Solar panels at a railway station (USAID PACE-D TA Program)
نئی دہلی کے ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارموں کی چھتوں پر لگے ہوئے شمسی پینل۔ (USAID PACE-D TA Program)

نئی دہلی ریلوے سٹیشن کے 16 پلیٹ فارموں پر روزانہ آنے والی 400 ٹرینوں کو توانائی مہیا کرنے کے لیے سورج سے مدد لی جاتی ہے۔

امریکی کمپنی ' نیکسنٹ ' سے وابستہ توانائی کے ماہر میتھیو مینڈس کہتے ہیں، "یہ ریلوے سٹیشن اب اپنی صاف توانائی خود پیدا کر رہے ہیں جس سے ناصرف بجلی کے اخراجات میں بچت ہو رہی ہے بلکہ کاربن گیس کے کم از کم اخراج کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔"امریکہ اور بھارت کی معاونت سے ان کی کمپنی نے اس منصوبے کے تحت ریلوے سٹیشن کی چھتوں پر شمسی پینل نصب کرنے میں مدد کی ہے۔

آج بھارت میں کم از کم 800 ریلوے سٹیشنوں پرصاف توانائی پیدا کرنے کے لیے دھوپ پر انحصار کیا جاتا ہے۔ بھارتی ریلوے کے لیے یہ ایک نعمت ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کا ریلوے کا نظام ایشیا میں سب سے بڑا ہے اور یہ روزانہ کم و بیش دو کروڑ تیس لاکھ افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا ہے۔ یہ تعداد آسٹریلیا کی پوری آبادی کے لگ بھگ  ہے۔

بھارتی ریلوے پہلے ہی ملک میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا ادارہ ہے۔ آنے والے برسوں میں اس کے صارفین اور اس کے دیگر شعبوں میں بجلی کی طلب میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ درحقیقت 2050 تک بھارت میں توانائی کی مجموعی طلب میں 250 فیصد کا اضافہ متوقع ہے کیونکہ بھارت اپنے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے اور زندگی کے معیار بلند ہوتے جا رہے ہیں۔

Train at railway station with solar panels over platform (USAID PACE-D TA Program)
نئی دہلی ریلوے سٹیشن کے ایک پلیٹ فارم کی چھت پر لگے ہوئے شمسی پینل۔ (USAID PACE-D TA Program)

نئی دہلی سٹیشن کا منصوبہ صاف توانائی کے ایک چھ سالہ بڑے پروگرام کا حصہ تھا۔ اس منصوبے کا آغاز 2012ء میں بھارت، عالمی ترقی کے امریکی ادارے (یوایس ایڈ) اور امریکی دفتر خارجہ نے کیا۔

'صاف توانائی کے پھیلاؤ میں تکنیکی معاونت بڑھانے کی شراکت' یا (پی اے سی ای- ڈی  ٹی اے) نامی یہ پروگرام اب مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے تحت بھارت میں صاف توانائی کے شعبے میں 79 کروڑ 30 لاکھ  ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری آئی اور چھتوں پر 225 میگاواٹ کے شمسی پینل نصب کیے گئے۔ بجلی کی یہ مقدار بھارت میں تین لاکھ تیس ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس پروگرام کے تحت 6000 سے زیادہ انجینئروں کو بھی تربیت دی گئی جو اب بھارت بھر میں 'چھتوں پر لگائے جانے والے پینل'  اور 'سمارٹ گرڈ' نصب کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مینڈس کہتے ہیں، "اگرچہ 'پی اے سی ای- ڈی  ٹی اے' پروگرام مئی 2018 میں ختم ہو گیا تھا تاہم اس کے ثمرات جاری ہیں۔"

ایک پائیدار شراکت

'پی اے سی ای- ڈی  ٹی اے' پروگرام کے انتظام میں مدد دینے والے یوایس ایڈ کے ماہرِ توانائی، انوراگ مشرا کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنی معیشت کو سالانہ 8 فیصد تک ترقی دینے کی ضرورت ہے "تاکہ ہر ماہ افرادی قوت کا حصہ بننے والے دس لاکھ نوجوانوں کے لیے جگہ بنائی جا سکے اور تیس کروڑ افراد کو انتہائی غربت سے نکالا جا سکے۔"

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تیزتر معاشی ترقی کا انحصار توانائی کے تحفظ اور ایسے ممالک کے ساتھ مضبوط اور قابل اعتبار شراکتوں پر ہے جو بھارت کی توانائی سے متعلق ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔

مشرا کا کہنا ہے جیسا کہ پی اے سی ای- ڈی ٹی اے' پروگرام سے ظاہر ہے "امریکہ کے پاس بھارت کی توانائی سے متعلق حکمت عملی اور قابل تجدید توانائی کے حوالے سے اس کے انتہائی پرعزم اہداف کی تکمیل میں معاونت کے لیے توانائی کے وسائل، ٹیکنالوجی اور مہارتیں موجود ہیں۔"