ایرانی حکومت کے جوہری پروگراموں پرعائد پابندیوں کے خاتمے کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے

Countdown clock next to photo of Iranian leader Ali Khamenei (State Dept./Photo © AP Images)
(State Dept./Photo © AP Images)

8 مئی 2018 کو امریکہ ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہو گیا۔ شدید نقائص سے بھرا یہ معاہدہ امریکی قوم کو ایرانی حکومت کی جوہری خواہشات اور دیگر پریشان کن اقدامات سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا۔

18 اکتوبر 2020 کو معاہدے کی پانچویں سالگرہ کے دن دنیا کی دہشت گردی کی سرکردہ سرپرست اس ریاست پر عائد اہم پابندیوں کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے۔ ایرانی حکومت دہشت گرد آلہ کاروں سمیت کسی کو بھی ہتھیار بیچنے میں آزاد ہوگی اور روس اور چین جیسے ممالک ایرانی حکومت کو ٹینک، میزائل اور فضائی دفاع کے آلات بیچ سکیں گے۔ اس سے مشرق وسطٰی میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے اور خطہ اور دنیا مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ایک اور پابندی بھی جس کے تحت مخصوص افراد پر سفری قدغنیں لگائی گئی ہیں اسی دن ختم ہو رہی ہے۔ جن افراد پر یہ پابندیاں عائد ہیں ان میں انقلاب اسلامی کے پاسداران کی سپاہ کی القدس فورس کا سربراہ، قاسم سلیمانی اور وہ افراد شامل ہیں جو ایرانی حکومت کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کر رہے ہیں۔

امریکہ نے ایرانی معیشت کے بڑے بڑے شعبوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اِن اقدامات سے حکومت کے فوجی اخراجات اور حزب اللہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اِن پابندیوں کا اطلاق دواؤں، زرعی پیداوار اور ایرانی عوام کو انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد پر نہیں ہوتا۔

امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی اپنی مہم اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک ایران کے ساتھ ایک ایسا جامع سمجھوتہ نہیں ہو جاتا جس کے تحت ایران کے بدنیتی پر مبنی رویے کو ختم کیا جا سکے۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، "ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس وقت تک ایرانی حکومت پر دبادؤ بڑہاتے رہیں جب تک یہ حکومت عدم استحکام والا اپنا رویہ ترک نہ کر دے۔"

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

وزیر خارجہ مائیک پومپیو: وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایران پر ہتھیاروں کی پابندیوں اور قاسم سلیمانی کے سفر پر عائد پابندیوں کی مدت ختم ہونے کو ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس وقت تک ایرانی حکومت پر دباؤ بڑہاتے رہیں جب تک یہ حکومت عدم استحکام  والا اپنا رویہ ترک نہ کر دے۔