میبل کاسیریز20 سال سے زائد عرصے میں پیرو میں حکومتی سطحوں پر ہونے والے بدعنوانیوں کے تمام واقعات پر رپورٹنگ کرچکی ہیں۔

پریس کی آزادی  کے ساتھ ان کی پُرعزم وابستگی کے نتیجے میں انہیں موت کی دھمکیاں ملتی رہیں اور انہوں نے متعدد مقدمات کا سامنا کیا۔ اسی کے باعث وہ اس سال  کے صحافت میں جرأت کے انعامات  میں سے ایک انعام کی حقدار ٹھہریں۔

ہر سال انٹر نیشنل ویمنزمیڈیا فاؤندیشن [آئی ڈبلیوایم ایف] ایسی صحافی خواتین کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازتی ہے،’’جنہوں نے اپنی غیرمعمولی شجاعت کی بدولت اعلٰی مقام پایا ہو۔‘‘ فاؤنڈیشن 1990 سے، 54 ممالک سے تعلق رکھنے والی 100 سے زیادہ صحافی خواتین کو یہ اعزاز دے چکی ہے۔

ایسی ہی دو اور نامہ نگاروں سے ملیے جنہیں خبریں رپورٹ  کرنے میں ان کی جرأتمندی اور ابلاغ عامہ میں عورتوں کی پیشرفت کوفروغ دینےکے لیے ان کی خدمات پر اس سال اعزازات دیے گئے ہیں۔

 امریکہ کی جنین ڈی جیوانی

مشرق وسطٰی کے لیے نیوز ویک کی ایڈیٹر

جنین ڈی جیوانی (IWMF)
جنین ڈی جیوانی ایک ریگستانی علاقے میں ہونے والی جنگ کے دوران ہیملٹ پہنتے ہوئے۔ (International Women’s Media Foundation)

جنین ڈی جیوانی نے تنا زعات اور تباہ کن انسانی مصائب کے بارے میں 25 سال پہلے ایک  فری لانس صحافی کی حیثیت سے غزہ اور مغربی کنارے کے علاقے میں رپورٹنگ  شروع کی تھی۔ انہوں نے عملی کام اور تحقیق کرنے کے لیے عراق، اردن، لبنان، مصر اور شام کے طول وعرض میں سفرکیے۔

ان کے کام کی بنیادی توجہ شام پر مرکوز چلی آ رہی ہے۔ وہ ایک انعام یافتہ کتاب ’ وہ صبح جب وہ ہمارے پیچھے آئے: شام سے مراسلے‘ کی مصنفہ ہیں۔

ستیلا پال، بھارت

فری لانس صحافی

ستیلا پال (IWMF)
ستیلا پال ایک آدمی کو انٹرویو کر رہی ہیں۔ (International Women’s Media Foundation)

ستیلا پال نے انٹر پریس سروس، تھامپسن رائیٹر، دی ہفنگٹن پوسٹ اور ورلڈ  پلس سمیت میڈیا کے متعدد اداروں کے لیےعورتوں  اوربچوں کی خریدو فروخت کے کاروبار، عورتوں پر جنسی تشدد اور دوسرے مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔

تحفظ ماحول کے مسائل، سماجی نا انصافیوں اورعورتوں کے حقوق کے بارے میں رپورٹنگ کے دوران، انہوں نے جان سے مار دینے کی دھمکیوں، ہراساں کرنے کے واقعات، جسمانی حملوں، حراست اور اپنے خاندان کے خلاف دھمکیوں کا سامنا کیا ہے۔ وہ خطرات سے دو چار کمیو نٹیوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو انٹر نیٹ، ویڈیو اور سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کی تربیت بھی دیتی ہیں۔

آئی ڈبلیو ایم ایف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، ایلیسا لیز مونوز کا کہنا ہے، ’’ان تین جرأتمند صحافیوں نے عالمی مسائل اور اکثر ان مسائل کے عورتوں پر پڑنے والے اثرات کو رپورٹ کرنے میں اپنی سلامتی کو درپیش ایسے خطرات اور ذاتی مشکلات کا سامنا کیا ہے جن پر بظاہر قابو نہیں پایا جاسکتا تھا۔‘‘