اوباما ‘نرڈ ان چیف’ کی حیثیت سے اپنے کردار سے محفوظ ہوتے ہیں۔

اس موسمِ خزاں کے شروع میں جب صدر اوباما پِٹسبرگ میں وائٹ ہاؤس فرنٹیئرز کانفرنس کے موقعے پر انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کے ڈاکنگ سِمولیٹر سے باہر نکلے تو انھوں نے کہا، "میں نرڈ [گنوار] ہوں، اور مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی ندامت محسوس نہیں ہوتی۔” [انگریزی میں "نرڈ” کی اصطلاح ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتی ہے جو غیرمعمولی طور پر ذہین اور جدت پسند تو ہو، مگر اس کے طور طریقے اورعام چال ڈھال روایتی انداز سے مختلف ہوں۔]

چاہے وہ  وائٹ ہاؤس کے سائنسی میلے میں ذہین طالب علموں کے ساتھ  وقت صرف کر رہے ہوں یا بایومیڈیکل سائنسدانوں کے ساتھ ملٹی پیرامیٹر فلو سائٹومیٹری کے بارے میں کچھ سیکھ  رہے ہوں، اوباما کو گنوار بننے میں مزہ آتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا سائنسی میلہ

ایک طالبہ اور صدر اوباما پائپوں اور لکڑی سے تیار کی گئی ایک مشین کے پیچھے کھڑے ہیں۔ (© AP Images)
2012 کے وائٹ ہاؤس کے سائنسی میلے میں، کھانے والی میٹھی گولیاں چلانے والا لانچر بہت مقبول ہوا۔ (© AP Images)

2010 سے لے کر اب تک اوباما ہر سال وائٹ ہاؤس میں سائنسی میلے منعقد کرتے چلے آ رہے ہیں اور  وائٹ ہاؤس میں ذہین طالبعلموں کو مدعو کرتے رہے ہیں۔  ان میلوں میں طالب علموں نے سہہ جہتی طباعت، بجلی کی پیداوار اور ویکسین کی ترسیل سے متعلق منصوبوں کی تفصیلات بیان کیں۔ یہ اوباما کا پسندیدہ پروگرام ہے اگرچہ انھوں نے یہ فقرہ بھی چست کیا ہے کہ انھوں نے ” روبوٹوں کی ایک خطرناک تعداد دیکھی ہے۔”

ساؤتھ بائی ساؤتھ لان

صدر اوباما لیگو سے بنے ہوئےایک مجسمے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے لان میں بیٹھے ہیں۔ (White House/Pete Souza)
پہلے ساؤتھ بائی ساؤتھ لان میلے میں، لیگوز سے بنے ہوئے مجسمے بھی نمائش کے لیے رکھے گئے۔ (White House/Pete Souza)

2016ء  میں اوباما نے  ساؤتھ بائی ساؤتھ لان کا آغاز کیا۔ یہ فلم اور موسیقی کا ایک جدتی میلہ ہے جو وائٹ ہاؤس کے سائنسی میلے سے مماثلت رکھتا ہے لیکن یہ بچوں کا نہیں بلکہ بڑوں کا میلہ ہے۔ اس کا بنیادی خیال ٹیکسس کے سالانہ ساؤتھ بائی ساؤتھ ویسٹ (SXSW) نامی فیسٹول سے اخذ کیا گیا تھا۔ اس کے شرکا کھانے کو زیادہ غذائیت بخش بنانے، کارکنوں کے حقوق کو بہتر بنانے اور آب و ہوا میں تبدیلی کو ختم کرنے کی تجاویز لے کر آئے۔ اور ہاں، وہ لیگوز بھی لے کر آئے اور ہزاروں لیگوز کی مدد سے بڑے بڑے مجسمے تیار کیے۔

مریخ کا سفر

صدر اوباما مائکروفون ہاتھ میں لیے ایک طالبہ کے ساتھ، دوربین اور ناسا کے خلائی سوٹ کے برابر کھڑے ہیں۔ (© AP Images)
ناسا کا اگلا بڑا ہدف زمین کے مدار سے باہر جانا اور انسانوں کو مریخ پر لے جانا ہے۔ (© AP Images)

اوباما نے عہد کیا ہے کہ امریکہ 2030 کی دہائی تک  انسانوں کو مریخ پر پہنچا ئے گا۔ انھوں نے کہا، اس طرح، "ہم نہ صرف توانائی، طِب، زراعت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ہونے والی ترقیوں سے فائدے اٹھائیں گے، بلکہ ہم اپنے ماحول اور اپنے متعلق زیادہ بہتر سمجھ بوجھ سے بھی مستفید ہوں گے۔”

کوڈ کی پہلی لائن

صدر اوباما اور ایک طالبہ لیپ ٹاپ لیے میز پر بیٹھے ہیں۔ (© AP Images)
صدر اوباما کوڈ کی پہلی لائن تحریر کرتے ہوئے، ایک طالب علم کے ساتھ اپنی مٹھی ٹکرا رہے ہیں۔ (© AP Images)

2014ء میں اوباما کوڈ کی ایک لائن تحریر کرنے والے اولین امریکی صدر بن گئے۔ ساری دنیا میں "Hour of Code" کے دوران، صدر اوباما نے مندرجہ ذیل تحریر کے لیے پروگرامنگ کی مقبول زبان جاوا سکرپٹ استعمال کی:

moveForward(100);

اس کوڈ کی تحریر کے ذریعے، صدر ڈزنی کی فلم "فروزن” کے ایک کردار، ایلسا کو 100 پکسلز آگے بڑھانے میں کامیاب ہوگئے۔ پکسلز وہ چھوٹے چھوٹے نقطے ہوتے ہیں جن سے مل کر کمپیوٹر کی سکرین پر تصویر بنتی ہے۔

آنے والے دور میں کیا ہوگا

صدر نے  وائرڈ میگزین کے نومبر کے شمارے میں لکھا کہ بعض اوقات ہم سب کو بڑے بڑے تصورات درکار ہوتے ہیں اوربعض اوقات ہم فروزن یا  سٹار ٹریک  جیسی تخلیقات سے تحریک حاصل کرتے ہیں۔

سائنس، ٹیکنالوجی اور بڑے بڑے خیالات رکھنے والے لوگوں کے امتزاج کی وجہ سے، اوباما مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ پُر امید ہیں۔

انھوں نے کہا، "مجھے یہ تاثر ملتا ہے کہ آج کے نوجوانوں کو اپنے ذہین اور متجسس ہونے، نئی چیزیں ڈیزائن کرنے، اور غیرمتوقع طریقوں سے بڑے بڑے مسائل حل کرنے پر ناز ہے۔”

"میرے خیال میں میرے لڑکپن کے زمانے کے مقابلے میں، آج کے امریکہ میں نرڈ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے — اور یہ ایک اچھی بات ہے!”