ایرانی صدر کی ووٹروں سے حکومت کے ‘نجات دہندہ’ بننے کی بھیک

برقعہ پہنے اور ہاتھ میں کاغذات پکڑے دفتر میں کھڑی ایک عورت۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)
یکم دسمبر 2019 کو ایک خاتون تہران میں وزارت داخلہ میں اپنے آپ کو رجسٹر کروانے آ رہی ہیں تاکہ وہ فروری 2020 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ (© Ebrahim Noroozi/AP Images)

ایرانی صدر حسن روحانی نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی حکومت شدید مشکلات میں پھنسی ہوئی ہے۔ لیکن وہ ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ایرانی عوام سے اس صورت حال کے حق میں ووٹ دینے کا کہہ رہے ہیں۔

تہران میں ایک حالیہ ریلی میں روحانی نے ایرانی عوام سے التجا کی کہ وہ کسی بھی “ممکنہ شکایت اور تنقید” سے صرف نظر کر تے ہوئے 21 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق روحانی نے ایک حالیہ ریلی میں کہا، “ہمیں بیلٹ بکسوں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ بیلٹ بکس ہمارے نجات دہندہ ہیں۔”

روحانی کے ترجمان علی ربیعی نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں کو ایک گرتی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیے ووٹ ڈالنے چاہئیں۔ ریڈیو فردا کے مطابق انہوں نے نے 3 فروری کو کہا، “ایران کے انہدام کو روکنے کا واحد راستہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلنا ہے۔ آئندہ انتخابات اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔”

لیکن حکومت نے انتخاب کو ایک مزاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت کی شوریٰ نگہبان حال ہی میں پارلیمانی نشستوں کے لیے انتخاب لڑنے والے 14,000 امیدواروں میں سے نصف سے زیادہ کو نا اہل قرار دے چکی ہے۔ رہبر اعلٰی علی خامنہ ای کی جانب سے مقرر کردہ شوریٰ نگہبان یہ یقینی بناتے ہوئے کہ زیادہ تر حکومتی ناقدین [انتخاب سے] باہر رہیں تمام اہل امیدواروں کی منظوری دیتی ہے۔

حتٰی کہ روحانی نے بھی امیدواروں کو نا اہل قرار دیئے جانے کی یہ کہتے ہوئے زور دار مخالفت کی ہے کہ “تمام پارٹیوں اور گروپوں” کو [انتخابات میں] شریک ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

تاہم سیاست دانوں کی ووٹروں کی زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے آنے کی حالیہ اپیل کوئی پہلی بار نہیں ہے جب ایرانی حکومت نے عام ایرانیوں کی آوازوں کو جبری طور پر خاموش کرانے کی کوشش کی ہو۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نومبر 2019 میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے جب حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے تو حکومت نے ان کا جواب انٹرنیٹ تک رسائی بند کرکے اور لگ بھگ 1500 مظاہرین کو ہلاک کر کے دیا۔

گزشتہ برس احتجاجی مظاہروں میں حکومت کی اُن بدعنوانیوں اور بدانتظامیوں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے ایرانی معیشت کا بھٹہ بٹھا کر رکھ دیا ہے۔ جنوری میں یہ مظاہرے اس وقت دوبارہ شروع ہو گئے جب حکومت نے شروع میں ایک مسافر بردار طیارے کو مار گرانے سے انکار کرنے کے بعد اسے مار گرانے کا اقرار کر لیا۔ اس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔

پارلیمانی انتخابات سے باہر کیے جانے والے ایک قانون ساز، محمود صادقی نے الزام لگایا ہے کہ انتخابات لڑنے کی منظوری دینے کے لیے درمیان والے افراد کے ذریعے، شوریٰ نگہبان نے تین لاکھ ڈالر سے زائد کی رشوت طلب کی۔ انسانی حقوق کے بے باک حامی، صادقی نے رشوت کی مبینہ سکیم میں شوریٰ کے ملوث ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بیلٹ بکس کے برابر کھڑے روحانی نے ہاتھ میں بیلٹ پیپر پکڑ رکھا ہے۔ (© Iranian Presidency Office/AP Images)
2017ء میں تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی صدارتی اور میونسپل انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔ (© Iranian Presidency Office/AP Images)