کرہ ارض کے 70 فیصد سے زائد رقبے پر پانی پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے چھوٹے بڑے سمندورں پر کن قوانین کا اطلاق ہوتا ہے؟

اسی وجہ سے “سمندروں کی آزادی” کے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول کا سوال اٹھتا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ تجارت سے لے کر سفر اور قومی سلامتی تک ہر چیز پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ہزاروں سالوں سے ہم معاش، تجارت، وسائل کی تلاش اور دریافت کے لیے سمندروں پر انحصار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی لیے سکیورٹی، تجارت اور وسائل سمیت اس شعبے سے وابستہ مختلف مفادات میں توازن پیدا کرنے کے نتیجے میں بین الاقوامی جہاز رانی کا ایک نظام وضع کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

کیا پانی کو ہرجگہ ایک جیسا نہیں سمجھا جاتا؟

نہیں، ایسا نہیں ہے۔ بین الاقوامی قوانین کا ایک جامع مجموعہ سمندر میں کی جانے والی تمام سرگرمیوں اور سمندر کے بارے میں کیے جانے والے تمام  دعووں کے بارے میں بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور یہ قوانین جغرافیائی محل و وقوع کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں۔

تاریخی طور پر مختلف ممالک نے اپنے ساحلوں کے پانیوں پر اور بحری سرحدوں پر حاکمیت اور مکمل اختیار سے متعلق ہر قسم کے دعوے کیے ہیں۔ باالفاظ دیگر، یہ ممالک سمندری پانیوں پر اپنی حاکمیت اور اختیار اسی طرح جتلا سکتے تھے جس طرح وہ اپنی زمینی حدود پر کرتے ہیں۔

World map (© Artokoloro Quint Lox Limited/Alamy)
1778 میں تیار کیے جانے والے دنیا کے بیلن نامی اس سمندری نقشے جیسے نقشے عمومی طور پرمستطیل ہموار سطح کی صورت کی نقشہ کشی کے تحت بنائے جاتے ہیں تاکہ جہاز رانوں اور ملاحوں کو لمبے سفر پر جانے کے لیے افقی سمت ماپنے کی ضرورت نہ پڑے۔ (© Artokoloro Quint Lox Limited/Alamy)

طویل بحث کے بعد یہ اصول طے پایا کہ ساحلی ممالک کا اپنے ساحل کے ساتھ ساتھ  بہت ہی محدود بحری رقبے پر اختیار ہوگا۔ اس رقبے کو “علاقائی سمندر” کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے آگے پانیوں کو “کھلا سمندر” کہا جاتا ہے جو ہر ایک کے لیے کھلا ہوتا ہے اور کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔

طویل عرصے تک “علاقائی سمندر” اتنی دور تک پھیلے ہوا کرتے تھے جتنی دور تک کوئی بھی ریاست اپنا اختیار قائم رکھ سکتی تھی۔ اس سمندری علاقے کا تعین توپ سے داغے جانے والے گولے کی پہنچ سے کیا جاتا تھا۔ یہ حد تقریباً 3 سمندری میل کے برابر ہوا کرتی تھی۔ اقوام متحدہ کے 1982 کے سمندری کنونشن کے قانون کے تحت حال ہی میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اس دائرہ اختیار کو 12 سمندری میل تک بڑھا دیا گیا ہے۔

تو پھر “بین الاقوامی پانیوں” سے کیا مراد ہے؟

Graphic showing definitions for distances extending from shore (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)
ہر ایک ریاست اپنے ساحل سے 12 سمندری میل کے اندر علاقائی پانیوں پر مکمل اختیار رکھتی ہے۔ لیکن یہ اپنی حدود کے 24 سمندری میل کے اندر ہونے والی کسی بھی قسم کی کسٹم، مالی، امیگریشن اور حفظان صحت کے قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دے سکتی ہے۔ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

دراصل بین الاقوامی قانون میں “بین الاقوامی پانیوں” کی کوئی جامع تعریف موجود نہیں۔ جغرافیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے،  تمام بحری پانی کسی نہ کسی حد تک بین الاقوامی پانی گردانے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی بھی ملک کے “علاقائی پانی” میں سے تمام ریاستوں کے گزرنے والے بحری جہازوں کو  “بے ضرر  راستے” کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات “بین الاقوامی پانی” کی اصطلاح  غیر رسمی اور اختصار کے طور پر ان پانیوں کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے جو کسی بھی ریاست کے “علاقائی پانیوں” کے باہر واقع ہوتے ہیں۔

 

ان [کھلے] پانیوں میں تمام ریاستیں “کھلے سمندر کی آزادیوں” اور سمندر کے (فضائی حدود  اور جہاز رانی جیسے) دیگر قانونی استعمال سے مستفید ہوتی ہیں۔ عام طور سے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان پانیوں میں خشکی سے گھرے ہوئے ممالک کے بحری جہازوں سمیت  کسی بھی ملک کے بحری جہاز کسی دوسری ملک کی مداخلت کے بغیر بلا روک ٹوک ان آزادیوں کو استعمال کرنے کے حق دار ہوتے ہیں۔ روایتی بین الاقوامی قانون کا یہ نظام سمندروں کے قانون کے کنونشن میں شامل ہے۔

