امریکی ہر سال ہولوکاسٹ کے دن کی یاد مناتے ہیں جسےعبرانی زبان میں یومِ ہاشوا کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہولوکاسٹ کے متاثرین اور نازیوں اور اُن کے شراکت کاروں کے خلاف یہودی مزاحمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقاریب اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس سال ہولوکاسٹ کی یاد کا دن یکم مئی کو پڑ رہا ہے جو عبرانی کیلنڈر کے مطابق نیسان کے مہینے کی 27ویں تاریخ بنتی ہے۔

امریکہ نے 1979ء میں آٹھ دنوں پر مشتمل ایک مدت کا اعلان کیا جس کے دوران یومِ ہاشوا کے موقع پر مقامی حکومتیں، سکول، تنظیمیں اور دفاتر یاد مناتے ہیں اور اپنی اپنی کمیونٹیوں میں یاد منانے والی ایسی سرگرمیوں اور تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں جس میں ہولوکاسٹ میں ہلاک کیے جانے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جا تا ہے۔

یکم مئی کو محکمہ خارجہ بیلا روس کے سفارت خانےکے ساتھ  مل کر مِنسک کی یہودی بستی کی یاد منانے کے لیے ایک ظہرانے اور پروگرام کا اہتمام کریں گے۔ اس تقریب میں اس یہودی بستی کے زندہ بچ جانے والے ایک صاحب، سیوائلی کیپلنسکی کا خطاب بھی شامل ہوگا۔ جب جون 1941 میں نازیوں نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو انہوں نے مِنسک میں رہنے والے اسی ہزار یہودیوں کو ایک ایسے باڑے میں بند کر کے قتل کرنا شروع کر دیا جس کے ارد گرد کانٹے دار تاریں لگی ہوئی تھیں اور سنتریوں کے مچان بنے ہوئے تھے۔ نومبر1941 اور اکتوبر 1942 کے درمیان نازیوں نے چوبیس ہزار یہودیوں کو جرمنی اور وسطی یورپ سے مِنسک بھیجا۔ اِن میں سے بہت سوں کو نازیوں اور پولیس نے مِنسک پہنچنے کے فورا بعد یا تو گولی مار دی گئی یا زہریلی گیس سے ہلاک کر دیا گیا۔ بعض کو خصوصی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں میں بند کرکے گیس سے ہلاک کیا گیا۔ جب 1943ء میں اس باڑے کو بند کیا گیا تو لوگوں کو موت کے کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔ 104,000 افراد میں سے محض چند ایک ہی بچ پائے۔

امریکہ میں ماضی میں منائے جانے والے ہولوکاسٹ کی یاد کے ایام سے متعلق ذیل میں چند ایک تصاویر دی جا رہی ہیں:-

Three elderly people at forefront of a group (© Mark Ralston/AFP/Getty Images)
(© Mark Ralston/AFP/Getty Images)

21 اپریل 2017 کو لاس اینجلیس میں ہولوکاسٹ کی یاد کے دن ہولوکاسٹ سے زندہ بچ جانے والے افراد نازیوں کی حکومت کے دوران ہلاک کیے جانے والے 60 لاکھ یہودیوں کے لیے منعقد کی گئی ایک دعائیہ تقریب کے کلمات سن رہے ہیں۔


 

Two young men lighting candle at memorial (© Drew Angerer/Getty Images)
(© Drew Angerer/Getty Images)

ہولوکاسٹ میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں واشنگٹن میں واقع امریکہ کے ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کے ‘یادگاری ہال’ میں ہر سال مرنے والوں کے نام پڑھنے کی ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ 2 مئی 2016 کو ہونے والی ایسی ہی ایک تقریب کے دوران دو افراد موم بتیاں روشن کر رہے ہیں۔


 

Donald Trump shaking a man's hand as another man looks on (© Ron Sachs/Ron Sachs-CNP/Alamy)
(© Ron Sachs/Ron Sachs-CNP/Alamy)

25 اپریل 2017 کو قومی یادگار کی یاد کے ایام کی ایک تقریب میں خطاب کے بعد صدر ٹرمپ، امریکہ کی ہولوکاسٹ کی یادگاری کونسل کے چیئرمین ٹام اے برنسٹین سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا، "یہودی قوم نے ظلم و جبر کو برداشت کیا ہے اور اُن کو بھگتا ہے جو اِن کی تباہی کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ ان مصائب کے باوجود وہ ثابت قدمی سے ڈٹے رہے۔ وہ پھلے پھولے۔ انہوں نے دنیا کو روشن خیالی دی۔ ہم یہودی قوم کے ناقابل شکست جذبے کے احترام میں کھڑے ہیں۔”