امریکی پالیسی کا لازمی جزو: انسانی حقوق کا فروغ

بہت سے مائکروفونوں کے پیچھے فرینکلن ڈی روز ویلٹ ڈائس پر کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور اُن کے پیچھے دو آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ (© AP Images)
6 جنوری 1941 کو صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں اور ایوان نمائندگان کے سپیکر، سیم ریبرن، بائیں، اور نائب صدر جان این گارنر انہیں دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں جب دوسری عالمی جنگ کے بادل آسمان پر منڈلا رہے تھے، روز ویلٹ نے اس خطاب کو چار آزادیوں یعنی اپنی بات کہنے کی آزادی، عبادت کرنے کی آزادی، محرومیوں سے آزادی، اور خوف سے آزادی کا خاکہ بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔ (© AP Images)

آج سے 80 سال قبل جب صدر فرینکلن ڈیلانو روز ویلٹ نے اپنی بات کہنے کی آزادی، عبادت کرنے کی آزادی، محرومیوں سے آزادی، اور خوف سے آزادی پر مشتمل اپنی چار آزادیوں کی تقریر کی تب سے امریکہ نے اِن جمہوری اصولوں کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک مرکزی مقام دیا ہوا ہے۔

آج انسانی حقوق کو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور امریکہ اِن کی پرزور حمایت کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے جمہوری حلیفوں کے ساتھ مل کر، امریکہ دوطرفہ اور کثیر الطرفی سفارت کاری، عوامی سفارت کاری اور غیرملکی امداد کے ذریعے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو فروغ دینے میں مدد کر رہا ہے۔

امریکہ ایسی غیرملکی اکائیوں اور افراد کے خلاف آواز اٹھاتا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یا ان کو پامال کرتے ہیں اور  انفرادی ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر سالانہ رپورٹوں میں تحفظات کو دستاویزی شکل میں شائع کرتا ہے۔ امریکی قانون کے تحت امریکہ انسانی حقوق کی پامالیاں کرنے والوں پر مالی پابندیاں اور ویزہ کی پابندیاں عائد کرتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے وینیزویلا میں نکولس مادورو کی غیرقانونی حکومت کو نگرانی اور سنسر کرنے والے آلات فراہم کرنے پر ‘چائنا نیشنل الیکٹرانکس امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن’ نامی ایک چینی کمپنی پر پابندی لگائی ہے۔ وینیزویلا میں صحافیوں کو سچی خبریں دینے پر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور یہاں انٹرنیٹ کی آزادی پر پابندیاں عائد ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین آن لائن اور میڈیا دونوں پر اپنے شہریوں کو سنسر کرنے کی ‘شہرت’ رکھتا ہے۔ پی آر سی کی “گریٹ فائروال” چین میں ہر کسی کو فیس بک اور دیگر عالمی سوشل میڈیا کے فراہم کنندگان تک رسائی حاصل کرنے سے روکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذاتی خطوط میں اور ٹیلی فون پر کی جانے والی گفتگوؤں کے دوران استعمال کیے جانے والے الفاظ پر بھی حکومت نظر رکھتی ہے۔

امریکی عہدیدار اظہار رائے، مذہب اور اجتماع کی آزادیوں کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کے بارے میں متواتر  تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت دنیا بھر کی ہم خیال جمہوریتوں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے عالمی منشور کے بنیادی اصولوں کی سربلندی کی خاطر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اصول امریکی آئین اور حقوق کے بل میں بیان کی  گئی اقدار سے موافقت رکھتے ہیں۔

روز ویلٹ نے اپنے خطاب کا اختتام اِن الفاظ میں کیا، “آزادی کا مطلب ہر جگہ پر انسانی حقوق کی بالادستی ہے۔ ہماری مدد اُن کے لیے ہے جو ان حقوق کو حاصل کرنے یا انہیں برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہماری طاقت ہمارا متحدہ مقصد ہے۔ اِس اعلٰی تصور کی خاطر فتح کے سوا کوئی دوسری منزل نہیں۔”