سمندر کے  قانون کا کنونشن ایک اور اہم سمندری اور جہاز رانی کے علاقے کا تعین بھی کرتا ہے: ساحل سے 200 سمندری میل تک کوئی بھی ساحلی ملک مخففاً ای ای زیڈ کہلانے والے “خصوصی اقتصادی زون” پر اپنا حق جتا سکتا ہے۔ اس زون کے اندر اس ملک کو چند مخصوص مقاصد کے لیے حقوق اور  قانون نافذ کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ ان اختیارات میں ماہی گیری اور ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے حقوق شامل ہیں۔ سمندروں کے روایتی استعمال کے حوالے سے امریکہ سمجھتا ہے کہ سمندرکے قانون کا کنونشن روایتی بین الاقوامی قانون کا ایک حصہ ہے اور اس کی پاسداری تمام ممالک پر لازم ہے۔

جب دو ممالک کے خصوصی اقتصادی زون ایک دوسرے کی حدود کے اندر تک آتے ہوں تو ایسی صورتحال میں کیا ہوتا ہے؟ ایسی صورت میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کی سمندری حدود طے کرنا اور پھر ان پر متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔

بین الاقومی پانیوں میں کیا ہوتا ہے؟

بہت کچھ!

سامان لے کر لگ بھگ 90 ہزار تجارتی جہاز مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ تمام ممالک ان پانیوں میں پائپ لائنیں ڈال سکتے ہیں اور ان کے نیچے تاریں بچھا سکتے ہیں۔ کھلے پانیوں  اورخصوصی اقتصادی علاقوں میں ماہی گیری بھی  بہت اہمیت کی حامل  ہوتی ہے۔

Wind turbines in large body of water (© Simon Dawson/Bloomberg/Getty Images)
سمندر میں واقع ہوا سے بجلی پیدا کرنے والا “لنڈن ایرے وِنڈ فارم”۔ (© Simon Dawson/Bloomberg/Getty Images)

جنگی بحری جہازوں سمیت علاقائی پانیوں میں بھی تمام بحری جہازوں کو “بے ضرر راستوں” کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہ جہاز علاقائی پانیوں میں سے اس وقت تک گزر سکتے ہیں جب تک کہ وہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں جن سے ساحلی ریاست کے امن، نظم و نسق یا سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ بعض اوقات ملک بہت زیادہ علاقے پرایسے سمندری اختیارات کا دعوٰی کرکے غیرقانونی طور پر سمندروں تک رسائی یا ان کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسا ہونے کی صورت میں  امریکی محکمہ خارجہ اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرنے والی حکومت سے احتجاج کرتا ہے  اور اس ملک کے ساتھ  معاملات طے کر کے اس مسئلے کو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں  سمندر کے  قانون کے کنونشن کے تحت حل کرتا ہے۔ محکمہِ دفاع بھی سمندری پانیوں کی آزادی کے اصول کو لاگو کرنے کے لیے  “جہاز رانی کی آزادی کی کاروائی” کے تحت حرکت میں آ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اپنا ایک جنگی بحری جہاز ان پانیوں سے گزارے جہاں پر دوسرے ملک نے ناجائز طور پر اپنا اختیار لاگو کر کے دوسرے بحری جہازوں کو روکنے کی کوشش کی ہوتی ہے۔

امریکہ اپنی حدود سے بڑھکر سمندری حدود کے اختیار کا دعوٰی کرنے والی ساحلی ریاست سے احتجاج کرتا ہے اور اصولی بنیادوں پر جہازرانی کی آزادی کی کاروائی کرتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سمیت کسی بھی ساحلی ریاست میں تمیز نہیں کرتا۔

Ship on open water (U.S. Navy/Morgan K. Nall)
اس جہاز نے مارچ 2018 میں بحر ہند میں کی جانے والی جہاز رانی کی مشق میں حصہ لیا۔ (U.S. Navy/Morgan K. Nall)

سال 2017 میں امریکہ نے ایسے ہی ” جہاز رانی کی آزادی کی کاروائیاں” تقریباً دو درجن مختلف ممالک کے ساحلوں پر کیں۔ ان ممالک میں کمبوڈیا، چین، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، مالدیپ، فلپائن، سری لنکا، تائیوان اور ویت نام شامل ہیں۔

 

اچھا! تو بحری قزاقوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

 بین الاقوامی پانیوں میں بحری قزاق  لوگوں اور بین الاقوامی تجارت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ قزاقوں کے حملے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کی ترسیل روک سکتے ہیں، تجارتی سامان کی لاگت میں اضافے کا موجب بن سکتے ہیں اور بحری جہازوں کے عملے کی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

Military personnel approaching boat, helicopter in distance (Cassandra Thompson/U.S. Navy/Getty Images)
امریکی کوسٹ گارڈ کے جوان ایک جہاز پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جہاز خلیج عدن میں بحری قذاقوں کے خلاف کی جانے والی کثیر الاقوامی کاروائی کا حصہ ہے۔ (Cassandra Thompson/U.S. Navy/Getty Images)

جیسا کہ اقوام متحدہ کے سمندر کے قانون کے کنونشن میں بیان کیا گیا ہےکہ تمام ممالک پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بحری قزاقی کی روک تھام کے لیے تعاون کریں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک کھلے پانیوں میں موجود بحری قزاقوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کا یہ قدیم اصول “آفاقی دائرہ اختیار” کی  ایک نادر مثال ہے۔