Juan Guiado smiling (© Federico Parra/AFP/Getty Images)
9 اپریل کو وینیز ویلا کے عبوری صدر خوان گوائیڈو کراکس میں قومی اسمبلی کی عمارت میں جا رہے ہیں۔ (© Federico Parra/AFP/Getty Images)

براعظمہائے امریکہ کی تنظیم کی مستقل کونسل نے قانونی طور پر نامزد کردہ گستاوو تارے کی وینیز ویلا کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے تقرری کی ایک قرار داد کو ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔ یہ تقرری اس وقت تک موثر رہے گی جب تک وینیز ویلا میں نئے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوجاتے اور جمہوری طور پر منتخب کردہ حکومت نہیں بن جاتی۔

او اے ایس کی مستقل کونسل میں تارے، وینیز ویلا کے عبوری صدر خوان گوائیڈو کے سفیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں گے۔

کولمبیا نے ارجنٹینا، برازیل، کینیڈا، چلی، پیراگوئے، پیرو اور امریکہ کی حمایت سے تارے کی تقرری کی قرار داد پیش کی۔

او اے ایس کی 9 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ نے نکولس مادورو کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ کر دیا ہے۔ مادورو کے کاسہ لیسوں نے انسانی حقوق اور جمہوریت کی جانب پرامن منتقلی کو دبانا جاری رکھا ہوا ہے۔ مادورو حکومت کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے نتیجے میں ملک میں خوراک اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور وینیز ویلا کے 34 لاکھ شہری بے گھر ہو کر خطے کے ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

برازیل، کولمبیا اور کیوراکو میں وینیز ویلا کے شہریوں کی مدد کے لیے امریکہ نے انتہائی ضروری امدادی سامان پہلے سے پہنچا رکھا ہے۔ امریکہ سمیت 50 ممالک نے گوائیڈو کو ملک کا سربراہ تسلیم کر لیا ہے۔