انسانی حقوق کی کونسل انسانی حقوق کی کمزور محافظ ہے: پومپیو

Nikki Haley and Mike Pompeo walking down hall(© Andrew Caballero-Reynolds/AFP/Getty Images)
امریکہ کے وزیرخارجہ (دائیں) اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی۔ (© Andrew Caballero-Reynolds/AFP/Getty Images)

امریکہ نے انسانی حقوق کی متواتر زیادتیاں کرنے والوں کی شمولیت اور دائمی سیاسی تعصب کا حوالہ دیتے ہوئے، 19 جون کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر، نکی ہیلی کے ہمراہ محکمہ خارجہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا، "انسانی حقوق کی کونسل ایک بے شرمانہ منافقت کی مشق بن کر رہ گئی ہے۔ یہاں دنیا میں جاری انسانی حقوق کی بہت سی بد ترین خلاف ورزیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں اور اس کونسل میں دنیا میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کرنے  والے بعض لوگ براجمان ہیں۔”

پومپیو نے کہا،” انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واضح اور نفرت انگیز ریکارڈ کی حامل آمرانہ حکومتیں بھی اس کی رکن ہیں۔ چین، کیوبا اور وینیزویلا اس کی مثال ہیں۔”

نکی ہیلی نے کونسل کی کاروائیوں میں "اسرائیل کے خلاف دائمی تعصب” کو بیان کیا۔ گزشتہ برس ہیلی نے خاص طور پر ذکر کیا تھا کہ کونسل نے اسرائیل کے خلاف پانچ قراردادیں منظور کی ہیں۔ یہ تعداد شمالی کوریا، ایران اور شام کے خلاف منظور کی جانے والی مجموعی قراردادوں سے بھی زیادہ ہے۔

ہیلی نے کہا، "اسرائیل پر ایسی غیر متناسب توجہ اور اس کی نہ ختم ہونے والی مخالفت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ کونسل انسانی حقوق کے بجائے سیاسی تعصب کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔”

ہیلی نے جون 2017 میں کونسل سے اپنے خطاب میں خبردار کیا تھا کہ کونسل کو اپنے نظام میں موجود غلطیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ امریکہ کو "انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کونسل سے باہر نکل کر کام کرنا پڑے گا۔” ٹرمپ انتظامیہ نے مندرجہ ذیل دو تبدیلیوں کا خاص طور پر مطالبہ کیا ہے:

  • انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کے لیے کونسل کی ممبر شپ کے لیے ایک زیادہ سخت طریقہِ کار۔
  • فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق ایجنڈے کو ختم کرنا جس کے بارے میں ہیلی نے کہا کہ اس کے تحت اسرائیل کو "خود کار تنقید” کے لیے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

ہیلی نے کہا کہ اس تقریر کے بعد آنے والے سال میں”کونسل کی صورت حال بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوگئی ہے۔” انہوں نے ایران اور وینیزویلا میں ہونے والی انسانی حقوق کی زیادتیوں پر ردعمل دینے میں ناکامی پر اور دنیا میں انسانی حقوق کا بدترین ریکارڈ رکھنے والے عوامی جمہوریہ کانگو کا کونسل کے لیے منتخب ہونے کا حوالہ دیا۔

ہیلی نے کہا کہ امریکہ تمام لوگوں کی آزادیوں کے اُن حقوق کی حمایت کرتا ہے جو اُن کے خالق نے انہیں عطا کیے ہیں۔ "اسی لیے ہم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو اپنے نام کا حق ادا نہیں کر پائی۔”

اقوام متحدہ کی اصلاح ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہے۔ 2017 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو ایک زیادہ مستعد اور نتائج پر مرکوز ادارہ بنانے کی خاطر اصلاحات لانے کا چیلنج کیا تھا۔

صدر نے اپنے اس خطاب میں کہا، "ہمیں قانون کے احترام کی سربلندی، سرحدوں کا احترام اور ثقافت کا احترام، اور اُس پُر امن میل جول کا احترام ہر صورت میں کرنا چاہیے جس کی یہ سب چیزیں اجازت دیتی ہیں۔” وڈیو ملاحظہ فرمائیے۔