ایرانی حکومت بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے خطرہ ہے: بین الاقوامی نگران گروپ

21 فروری کو ایک بین الاقوامی نگران گروپ نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف پابندیاں نافذ کرنے کے انکار کے بعد ایران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے بلیک لسٹ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

پیرس میں قائم مخففاً ایف اے ٹی ایف کہلانے والی”فنانشل ایکشن ٹاسک فورس” (مالیاتی کاروائیوں کی ٹاسک فورس) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف پابندیوں کو قانونی شکل دینے کے لیے ایران کی حکومت کو فروری کی ایک حتمی تاریخ دی تھی۔ مگر حکومت نے مناسب اقدامات اٹھانے سے انکار کر دیا جس کے بعد ایف اے ٹی ایف (ایران میں) سرمایہ کاری کے بارے میں خبردار کر رہی ہے۔

37 رکنی اس تنظیم نے 21 فروری کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ “ایف اے ٹی ایف ایران کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کی مالی اعانت اور اس کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی نظام کو لاحق خطرے کی وجہ سے فکرمند ہے۔”

ایف اے ٹی ایف نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ایرانی حکومت نے 2016ء میں اِن اصلاحات کے نفاذ کا وعدہ کیا مگر اب ایرانی حکومت نے بین الاقوامی معیاروں کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔ شمالی کوریا واحد دوسرا ملک ہے جسے ایف اے ٹی ایف “اونچے خطرے” کا حامل ملک سمجھتی ہے جس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ شمالی کوریا کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

امریکہ نے ایف اے ٹی ایف کی اقدام کی تعریف کی ہے۔ وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 21 فروری کو ایک بیان میں کہا، “ایرانی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بنیادی معیاروں پر پورا اترے اور اس بات سے دنیا کا ہر ایک ملک متفق ہے۔”

انہوں نے کہا، “ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے اندھا دھند رویے کو بہر صورت ترک کرے اور اگر وہ اپنے اکیلے پن کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک عام ملک کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔”

امریکہ ایرانی حکومت کو اُس آمدنی سے محروم رکھنے کے لیے اقتصادی پابندیوں کو استعمال میں لا رہا ہے ایران جسے امریکہ کی طرف سے نامزد کردہ دہشت گروہوں کو مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اِن دہشت گروہوں میں حزب اللہ اور حماس جیسے گروہ اور ایرانی حکومت کی اپنی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی سپاہ (آئی آر جی سی) شامل ہیں۔

حتی کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ منی لانڈرنگ کو روکنے میں حکومت کی ناکامی سے سرمایہ کاروں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے ضابطوں کی پابندی کرنے کا کہا ہے۔

تاہم دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بین الاقوامی معیاروں پر عمل درآمد کے لیے روحانی کی اپیل اس حقیقت کو جھٹلاتی ہے کہ وہ خود اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ گزشتہ برس ایران کے قومی ترقیاتی فنڈ سے آئی آر جی سی کی مدد کرنے کے لیے، روحانی نے اربوں کی رقم نکالی۔