امریکی مسلمان حلال کھانوں پر اعتماد کر سکتے ہیں

ماہ رمضان کے دوران افطاری کے وقت کھانوں تک پہنچتے ہوئے ہاتھ۔ (© Boontoom Sae-Kor/Shutterstock)
ماہ رمضان کے دوران افطاری میں لوگ مختلف کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ (© Boontoom Sae-Kor/Shutterstock)

امریکہ بھر میں ماہ رمضان کے دوران روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو افطار کے وقت اور باقیماندہ سارا سال آسانی سے حلال کھانے مل سکتے ہیں۔

اسلامی غذائی پابندیوں کے تحت بعض چیزوں کے کھانے پینے کی ممانعت ہے اور طہارت کو یقینی بنانے کے لیے جانوروں کے ذبح کرنے اور کھانے بنانے کے قواعد مقرر ہیں۔ (عربی کے لفظ حلال کا مطلب وہ کام کرنا ہے جن کی قرآن پاک اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اجازت ہے۔)

 اسلامک سروسز آف امریکہ کے حلال کی تصدیق کا نشان (© Islamic Services of America)
تصدیق کے بعد کمپنیاں اپنی اشیا کے پیکٹوں پر اوپر دی گئی مہر کی طرح حلال کی مہر لگا سکتی ہیں۔ (© Islamic Services of America)

امریکہ میں یو ایس اے حلال چیمبر آف کامرس اور اسلامک سروسز آف امریکہ جیسی تصدیق کرنے والی تنظیمیں یہ جانچ پڑتال کرتی ہیں کہ وہ اشیا جن کے بارے میں حلال طریقوں سے تیار کیے جانے کا دعوی کیا جاتا ہے آیا وہ مطلوبہ معیاروں پر پورا اترتی ہیں۔ جب کسی چیز کی تصدیق کر دی جاتی ہے تو اس کو بنانے والا پیکٹ پر حلال قوانین کی پابندی کرنے کی ایک علامت چسپاں کرتا ہے۔

اسلامک سروسز آف امریکہ کے نائب صدر، ٹموتھی حیات نے بتایا، “حلال صنعت کے ماہرین صرف مسلم اکثریتی ممالک میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہیں۔ 1970 کی دہائی کے وسط سے ہمارا وجود یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ حلال صنعت سے بخوبی واقف ہے اور اس کا تجربہ رکھتا ہے اور اسے انڈونیشیا، ملائشیا اور سنگاپور جیسے دور واقع ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں۔”

ریاست آئیووا میں قائم حیات کی تنظیم شمالی امریکہ، یورپ اور چین میں اپنے گاہکوں کے لیے ذائقوں، شربتوں، اناج، کھانے پینے کی اشیا کی تیاری اور انہیں محفوظ رکھنے والے کیمیکل اور دیگر اجزا کے حلال ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ (اس کے بعد یہ گاہک کھانے پینے کی چیزیں تیار کرنے والوں اور رسدی سلسلے کے دیگر لوگوں کو یہ اشیا بیچتے ہیں۔) یہ تنظیم گوشت اور مرغیوں سے لے کر کاسمیٹکس (سامان زیبائش) اور وٹامن تک استعمال کے لیے تیار اشیا کی تصدیق بھی کرتی ہے۔

میری لینڈ میں قائم یوایس اے حلال چیمبر آف کامرس نے 1997ء میں گوشت اور مرغیوں، مشروبات، سنیکس، کیمیکلز، اور کاسمیٹکس کے حلال ہونے کی تصدیق کرنا شروع کی۔ اس کے کوالٹی منیجر علی غنیم نے بتایا کہ ان کی تنظیم کو ہر قسم کی اُن حلال اشیا کی تصدیق کرنے کا تجربہ ہے جو سپرمارکیٹوں میں فروخت کی جاتی ہیں۔

یو ایس اے حلال کی تصدیق کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی خدمات حاصل کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق امریکہ کے مصنوعات سازگان اور کھانے پینے کی اشیا تیار کرنے والوں سے ہے۔ تاہم کینیڈا میں بھی اِن کے گاہک موجود ہیں۔

 پتھر کی تختی پر رکھا بھیڑ کی ٹانگ، مصالحے اور جڑی بوٹیاں (© Anna Pustynnikova/Shutterstock)
بھیڑ کی یہ ٹانگ اور مصالحے اور جڑی بوٹیاں، حلال ہونے کی تصدیق کی اہل ہیں۔ (© Anna Pustynnikova/Shutterstock)

طریقہ کار

اسلامک سروسز آف امریکہ کی معیار کو یقینی بنانے والی ٹیم زیرغور چیز کے  اجزا اور تیاری کی ترتیب کا جائزہ لیتی ہے اور فیکڑی کی یا جہاں یہ چیز تیار کی جاتی ہے اُس جگہ کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ تیار کنندہ اگر اس عمل میں کامیاب قرار پائے تو کمپنی اپنی اشیا کے حلال ہونے کی ایک سال تک مشہوری کی جا سکتی ہے۔ ایک سال کے بعد اس کمپنی کا دوبارہ معائنہ کیا جاتا ہے۔

حیات نے بتایا کہ تصدیق میں عام طور پر 30 دن لگتے ہیں۔ تاہم، پیچیدہ مصنوعات میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ گوکہ اسلامی قوانین کے معیار بالعموم ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، تاہم بعض ممالک کے معیار مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔ اسلامک سروسز حلال قوانین پر عمل درآمد کرنے کے لیے ایسے ممالک کی مارکیٹوں میں بھیجی جانے والی مصنوعات کے سلسلے میں اضافی اقدامات اٹھاتی ہے۔

غنیم نے بتایا کہ ایک کمیٹی یو ایس اے حلال کے معائنوں کی رپورٹوں کا جائزہ لیتی ہے جس کی وجہ سے اضافی وقت تو لگتا ہے مگر طریقہ کار کم و بیش ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔

غنیم نے کہا، “ہم جیسی خدمات اس لیے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں کیونکہ آپ چاہتے ہیں کہ جو کوئی بھی حتمی رپورٹ موصول کر رہا ہے … اسے اس بات کا اعتماد ہو کہ یہ مصنوعات یقیناً وہی ہیں جو کچھ وہ بتا رہی ہیں۔”