اپنے نقوش ثبت کرنے والے، شہرت یافتہ امریکی یہودی

مذہب یا ورثے کے حوالے سے امریکی یہودی، امریکہ کی آبادی میں محض آٹے میں نمک کے برابر ہیں — یعنی 65 لاکھ  یا آبادی کا 2 فیصد۔

لیکن انہوں نے سائنسی تجربہ گاہوں سے لے کر انصاف کے ایوانوں اور شو بزنس تک، امریکی معاشرے کے لیے اپنی تعداد سے کہیں زیادہ بڑھکر گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ یہود دشمنی سے جان بچا کر اپنے ملکوں سے فرار ہوئے اور درپیش مشکلات پر قابو پایا۔ وہ سب اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں اور سخت محنت کی بدولت کامیاب ہوئے۔

ذیل میں ماضی اور حال کے پانچ کامیاب ترین افراد کا، مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے:۔

اِروِنگ برلن

Irving Berlin with hands on piano keys (© AP Images)
اِروِنگ برلن پیانو بجارہے ہیں۔ (© AP Images)

اروِنگ برلن کا خاندان روس میں قتل و غارت گری سے جان بچا کر فرار ہونے کے بعد جب نیویارک منتقل ہوا تو اُس وقت مستقبل کے نغمہ نگار/موسیقار کی عمر 5 سال تھی۔ جب وہ 23 برس کے تھے تو انہوں نے ” الیگزینڈرز ریگ ٹائم بینڈ” کی دھن ترتیب دی، جو ان کی 20 ویں صدی کے بیشتر عرصے میں ترتیب دی جانے والی کئی ایک مقبول دھنوں میں سے پہلی دھن تھی۔ انہوں نے ” گاڈ بلیس امیریکا” سے امریکہ کی روح کو گرمایا، تہواروں کے کلاسیکی نغموں ("وائٹ کرسمس” اور "ایسٹر پریڈ”) کی موسیقی تخلیق کی، ("واٹ آئی وِل ڈو) کی رومانوی دھن بنائی، تفریح کی دنیا کے ترانے ("دئیر اِز نو بزنس لائیک شو بزنس”) کی موسیقی تیار کی  اور براڈ وے پر پیش کیے جانے والے شوز کے گانوں اور ہالی وُڈ کی فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ ان کا کہنا تھا، "آپ زندگی کا جو کچھ بنا پاتے ہیں، وہ 10 فیصد ہے اور آپ  اسے جس طرح لیتے ہیں، وہ 90 فیصد ہے۔”

ہیڈی لامار

Hedy Lamarr (© AP Images)
ہیڈی لامار،تصویر اترواتے ہوئے۔ (© AP Images)

ہالی وُڈ کے سنہرے دور کے ستاروں میں، خوبصورتی کے معاملے میں لامار کے حریف تو ہوسکتے ہیں، لیکن ذہانت کے معاملے میں ان کی کوئی ہم سری نہیں کرسکتا تھا۔ جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد یورپ سے فرار ہونے والی لامار، آسٹریا میں پیدا ہوئیں۔ وہ اُس پیٹنٹ شدہ آلے کی شریک موجدہ ہیں جو ریڈیو گائیڈڈ تارپیڈو کو جیم نہیں ہونے دیتا۔ سیسل بی ڈیمل کی مشہورِ زمانہ فلم، سیمسن اینڈ ڈلائیلا میں ڈلائیلا کا کردار ادا کرنے والی لامار نے، اپنے تئیں گھر پر ہی سب کچھ پڑھا اور سیکھا۔ جب اُن کی شادی آسٹریا کے گولا بارود بنانے والے ایک صنعت کار سے ہوئی ہوئی تھی تو اُس وقت انہیں ہر ایک چیز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی عادت تھی۔ اگرچہ امریکی بحریہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران، فریکوینسی سے بچنے والی لامار کی تکنیک کو استعمال نہیں کیا، تاہم جدید وائرلیس مواصلات کے پس منظر میں یہی پیٹنٹ  کارفرما ہے۔ لامار کا کہنا تھا، "فلموں کا ایک مخصوص دور میں ایک مخصوص مقام ہوتا ہے، مگر ٹیکنالوجی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے۔”

جوناس ساک

Jonas Salk viewing vials (© AP Images)
ڈاکٹر جوناس ساک، پٹسبرگ میں واقع اپنی لیب میں۔ (© AP Images)

