امریکی گروپوں کی جانب سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے امداد چین پہنچ گئی

ڈبوں اور طیارے کے قریب ایک آدمی کھڑا ہے جب کہ دوسرا ایک گاڑی میں بیٹھا ہوا ہے۔ (© UPS)
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ماسک اور دیگر حفاظتی سامان چین لے جانے کے لیے طیاروں پر لادا جا رہا ہے۔ (© UPS)

کورونا وائرس کی مہلک مرض کو روکنے کے لیے امریکہ کی وسیع پیمانے پر کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں امریکی تنظیمیں زندگی بچانے والا طبی امدادی سامان چین میں اس مرکزی جگہ بھجوا رہی ہیں جہاں کورونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔

چين کو کورونا وائرس کی مد ميں دی جانے والی امداد سے متعلق اعداد وشمار پر مبنی معلوماتی خاکہ (State Dept.)
(State Dept.)

امریکہ کے ایک غیر منفعتی ادارے ‘پراجیکٹ ہوپ’ کے مطابق ‘میپ انٹرنیشنل’ اور ‘میڈ شیئر’ کی جانب سے عطیے کے طور پر دیے جانے والے 20 لاکھ سے زیادہ ایسے ماسک جن میں سے سانس لیا جا سکتا ہے، 11,000 حفاظتی لباس، نائٹرائل دستانوں کے 280,000 جوڑے 2 فروری کو یو پی ایس اِنک نے شنگھائی پہنچانے تھے۔

پراجیکٹ ہوپ نے بتایا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کر رہے ہیں کہ یہ سامان بیماری پر قابو پانے اور اس کے خاتمے کے ہیوبائی کے صوبائی مرکز میں پہنچایا جا سکے تاکہ اسے وو ہان کے ہسپتالوں منتقل کیا سکے۔

پراجیکٹ ہوپ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، “حفاظتی آلات و سازوسامان کی شدید مانگ نے چین کے صحت کے بہت سے مراکز سے (ان آلات اور حفاظتی سامان کے) ذخیروں کو ختم کر دیا ہے اور اس کھیپ سے ووہان کے لیے (مذکورہ سامان کی) ترسیل میں مدد ملے گی۔”

امریکہ کہ وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 4 فروری کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ “وہ امدادی سامان کے عطیات دینے پر فراخدل امریکی تنظیموں کے مشکور ہیں۔”

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

وزیر خارجہ پومپیو

چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے عطیات کے طور پر دیے گئے زندگی بچانے والے نجی حفاظتی آلات اور طبی اور امدادی سامان کی تیز رفتار ترسیل کے خاطر ہماری طرف سے دی جانے والی سہولتوں پر مجھے فخر ہے۔ امدادی سامان کے عطیات دینے پر فراخدل امریکی تنظیموں کا مشکور ہوں۔

اس کوشش میں مدد کرنے والی یو پی ایس فاؤندڈیشن کے صدر ایڈوارڈو مارٹینیز نے کہا کہ تیز رفتار ردعمل کے لیے کاروباروں اور حکومتوں کے درمیان شراکتیں بہت ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا، “دنیا کو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکتوں کی ضرورت ہے تا کہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں مدد کی جا سکے۔ یو پی ایس فاؤنڈیشن اپنے شراکت کاروں کو ترسیل کے سلسلے میں اپنی مہارت اور فضائی بار برداری کی فراہمی کی خاطر انسانی بنیادوں پر فراہم کیے جانے والے اپنے امدادی سامان کے نیٹ ورک کو پھیلا رہا ہے۔”

صدر ٹرمپ نے اس وائرس کے خلاف امریکی کوششوں کی قیادت کے لیے 29 جنوری کو ‘کورونو وائرس کی صدارتی ٹاسک فورس’ کے قیام کا اعلان کیا۔ اس ٹاسک فورس میں حکومتی اورنجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔

اس نئے وائرس کا سرکاری نام 2019-این سی او وی ہے مگر عام طور پر اسے کورونا وائرس کہا جاتا ہے۔ اس کا آغاز چین کے صوبے ہیوبے کے شہر ووہان سے ہوا اور اب یہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے 30 جنوری کو اس وباء کو بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی حالت قرار دیا۔ انوویو اور جانسن اینڈ جانسن سمیت امریکی دواساز کمپنیاں ویکسین تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں۔