرٹ، موسیقی، کھانوں اور تہواروں سے باہمی مفاہمت پیدا ہوتی ہے۔

اس انشی ایٹو کے تحت پروگرام چار زمروں میں ترتیب دیئے جاتے ہیں: یعنی جمع ہونا، سیکھنا، خدمت کرنا اور کام کرنا۔ اِن پروگراموں کے دائرہ کار  میں مذہبی آزادی کی حفاظت اور غربت کا خاتمہ شامل ہیں۔

روزمرہ  ایک دوسرے کے قریب عبادت کرنے اور مل کر کام کرنے سے غلط فہمی کی رکاوٹیں دور ہوتی ہیں اور مختلف پسہائے منظر کے حامل دیگر افراد کے ساتھ ہمدری فروغ  پاتی ہے۔

گولڈ برگ کا کہنا ہے، ” ہمارے لیے حقیقی معنوں میں لوگوں کی یہ سمجھنے میں مدد کرنے کا مثبت انداز سے اٹھ کھڑے ہونے کا ایک موقع ہے کہ مذہبی تنوع ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی خوشی منائی جانا چاہیے۔”