ايرانی عوام مصائب کا شکار، جبکہ حکومت دہشت گردی کی مالی اعانت کر رہی ہے

ايرانی حکومت بدستور بيرونی ممالک ميں دہشت گردی کی کاروائيوں کے ضمن ميں مالی مدد فراہم کر رہی ہے جبکہ ايرانی عوام ملک کے اندر روٹی، دہی اور ديگر ضروريات زندگی کی اشياء کے حصول کے ليے تگ ود کر رہی ہے۔

گزشتہ برس ايرانی حکومت نے سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب – قدس فورسز (آئ آر جی سی – کيو ايف) پر 4۔6 بلين ڈالرز خرچ کيے، امريکی حکومت کی جانب سے اس تنظيم کو دہشت گرد قرار ديا گيا ہے جو حزب اللہ، حماس اور ديگر غير ملکی دہشت گرد گروہوں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ يورپ پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔

متحرک تصوير جس ميں ايک جانب تو عام شہری خشک نل کو تاک رہے ہيں جبکہ دوسری جانب دہشت گردوں کے نل سے دولت کی آبشار جاری ہے۔ (D.Thompson/State Dept.)
(D.Thompson/State Dept.)

مارچ 2018 اور مارچ 2019 کے درميانی عرصے ميں ايران کی معيشت 5 فيصد سکڑ گئ اور اسی دوران مہنگائ ٪23 سے بڑھ کر ٪35 فيصد تک پہنچ گئ جس کی بدولت عام ايرانی شہريوں کے ليے گزر اوقات مزيد مشکل ہو گئ۔ مثال کے طور پر اپريل کے مہينے ميں گزشہ برس کے مقابلے ميں سبزيوں کی قيمت ميں ٪155 فيصد اضافہ ہوا اور شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق گوشت کی قيمتوں ميں ٪117 فيصد اضافہ ہوا۔ ليکن اس کے باوجود ايران نے دہشت گردی کو برآمد کرنے کی روش کو ترک نہيں کيا۔

ايران کے ليے امريکی نمايندہ خصوصی برائن ہک نے اگست ميں اپنے بيان ميں کہا کہ “دنيا کی اکثر حکومتوں کے برعکس يہ حکومت تيل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو دہشت گردی کی اعانت کے ليے استعمال کرتی ہے، اور دہشت گرد تنظيموں کو مالی تعاون فراہم کرتی ہے اور اپنے ميزائل پروگرام کو فنڈ کرتی ہے۔”

امريکہ ے حال ہی ميں چار افراد کو نامزد کيا ہے جنھوں نے حماس کی تجورياں بھرنے ميں آئ آر جی سی – کيو ايف کی مدد کی تھی۔ اگست 29 کو پابنديوں کے اعلان کے موقع پر دہشت گردی اور معاشی اينٹيليجنس سے متعلق خزانے کے انڈر سيکرٹری سائيگل مينڈيلکر نے کہا کہ “ان سہولت کاروں نے لبنان ميں حزب اللہ کے ذريعے ايران کی قدس فورس کے لاکھوں ڈالرز حماس تک منتقل کيے جس کا مقصد غزہ کی پٹی سے ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کے ليے مدد فراہم کرنا تھا۔

حاليہ برسوں ميں کئ ممالک ميں آئ آر جی سی – کيو ايف کے دہشت گردی کے منصوبوں ميں خلل ڈالا گيا ہے جن ميں جرمنی، بوسنيا، بلغاريہ، بوسنيا، کينيا، بحرين اور ترکی شامل ہيں۔ اور ايرانی حکومت نے سال 2012 سے کم از کم 16 بلين ڈالرز اسد حکومت اور شام، عراق اور يمن ميں نائب عناصر کو فراہم کيے ہيں۔

ايرانی عوام کی سرکوبی پر زيادہ خرچ

سکڑتی ہوئ معيشت کے باوجود، ايرانی حکومت سرکوبی پر اخراجات ميں اضافہ کر رہی ہے۔ واشنگٹن کے ايک تھنک ٹينک فاؤنڈيشن فار دا ڈيفينس آف ڈيموکريسز (ايف ڈی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق سال 20-2019 کے بجٹ ڈرافٹ ميں ايران کی منسٹری آف اينٹيلی جنس کو ٪32 زائد وسائل فراہم کيے گۓ ہيں جو ايرانی عوام کی نگرانی اور سرکوبی پر مامور ہے۔

سال 2018 ميں ايرانی حکومت نے لاء انفورسمنٹ فورس کی فنڈنگ ميں بھی ٪84 کا خاطر خواہ اضافہ کيا جو لندن کے تھنک ٹينک انٹرنيشنل انسٹیچيوٹ فار اسٹريجک سٹڈيز (آئ آئ سی سی) کے مطابق ايرانی عوام کی نگرانی کا کام کرتی ہے۔ مقامی سطح پر سيکورٹی ميں اضافے کا فيصلہ ان احتجاجی مظاہروں کے بعد کيا گيا ہے جن ميں حکومت کی معاشی بدانتظاميوں اور آئ آر جی سی کی فنڈنگ کو ہدف تنقيد بنايا گيا۔

چٹانوگا ميں يونيورسٹی آف ٹينيسی ميں پوليٹيکل سائنس کے پروفيسر اور مشرق وسطی کے امور کے ماہر سائيد گولکر کے مطابق مشکل وقت ميں مقامی سيکورٹی فورسز ميں اضافہ جابر حکومتوں کا وطيرہ رہا ہے جو صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہيں۔

گولکر کے مطابق “ايرانی حکومت کے ليے عام لوگ کبھی بھی اہم نہيں رہے، نا تو وہ اب اہم ہيں اور نا ہی کبھی مستقبل ميں ہوں گے۔ فوج پر توجہ مرکوز رکھنا، يہ وہ پہلی پاليسی ہے جس پر آپ کو عمل درآمد کرنا ہوتا ہے کيونکہ يہ آپ کی ضرورت ہوتی ہے کہ (فوج) عام لوگوں کی سرکوبی کا کام کرے۔”