انڈونیشیا میں ونیلا کا کاشت کار آگسٹین ڈاکا اپنے فارم میں ہر ایک سحلب کی زیرہ پوشی کرنے کے لیے دانتوں میں خلال کرنے والی تیلی استعمال کرتا ہے۔ لگ بھگ نو ماہ بعد وہ بیل پر پک جانے والی ونیلا کی پھلیاں توڑنے واپس آتا ہے۔ قدرتی طور پر یہاں کا کوئی بھی کیڑا وسطی امریکہ سے آنے والے اس پھول کی زیرہ پوشی نہیں کرتا۔

عرفِ عام میں آگس کہلانے والا آگسٹینس، پاپوا صوبے کے اپنے گاؤں کے ونیلا کی پھلیوں کے کاشت کاروں کے ایک چھوٹے سے گروپ کا لیڈر ہے۔ انڈونیشیا کے الگ تھلگ صوبے پاپوا میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں پر زیادہ تر کسان وہی فصلیں اگاتے ہیں جو اُن کے خاندان کھاتے ہیں۔

آگس نے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ میرا گاؤں گزر اوقات سے آگے بڑھے۔”

سہ لوحی تصویر: پہلی تصویر میں ہاتھوں میں پکڑی ونیلا کی تازہ پھلیاں، دوسری تصویر میں ہاتھوں میں پکڑی ونیلا کی خشک پھلیاں،اور تیسری تصویر میں لیبل لگی شیشے کی بوتلیں جن میں سیاہ رنگ کا مائع بھری ہے۔ (© Thomas Cristofoletti/USAID)
بائیں سے دائیں: آگسٹینس ڈاکا اپنے کھیت سے ونیلا کی پھلیاں توڑ کر لاتا ہے۔ اس کے بعد اِن پھلیوں کو ایک امداد باہمی کے ادارے میں خشک کیا جاتا ہے اور تجربہ گاہ میں ٹسٹ کیا جاتا ہے۔ (© Thomas Cristofoletti/USAID)

امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کی مدد سے (مخففاْ سی بی آئی) کہلانے والے ‘کوآپریٹو بزنس انٹرنیشنل’ یعنی ‘امداد باہمی کا بین الاقوامی کاروبار’ نے انڈونیشیا کی ونیلا کی پیداوار کے لیے ایک بین الاقوامی سپلائی (رسد) قائم کی۔

اس کے بعد آگس کی آمدن دگنی ہو گئی۔ اُس کا شمار انڈونیشیا کے مسالوں کے اُن 5,000 چھوٹے کسانوں میں ہوتا ہے جو سی بی آئی کے ذریعے دنیا کے بڑے کاروباروں سے براہ راست منسلک ہیں۔

ونیلا کی پھلیاں لیے ایک عورت کی تصویر کے ساتھ فریم میں لگے ہوئے کمپنیوں کے کاروباری نشان۔ (© Thomas Cristofoletti/USAID)
میری لینڈ میں قائم مککورمِک اینڈ کمپنی کا شمار اُن کاروباروں میں ہوتا ہے جو کوآپریٹو بزنس انٹرنیشنل کے ذریعے مسالے خریدتے ہیں۔ (© Thomas Cristofoletti/USAID)

آگس پھلیاں چنتا ہے اور پھر کوآپریٹو کو بیچ دیتا ہے جہاں پر انہیں خشک کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پھلیوں کو 3,000 کلومیٹر دور انڈونیشیا کے ایک جزیرے پر واقع کلیٹن نامی شہر کی مسالوں کی ایک فیکٹری میں لے جایا جاتا ہے جہاں سے انہیں آخرکار امریکہ اور دیگر ممالک کو بھیج دیا جاتا ہے۔

وہ کہتا ہے، "مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری فصل امریکہ برآمد کی جاتی ہے۔”

سیم فیلیاسی، درمیان میں اور دیگر دو افراد ونیلا کی پھلیوں کی خوشبو سونگھ رہے ہیں۔ (© Thomas Cristofoletti/USAID)
سی بی آئی کے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے نائب صدر سیم فیلیاسی (درمیان) دیگر دو افراد کے ہمراہ کلیٹن، انڈونیشیا میں مسالوں کی ایک فیکٹری میں مال کی تیاری کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (© Thomas Cristofoletti/USAID)

فیکٹری میں جو آلات استعمال کیے جاتے ہیں وہ نیویارک، پینسلوینیا، کنٹکی، اوہائیو، انڈیانا اور کنساس سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ جبکہ آگس کا ونیلا امریکہ کے کریانے کے سٹوروں میں بکتا ہے؛ یہ مککورمک اینڈ کمپنی کے ونیلا کے جوہر میں اور کوسٹکو کی ونیلا آئس کریم میں استعمال ہوتا ہے۔

سی بی آئی کے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے نائب صدر سیم فیلیاسی کا کہنا ہے، "اگرچہ ہم اس فیکٹری میں 700 افراد کے کام کرنے کی بات کرتے ہیں مگر اس سے جو روزگار امریکہ یا دیگر ممالک کی مارکیٹ میں پیدا ہوتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔”

آگس کو ونیلا کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی وجہ سے وہ ملیریا کا شکار ہونے والی اپنی چار سالہ پوتی جونیٹا اور شوگر کی مریضہ اپنی بیوی جولیانا سمیت اپنے گھر والوں کی صحت کی بہتر دیکھ بھال کر سکتا ہے۔

اس کا کہنا ہے، "اب، مجھے اپنے خاندان کی ایک بہتر زندگی کی امید ہے۔”

طویل شکل میں یہ مضمون یوایس ایڈ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