انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق، ایرانی لیڈروں نے جنوری میں حکومت کی طرف سے ایک مسافر بردار طیارے کے مارگرانے پر احتجاج کرنے والے طلبا کو جیل میں بند کر دیا ہے جب کہ اس تباہی کے ذمہ دار جنرل کو میزائل داغنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی سپاہ (آئی آر جی سی) نے 8 جنوری کو ایک یوکرینی مسافر بردار طیارہ مار گرایا جس کے نتیجے میں مسافروں اور عملے سمیت 176 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ تباہی اور حکومت کی ذمہ داری قبول کرنے کے ابتدائی انکار، اُن احتجاجوں کا باعث بنے جنہوں نے آئی آر جی سی کی فضائی فورس کے کمانڈر کو 11 جنوری کو اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کیا۔

ایران کے لیڈروں نے احتساب کا وعدہ کر رکھا ہے مگر اس کے برعکس وہ مظاہرین کو سزائیں دے رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے 8 مئی کو بتایا کہ اپریل سے لے کر اب تک ایران کی انقلابی عدالتیں حکومت کے جہاز کے مار گرائے جانے کے خلاف پرامن طور پر احتجاج کرنے والے کم از کم 13 افراد کو جیل میں ڈال چکی ہیں۔

اس گروپ کا کہنا ہے، “حکام کو اُن تمام مقدمات کو بند کر دینا چاہیے جو پرامن طور پر جمع ہونے اور احتجاج کرنے کے حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔”

یکم مئی کو ایران کی انقلابی عدالت کی ایک شاخ نے تہران یونیورسٹی کے ایک طالب علم، مصطفے ہاشم زادہ کو “قومی سلامتی میں خلل ڈالنے کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہونے اور ملی بھگت” کے الزامات کے تحت پانچ سال قید کی سزا دی۔ ایچ آر ڈبلیو یہ معلومات مصطفے کے ایک ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے منظر عام پر لائی۔ ایچ آر ڈبلیو نے مزید بتایا کہ “عوامی نظم میں خلل انداز ہونے کے الزام میں عدالت نے مصطفے کو ایک برس قید اور 74 کوڑوں کی اضافی سزا بھی دی۔

اقوام متحدہ کوڑوں کو تشدد گردانتی ہے۔

لوگ تھیلوں میں بند قطاروں میں رکھی میتوں کے قریب سے ایک میت لے کے جا رہے ہیں۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)
8 جنوری کو شاہد شہر، ایران میں امدادی کارکن یوکرینی طیارے کے ملبے کے مقام پر ہلاک ہونے والے ایک فرد کی میت لے کر جاتے ہوئے قطاروں میں رکھی ہوئی دیگر میتوں کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)

تہران کی انقلابی عدالت نے ایک اور طالب علم، امیر محمد شریفی کو “حکومت کے خلاف پروپیگنڈے” کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا دی۔ ایچ آر ڈبلیو نے شریفی کے ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس جرم کی بنیاد سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر ہے۔

امول میں انقلابی عدالت نے 11 دیگر احتجاجی مظاہرین میں سے ہر ایک کو آٹھ آٹھ ماہ قید کی سزا دی۔ اُن پر طیارے کی تباہی میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں موم بتیاں روشن کرنے کی ایک دعائیہ تقریب میں شریک ہوکر اور اس کی تصاویر اتار کر “حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانے” کے الزامات ہیں۔

ایران کی حکومت نے تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر ابھی تک تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے۔ ایرانی لیڈروں نے تجزیے کے لیے طیارے کا بلیک باکس یوکرین بھیجنے کا اپنا وعدہ بھی ابھی تک پورا نہیں کیا۔

فوجی وردی میں ملبوس دیگر افراد کے ہمراہ فرش پر بیٹھا ہوا ایک فوجی افسر (© Office of the Iranian Supreme Leader/AP Images)
آئی آر جی سی کی فضائی فورس کے کمانڈر جنرل امیر علی حاجی زادہ 9 جنوری کی تہران میں لی گئی ایک تصویر میں۔ (© Office of the Iranian Supreme Leader/AP Images)

ایک طرف جہاں حکومت احتجاج کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے تو دوسری طرف حکومت اُس آدمی کو سزا دینے سے انکار کر رہی ہے جس نے ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔

خبر رساں ادارہ، روائٹر یہ خبر دے چکا ہے کہ آئی آر جی سی کی فضائی فورس کے کمانڈر، جنرل امیر علی حاجی زادہ غلطی سے طیارہ مار گرانے کی ذمہ داری 11 جنوری کو قبول کر چکے ہیں۔

مگر حاجی زادہ اپنے عہدے پر بدستور کام کر رہے ہیں۔ ان کی نگرانی میں 22 اپریل کو ایک فوجی سیارے کو خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس عمل سے وہ خفیہ پروگرام آشکار ہوا جو ایران کے میزائلوں کی تیاری کو فروغ دے سکتا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق خلا میں سیارہ بھیجنے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادار 2231 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اسی طرح اپریل میں ایک ایرانی قانون ساز نے بغیر کسی ثبوت کے اس سویلین طیارے کو مار گرائے جانے کو جائز قرار دینے کی یہ کہہ کر کوشش کی کہ “طیارہ کنٹرول ٹاور کے اختیارمیں نہیں رہا تھا اور ایسا لگا کہ یہ طیارہ امریکہ کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔”