انسانی حقوق کے ایرانی مظالم پر امریکہ کی رپورٹ

ایران کا انسانی حقوق کا پہلے ہی سے بدتر ریکارڈ 2018ء میں مزید خراب ہوتا چلا گیا۔

یہ بات اُن حقائق میں شامل ہے جو امریکہ کے محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق کی تازہ ترین رپورٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ دنیا بھر کے ممالک میں بین الاقوامی طور پر تسلیم کیے جانے والے اُن انسانی حقوق  اور محنت کشوں کے حقوق کی موجودہ صورت حال بیان کرتی ہے جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے  عالمی اعلامیے کا حصہ ہیں۔

Two photos with close-up of elderly man (© AP Images) and person standing (© Abaca Press), with text overlaid on Iranian human rights

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اور لگ بھگ 200 دیگر ممالک پر رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کہا، “جو انسانی وقار کے تصور کی بے توقیری کرتے ہیں ہم نے اُن کو بتا دیا ہے کہ انہیں اس کی قیمت چکانا ہوگی، اُن کی زیادتیوں کو باریک بینی سے دستاویزی شکل دی جائے گی اور پھر اِن کی تشہیر کی جائے گی۔”

انہوں نے کہا، “زیادتیوں کو جامع انداز سے بیان کرکے اور [انسانی حقوق] کی پاسداری نہ کرنے والی حکومتوں پر دباؤ ڈال کر ہم تبدیلی لا سکتے ہیں۔”

اِس رپورٹ کے مطابق 2018ء میں ملک کے طول و عرض میں ہونے والے احتجاجوں کے جواب میں ایرانی حکومت نے پرامن مظاہرین کے خلاف اپنے ظالمانہ حربوں میں تیزی پیدا کر دی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کم از کم 30 مظاہرین کی ہلاکتوں اور ہزاروں گرفتاریوں اور پولیس کی حراست میں مشکوک اموات کی اطلاعات دی ہیں۔

Woman looking upward (© Getty Images), with text overlaid on Iranian regime's human rights record

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بجائے اس کے کہ اِن زیادتیوں کا ارتکاب کرنے والے سرکاری اہل کاروں کے خلاف تحقیقات کی جاتیں اور انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا، اس کے برعکس حکومت نے ایک حکمت عملی کے تحت اِن جرائم کو روزمرہ کا ایک معمول بنا کر دائمی شکل دے دی ہے۔

شام، عراق اور یمن میں کاروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور اُن کی مدد کرنے سمیت یہ حکومت ایران سے باہر یعنی بیرونی ممالک میں بھی انسانی حقوق کی زیادتیوں میں اعانت کر رہی ہے۔

پومپیو نے کہا، “اس طرح اُن مظالم کا وہ چلن جاری ہے جو یہ حکومت 40 برس سے ایرانی عوام پر ڈھا رہی ہے۔”