انسانی ضروریات کے امدادی سامان کے لیے وینیز ویلا کے نوجوانوں کا مارچ

12 فروری کو وینیزویلا کے نوجوانوں کے دن کے موقع پر وینیزویلا کے ہزاروں نوجوانوں نے سابقہ آمر نکولس مادورو کی جانب سے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کو روکے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ امدادی سامان کولمبیا کی سرحد سے وینیزویلا میں داخلے کی اجازت ملنے کا منتظر پڑا ہوا ہے۔

احتجاج  والے دن صبح کو عبوری صدر خوان گوائیڈو نے ایک ٹویٹ میں لکھا، "آج، ہم سڑکوں پر دوبارہ جا رہے ہیں!"

52 ممالک گوائیڈو کی حمایت کر رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری نے انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی دس کروڑ مالیت کے امدادی سامان کا وعدہ کیا ہے۔

Four female protesters shouting while holding Venezuelan flag, with others behind (© Frederico Parra/AFP/Getty Images)
انسانی بنیادوں پر دی گئی امریکی امداد کو وینیزویلا میں آنے کی اجازت دینے کے لیے وینیزویلا کی فوج پر دباؤ ڈالنے کی خاطر12 فروری کو گوائیڈو کے حامی کراکس، وینیزویلا میں ایک جلوس کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ (© Federico Parra/AFP/Getty Images)

مادورو اور اُس کے چاپلوسوں نے اس امداد کا جواب سرحد پر واقع کولمبیا اور وینیزویلا کو ملانے والے پل پر فوج اور پولیس کے مزید دستے تعینات کرکے دیا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں گوائیڈو نے مارچ کرنے والوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ "اُن بہت سے نوجوان لوگوں کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے وینیز ویلا کی آزادی کے لیے اپنی جانیں دی ہیں۔"

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 40 اموات کا تعلق مادورو حکومت کی پرامن مظاہرین کے خلاف کاروائیوں سے ہے