Sandra Cauffman (State Dept./D.A. Peterson)
سینڈرا کافمین۔ (State Dept./D.A. Peterson)

سینڈرا کافمین جب سات برس کی تھیں تو انہوں نے 1969 میں اپالو 11 کو چاند پر اترتے ہوئے دیکھنے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ چاند پر جانا چاہیں گی۔

گو کہ وہ چاند پر تو نہ جا سکیں مگر کافمین خلائی دوربین ہبل پر کام کرتے ہوئے اور مریخ سمیت بیرونی خلا کے مشن ڈیزائن کرنے میں مدد کرنے سمیت ناسا میں کم و بیش تین دہائیاں گزار  چکی ہیں۔

کوسٹا ریکا میں گزرے اپنے  بچپنے کے دوران اپنی والدہ کی ایک نصیحت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “آپ کو کبھی علم  نہیں ہوتا کہ مستقبل میں زندگی  آپ کے لیے کیا لے کر آئے گی۔”

آج کل وہ ناسا کے ارضی سائنس کے ڈویژن کی عبوری ڈائریکٹر ہیں۔ اپنی زندگی کے دوران انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض اوقات پیسے کی اتنی کمی ہوئی کہ اُن کے کنبے کو بے گھری کا سامنا کرنا پڑا۔ 13 سال کی عمر میں انہوں نے جز وقتی کام کرنا شروع کیا۔ امریکی خلائی ادارے میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافمین نے کہا، “مجھے یہاں نہیں ہونا تھا۔”

ٹوئٹرکی عبارت کا ترجمہ: – یہاں @NASA میں ہمارے ہاں ایک زبردست #خاتون_سائنسدان ہیں! سینڈرا کافمین، ارضی سائنس کی عبوری ڈائریکٹر سے ملیے جنہوں نے ایک غیرممکنہ خواب ذہن میں بسائے رکھا اور اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے سخت محنت کی۔

اپنی ماں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے کافمین نے یونیورسٹی آف کوسٹا ریکا میں الیکٹریکل انجنیئرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کے اپنی آنکھوں میں خواب سجائے، ہائی سکول کی گریجوایشن میں اپنی کلاس میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

مگر جب وہ یونیورسٹی میں پہنچیں تو ایک کونسلر (تعلیمی مشیر) نے کافمین کو بتایا کہ الیکٹریکل انجنیئرنگ کے شعبے میں لڑکیوں کو داخلے نہیں دیے جا رہے۔ اس کی بجائے کونسلر نے صنعتی انجنیئرنگ جیسے “نسوانی” شعبے میں داخلہ لینے کی طرف اُن کا رخ موڑا۔

کافمین نے صنعتی انجنیئرنگ میں ساڑھے تین سال گزارے۔ مگر اس دوران اُنہیں یہ احساس رہا کہ “یہ شعبہ میرے لیے نہیں ہے۔” جب انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ آنے کا ویزہ ملا تو انہوں نے ورجینیا میں واقع جارج میسن یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجنیئرنگ میں گریجوایٹ اور ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کیں۔

1991ء میں انہیں ناسا میں کل وقتی ملازمت ملی اور دو سال بعد انہیں امریکی شہریت حاصل ہوگئی۔

اس وقت سے لے کر آج تک کافمین کی توجہ ایک اور مشن پر مرکوز چلی آ رہی ہے اور وہ مشن سائنس، ٹکنالوجی، ریاضی اور انجنیئرنگ کے شعبوں میں پیشے اختیار کرنے کی خاطر نوجوانوں اور بالخصوص عورتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ وہ امریکہ اور لاطینی امریکہ میں ہر درجے  کے طلبا و طالبات سے مخاطب ہو چکی ہیں۔ اس دوران انہیں بالخصوص پرائمری سکول کی بچیوں کے حوصلے بڑہانے کا بہت شوق ہوتا ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ‘ڈپلومیسی سنٹر’ میں سٹیم [یعنی سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ، ریاضی] کے شعبوں میں عورتوں کے موضوع پر ہونے والے ایک حالیہ مباحثے کے پینل پر موجود کافمین نے اپنے ساتھیوں سے کہا، “بنیادی بات یہ ہے کہ اِن لڑکیوں کی سوچوں میں یہ بیج  اس وقت بوئے جاتے ہیں جب وہ کم عمر ہوتی ہیں۔ اِن لڑکیوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ یا تو آپ جیسا بن سکتی ہیں یا کوئی ایسا شخص جو آپ جیسا ہے۔”

یہ مضمون فری لانس مصنف لینور ٹی ایڈکنز نے تحریر کیا۔