امریکہ کی ایران کے خلاف تازہ ترین پابندیوں کے ایران پر اثرات [تصویری خاکہ]

ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے پروگرام میں ملوث ایرانی سائنس دانوں اور دیگر افراد کے خلاف امریکہ نے پابندیاں عائدد کی ہیں۔

وزیر خارجہ پومپیو نے 22 مارچ کو ایک ٹویٹ میں کہا، "ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی ہماری مہم جاری ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے سابقہ سائنس دانوں سمیت، ایرانی حکومت کے جوہری پروگرام میں ملوث افراد، ہماری آج کی پابندیوں کا ہدف ہیں۔ ہم ایران کو ڈبلیو ایم ڈی [یعنی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے] پھیلاؤ اور اس کی تمام غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے کی خاطر سخت رویہ اختیار کریں گے۔"

Iranian scientists sanctioned for working on Iran's nuclear proliferation program (State Dept.)
(State Dept.)

امریکہ کے خارجہ اور خزانے کے محکموں نے 22 مارچ کو اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی اداروں اور افراد کو پابندیوں کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ قدم انتظامی حکمنامہ نمبر 13382 کے تحت  اٹھایا گیا ہے۔ اس حکمنامے کے تحت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یعنی ڈبلیو ایم ڈی اور ڈبلیو ایم ڈی لے جانے اور اِن کے مددگار نظاموں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

نامزد کردہ افراد اور ادارے  سب کے سب کا ایران کی "دفاعی اختراع اور تحقیق کی تنظیم" سے تعلق ہے۔ اس تنظیم کو اپنے ایرانی نام کے پہلے حروف کی مناسبت سے مخففاً ایس پی این ڈی بھی کہا جاتا ہے۔

Chart showing possible consequences of working for Iran's nuclear program (State Dept.)
(State Dept.)
Chart showing who could get sanctioned and consequences of being sanctioned (State Dept.)
(State Dept.)