بیپٹسٹ منسٹر، سماجی کارکن اور نوبیل انعام یافتہ، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے یاد میں واشنگٹن میں تعمیر کی گئی یادگار میں ان کا ایک مجسمہ۔ (State Dept.)

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ایک ایسے مشہور ہیرو ہیں جنہوں نے نسلی امتیاز کو ختم کرنے اور امریکہ میں شہری حقوق کے فروغ کے لیے جدوجہد کی اور اپنی جان قربان کی۔ ان کی متاثرکن شخصیت اور اثرونفوذ کو ان کے آبائی ملک سے باہر کہیں دور تک محسوس کیا جاتا ہے۔

نائجر سے لے کے آسٹریلیا، برازیل اور جرمنی تک مارٹن لوتھر کنگ کے نام سے منسوب کی گئی کئی سڑکیں اور شاہراہیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پیرس میں ایک پارک، ہنگری کے شہر ڈیبریسن میں ایک گرجا گھر، کیمرون کے شہر یااوندے میں ایک سکول اور حتٰی کہ برکینا فاسو کے شہر اوگاڈوگا میں ایک پل ان کے نام سے منسوب ہے۔

اپنی زندگی میں مارٹن لوتھر کنگ نے شعوری طور پر اپنی اندرونِ ملک مساوات کی جدوجہد کو بین الاقوامی مسائل سے جوڑا۔ وہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت اور افریقہ میں یورپی نوآبادیاتی نظام کے بہت بڑے ناقد تھے۔ انہوں نے لاطینی امریکہ میں کسانوں کے لیے کی جانے والی زمینی اصلاحات کی حمایت کی۔ وہ غربت کو ایک بین الاقوامی مسئلہ گردانتے تھے۔

مارٹن لوتھر کنگ نے امریکہ کے اندر شہری حقوق کی جو مہم شروع کی اس سے "تمام اقسام کے نسلی امتیاز کو مٹانے کے بین الاقوامی کنونشن” کی  1965ء میں منظوری کی حوصلہ افزائی میں مدد ملی۔ یہ 1948ء میں تشکیل پانے والے "نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے بارے میں کنونشن” کے بعد بین الاقوامی انسانی حقوق کا پہلا معاہدہ تھا۔

مگر مارٹن لوتھر کنگ کے فلسفے میں سب سے زیادہ محسوس کی جانے والی اُن کی  وہ  میراث ہے جس میں انہوں نے مہاتما گاندھی کی ہندوستان میں برطانوی راج کو ختم کرنے کی عدم تشدد کی مہم سے متاثر ہوکر، عدم تشدد کی راہ اختیار کی اور انسانی وقار کے علمبردار بن گئے۔ اس کے نتیجے میں عدم تشدد کے ذریعے اپنے معاشروں کو تبدیل کرنے کے لیے دوسرے لوگوں نے اثر قبول کیا۔ اِن میں پولینڈ میں سوویت قبضے کو ختم کرنے کے لیے سولیڈیریٹی کی تحریک سے لے کر جنوبی افریقہ میں نسل پرست حکومت کے خاتمے کی نیلسن منڈیلا کی جدوجہد تک شامل ہیں۔

آج، اُن کے قتل کے تقریباً 50 سال بعد بہت سے لوگ مارٹن لوتھر کنگ کے اس بیان کے آفاقی معنوں پر عمل کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ” کسی جگہ پر بھی ہونے والی ناانصافی، ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے۔”