ایرانی نژاد امریکیوں کو امریکہ میں ترقی کرنے کی آزادی ہے

لاس اینجلیس کے نواح میں چھوٹا ایران یا تہران اور اینجلیس کو ملا کر "تہرانجلیس” کہلانے والا علاقہ ایسی جگہ ہے جہاں خریدار جدید ترین فارسی موسیقی کی سی ڈیز یا ریکارڈ خرید سکتے ہیں، ایرانی آرٹ گیلری کا چکر لگا سکتے ہیں یا عرقِ گلاب کے ذائقے والی آئس کریم خرید سکتے ہیں۔

علی کاشانی رفاعی نے 1970 کی دہائی میں "سیفران اینڈ روز” کے نام سے ایرانی طرز کی آئس کریم کی ایک دکان کھولی۔ انہوں نے آئس کریم بنانا ایران میں سیکھا تھا۔ آج اُن کا یہ کاروبار اُن کا خاندان چلا رہا ہے۔ جنوبی کیلی فورنیا میں پانچ لاکھ ایرانی نژاد امریکی آباد ہیں جن میں اُن کا خاندان بھی شامل ہے۔ امریکہ میں بسنے والی یہ سب سے بڑی ایرانی کمیونٹی ہے۔

آج اس کاروبار کے مالک کاشانی رفاعی کی تیسری نسل سے تعلق رکھنے والے اُن کے پوتے، فریڈ پاپین ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "سیفران اینڈ روز” اب ایک معروف مقام ہے اور ہر ہفتے دنیا بھر سے امریکہ آنے والے ایرانی — حتٰی کہ ایران سے آنے والے بھی  — آئس کریم کھانے ہماری دکان میں آتے ہیں۔”

A sign reading "Persian Square" on a pole (© Frederic J. Brown/AFP/Getty Images)
لاس اینجلیس شہر کی مقامی حکومت نے اس سائن بورڈ کو نصب کرکے ایرانی نژاد امریکی کمیونٹی کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ (© Frederic J. Brown/AFP/Getty Images)

ایک متنوع کمیونٹی

1979 کے ایرانی انقلاب کے عشروں کے دوران ہزاروں ایرانی امریکہ میں آ کر آباد ہوگئے۔ اِن میں سے اکثریت طلبا اور ایسے پیشہ ور افراد کی تھی جو انگریزی روانی سے بول سکتے تھے۔ جیسے جیسے انقلاب سے بھاگ کر ایرانی امریکہ آتے رہے ویسے ویسے اُن کی امریکہ میں تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔

ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایرانی نژاد امریکیوں کی تعداد پانچ سے دس لاکھ کے درمیان ہے اور اِن کی اکثریت لاس اینجلیس میں مقیم ہے۔ اِن میں سے آدھے لاس اینجلیس یا کیلی فورنیا کے دوسرے شہروں میں رہتے ہیں۔ اس کے بعد اِن کی بڑی تعداد نیویارک اور واشنگٹن اور اس کے نواحی علاقوں میں رہتی ہے۔

نسلی لحاظ سے ایرانی نژاد امریکی بھی متنوع ہیں اور اِن میں نہ صرف ایرانی بلکہ آذری، کرد، عرب، لُرھا، بلوچ اور دیگر نسلوں کے لوگ شامل ہیں۔

گو کہ اکثریت مسلمانوں کی ہے مگر بہائی، عیسائی اور زرتشتی بھی ایرانی نژاد امریکی کمیونٹی کا اہم حصہ ہیں اور انہیں اختیار کردہ اپنے نئے وطن میں اپنے اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

شیراز میں پیدا ہونے والے جمی جمشید دلشاد ایرانی یہودی ہیں۔ وہ ایرانی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد کے مسکن بیورلے ہِلز کے دو مرتبہ میئر منتخب ہو چکے ہیں۔ 2007ء میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے یروشلم پوسٹ کو بتایا، "ایران میں ایک نوجوان یہودی کے طور پر میں دوسرے درجے کا شہری تھا۔ اپنی مثال کے ذریعے مجھے امید ہے کہ میں اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے لیے مواقعوں کے دروازے کھولوں گا۔”

Women in Persian clothing dancing in a street parade (© Richard Levine/Alamy)
ایرانی نژاد امریکی خواتین نیویارک میں 2015 ء میں ایرانیوں کی سالانہ پریڈ میں ڈانس کر رہی ہیں۔ یہ پریڈ ایرانی نئے سال، نوروز کے موقع پر منعقد کی گئی۔ (© Richard Levine/Alamy)

ایرانی نژاد امریکیوں کی بہت سی ثقافتی، مذہبی اور پیشہ وارانہ تنظیموں نے آرٹس بالخصوص موسیقی اور ادب  کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ یہ ایرانی حکومت کی آرٹس کی آزادی کے خلاف کی جانے والی سخت زیادتیوں کا ایک ردعمل ہے۔ ایرانی فن کاروں کو فلم، ریڈیو اور ٹیلی وژن سٹیشنوں، میلوں ٹھیلوں اور موسیقی کے پروگراموں میں نمائندگی حاصل ہے اور اِن میں  کلاسیکل گٹار بجانے والی للی افشار اور ڈائریکٹر اور سکرین رائٹر رامین بحرینی جیسے نامور آرٹسٹ شامل ہیں۔

کامیاب ترین لوگ

ایرانی نژاد امریکیوں کا شمار امریکہ کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقات میں ہوتا ہے۔ امریکہ کے مردم شماری کے بیورو کے مطابق لگ بھگ 60 فیصد ایرانی نژاد امریکیوں نے انڈر گریجوایٹ  ڈگریاں لے رکھی ہیں۔

تارکین وطن کے گروہوں میں ایرانی نژاد امریکیوں کا شمار اُن گروہوں میں ہوتا ہے جن میں ذاتی کاروبار کرنے والے افراد کی شرح سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اِن ایرانی نژاد کاروباریوں میں بچوں کے کھلونے، گیمیں اور صارفین کے لیے الیکٹرونکس کا سامان  بنانے والی کمپنی "ایم جی اے انٹرٹینمنٹ” بھی شامل ہے جس کے بانی آئزک لاریان ہیں۔

سیفران اینڈ روز کے پاپن کا کہنا ہے کہ اُن کا کاروبار دن بدن پھیل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا، "امریکہ کے طول و عرض میں واقع ریستورانوں اور سپر مارکیٹوں میں ہم اپنی آئس کریم بھجواتے ہیں۔ ان دنوں ایک ماہرتعمیرات اورنج کاؤنٹی میں ہماری ایک نئی دکان کا نقشہ تیار کر رہا ہے۔”

پاپن کہتے ہیں، "دس سال قبل ہمارے 95 فیصد گاہک ایرانی تھے۔ آج ہمارا کاروبار پھیل گیا ہے اور اس میں ہر رنگ اور نسل کے لوگ شامل ہیں۔”