انسانی سمگلنگ سے خاندانوں کو لاحق خطرات

صدر ٹرمپ نے 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا، "برائے مہربانی یہ الفاظ سن لین: سمگلروں کو پیسے مت دیں۔ جرائم پیشہ رہبروں کو پیسے مت دیں۔ خود کو خطرے میں مت ڈالیں۔ اپنے بچوں کو خطرے میں مت ڈالیں۔”

صدر کے پیغام میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحدوں کے آر پار انسانی سمگلنگ کے خطرات سے متعلق بات کی گئی ہے — یعنی یہ ایک ایسی حرکت ہے جو بالاخر کمزور عورتوں اور بچوں کو خطرات سے دوچار کرتی ہے۔

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر جو خاندان آ رہے ہیں اُن کی تعداد، بالغ افراد اور تنہا سرحد عبور کرنے والے بچوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ برس، امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر پہنچنے والے خاندانوں کی اکثریت کا تعلق ایلسلویڈور، گوئٹے مالا اور ہنڈراس سے تھا۔ سرحد پر خاندانوں کے حراستی یونٹ کے مطابق، حراست میں لیے جانے والے 98 فیصد سے زائد خاندانوں کا تعلق انہی مذکورہ ممالک سے ہوتا ہے۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے وہ عورتیں جو اپنے بچوں کے ساتھ سرحد عبور کرنے والے اس خطرناک سفر پر روانہ ہوتی ہیں، عموما اپنے سمگلروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔

اکتوبر کے آخر میں سرحد پر گشت کرنے والے محافظوں کو ریاست ٹیکساس میں ایگل پاس کے قریب ایک خاندان کے چار افراد جھاڑیوں کے درمیان ملے جنہیں کوئی سمگلر اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ یہ لوگ سردی سے کانپ رہے تھے۔ انہیں ٹھنڈ اور شدید بارش میں تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔

ڈیلریو سیکٹر میں گشت کرنے والے ایک افسر، راؤل ایل اورٹِز نے ایک اخباری بیان میں کہا، "یہ اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ سمگلروں کے نزدیک اُن انسانوں کی کی جانوں کی کتنی عزت ہے جنہیں وہ سمگل کرتے ہیں۔”

انسانی سمگلنگ کا نتیجہ انسانوں کے کاروبار کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کے مطابق، انسانوں کے بیوپاری مہاجرین جیسے معاشی، جسمانی اور جذباتی طور پر کمزور لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ وہ "طاقت، دھوکہ دہی، یا دھونس سے اپنے شکاروں کو پھنسا سکیں اور انہیں مشقت یا تجارتی بنیادوں پر جنسی استحصال کے لیے مجبور کیا جاسکے۔”

ٹوئیٹ کا خلاصہ:

ڈی ایچ ایس بلیو کمپین:پولارس پراجیکٹ کے مطابق انسانوں کی سمگلنگ کرنے کی 2018 کی ہاٹ لائن کو استعمال میں لایا گیا۔ اس کے اعداد و شمار کے مطابق انسانی کی سمگلنگ کے خطرات کے پانچ چوٹی کے عناصر اوپر انگریزی کی ٹویٹ کے ذریعے جانیے۔