ایک وقت پولیو کا شمار دنیا کی  سب سے زیادہ خوفناک متعدی بیماریوں میں ہوتا تھا اور اس کے باعث ہزاروں لوگ ہلاک اور صدر فرینکلن روزویلٹ کی طرح بے شمار لوگ مفلوج ہوجایا کرتے تھے۔ 1955 میں ڈاکٹر جوناس ساک نے 624,000  بچوں پر بے مثال تجربات کے بعد، پولیو کے خلاف کامیابی سے پہلی موثر ویکسین متعارف کرائی۔ دنیا بھر میں صحت عامہ کے عہدے داروں نے فوراً ہی بچوں کو ساک کے "مردہ وائرس” کی ویکسین کے ٹیکے لگانا شروع کردیئے۔ ساک نے، کم اثر والی زندہ وائرس کا ویکسین تیار کرنے والے، البرٹ سبین کی مانند کبھی بھی اپنی دریافت کا پیٹنٹ رجسٹر نہیں کروایا۔ اس کی بجائے انہوں نے اسے بنی نوع انسان کے لیے عطیہ کردیا۔ چند ممالک کے سوا، پولیو قریب قریب دنیا سے ختم ہو چکا ہے۔ متعدی بیماریوں کے ماہر کے الفاظ میں "بہتر طور پر کام سرانجام دیئے جانے والے کام کا صلہ، مزید کام کرنے کا موقع ہے۔”

تھیو ایپسٹین

Theo Epstein (© AP Images)
ٹیم کی ورزش کے دوران موبائل فون پر بات کرتے ہوئے، تھیو ایپسٹین۔ (© AP Images)

ییل کا تعلیم یافتہ یہ وکیل، بوسٹن ریڈ ساکس کی جانب سے 2002ء میں کھیل کی تاریخ میں سب سے کم عمر ــــ  یعنی 28 سال کی عمر میں جنرل مینجر مقرر کیے جانے سے قبل ہی، بیس بال کی صلاحیتوں کے ایک بہترین جج کی حیثیت سے شہرت حاصل کر چکا تھا۔ اس کے دو برس بعد ایپسٹین کی زیرِ قیادت، 86 برسوں میں پہلی بار ریڈ ساکس نے ورلڈ سیریز جیتی  اور یوں اُس بد شگونی کا خاتمہ ہوا جسے کھلاڑیوں کے کاروبار میں عظیم کھلاڑی بیب روتھ کو یانکیز کے ہاتھ بیچنے پر "بمبینو کی بد دعا” کہا جاتا ہے۔ ایپسٹین نے 2007ء میں دوبارہ ورلڈ سیریز جیتی۔ پھر ایک صدی سے چیمپئین شپ جیتنے کے لیے ترسنے والی ٹیم، ‘ کبز ‘ کا صدر بننے کے لیے وہ 2011ء میں شکاگو منتقل ہو گئے۔ کبز نے 2016ء کی  ورلڈ سیریز جیتی۔ جریدے فورچون  نے ایپسٹین کو” دنیا کا عظیم ترین لیڈر”  نامزد کیا ہے۔

ایلی ریزمان

Aly Raisman (© AP Images)
ایلی ریزمان ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے 2016 کے موسم گرما کے اولمپکس کے دوران، آل راؤنڈ فائنل میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ (© AP Images)

الیگزینڈر روز”ایلی” ریزمان کو 2 سال کی عمر میں جمناسٹک کی کلاس میں ڈالا گیا۔ چھوٹی عمر کی تربیت کے ساتھ ساتھ صلاحیت اور برسوں کی سخت  محنت نے انہیں ایک ایسی اولمپئین بنا دیا، جس نے چھ تمغے حاصل کیے۔  ان میں تین تمغے سونے کے، دو چاندی کے اور ایک  تمغہ کانسی کا تھا۔ وہ 2012 اور 2016 کی چیمپئین شپس کے دستوں کی کپتان بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے لندن میں "ہاوا نگیلا” عبرانی نغمے کی دھن پر، سونے کا تمغہ جیتنے والی ورزشی مشق کا مظاہرہ کیا اور اِس کے بعد میونخ میں 1972 کی اولمپک کھیلوں کے دوران قتل ہونے والے اسرائیلی ایتھلیٹوں کی یاد منائی۔ چھوٹے قد والی (1.57 میٹر لمبی) ریزمان کا  لڑکیوں سے کہنا ہے "ایک اچھا فرد بننا، اول مقام حاصل کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔”