1975ء میں منظور کیے جانے والے ایک قانون کے تحت عورتوں کو فوجی اکیڈمیوں میں داخلوں کی اجازت ملی۔ اس سے قبل اِن اکیڈمیوں میں صرف مردوں کو داخلے دیئے جاتے تھے۔ 1980ء میں پہلی مرتبہ عورتوں نے اکیڈمیوں سے گریجوایشن مکمل کی۔
1975ء میں منظور کیے جانے والے ایک قانون کے تحت عورتوں کو فوجی اکیڈمیوں میں داخلوں کی اجازت ملی۔ اس سے قبل اِن اکیڈمیوں میں صرف مردوں کو داخلے دیئے جاتے تھے۔ 1980ء میں پہلی مرتبہ عورتوں نے اکیڈمیوں سے گریجوایشن مکمل کی۔

اس سال امریکہ کی فضائی فوج کی اکیڈمی، امریکہ کی بحری فوج کی اکیڈمی اور ویسٹ پوائنٹ میں امریکہ کی بری فوج کی اکیڈمی سے گریجوایٹ ہونے والی پہلی خواتین کی گریجوایشن کی چالیسویں سالگرہ ہے۔

1975ء میں تب کے صدر جیرالڈ آر فورڈ نے قانون نمبر 94- 106 پر دستخط کیے۔ اس قانون میں یہ کہا گیا تھا کہ عورتوں کو  فوجی اکیڈمیوں میں داخلے دیئے جائیں کیونکہ (اُس وقت تک) صرف مردوں کو فوجی اکیڈمیوں میں داخلے دیئے جاتے تھے۔ عورتوں کی پہلی کلاس 1976ء کے موسم گرما میں شروع ہوئی اور 1980ء کے موسم بہار میں انہوں نے اکیڈمیوں سے گریجوایشن کی۔

 مسکراتی ہوئی خاتون کی قریب سے لی گئی تصویر (Courtesy of Sue Fulton)
سوُ فلٹن کو 2011ء میں صدر باراک اوباما نے ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی کے مہمانون کے بورڈ کا رکن مقرر کیا۔ (Courtesy of Sue Fulton)سوُ فلٹن انہی میں سے ایک تھیں۔

فلٹن نے بتایا، "میرے لیے ویسٹ پوائنٹ کا چیلنج انتہائی ولولہ انگیز تھا یعنی ایک ایسی سطح کا چیلنج جس کے بارے میں میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ میرا اپنے ملک کی خدمت کرنے کا تصور بہت زیادہ نظریاتی تھا اور فوج میں اپنے ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملنے پر میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔”

فلٹن کو فوج کی سگنل کور میں سیکنڈ لیفٹننٹ کے عہدے پر کمشن ملا۔ انہوں نے اپنی فوجی زندگی کا آغاز جرمنی سے کیا۔ انہوں نے فوج میں آٹھ سال خدمات انجام دیں۔ 1986ء میں اُن کو اُس وقت فوج چھوڑنا پڑی جب اُنہیں اُس وقت کی فوجی پالیسی کے تحت ہم جنس پرست خاتون ہونے کی حیثیت سے فوج میں رہنے کی اجازت نہ ملی۔

فلٹن نے بتایا، "میرا گریجوایشن کا دن انتہائی رقت آمیز، تلخ و شیریں اور حیرت انگیز طور پر اتنا زیادہ جذباتی تھا کہ جس کے بارے میں میں نے گزرے ہوئے برسوں میں کبھی سوچا بھی نہ تھا کیونکہ اس سے میں خوشی کے مارے مبہوت ہو کر رہ گئی۔ ذہن میں یہ احساس تھا کہ میں نے وہ کام کر دکھائے جن کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں انہیں کرنے کی اہل ہوں، بلکہ اس سے بھی بڑھکر ذہن کے کسی کونے میں یہ احساس تھا کہ ہم نے دنیا کو تبدیل کر دیا ہے۔”